Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

Sammy's Blog
بوسٹن ماراتھان دوڑ--خُدا کی طرف سے ایک بخشش

ریان حال وُہ واحِد امریکن ہے جس نے آدھی ماراتھان دوڑ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں دوڑی اور اِس ہفتے ماراتھان دوڑ دوڑنے کیلئے وُہ تاریخ میں تیز ترین امریکن ٹھہرا۔2:04:58یہ بڑی حیران کُن بات ہے کہ26.2کلومیٹر دو ڑ 2گھنٹے5 منٹ سےبھی کم وقت میں دوڑی۔ ایک اندازے کے مطابق یوں کہا جا سکتاہے کہ اُس نے 26 کلومیٹر کا سفر 4 منٹ46 سیکنڈ فی میل کے حساب سے طےکیا۔ لیکن اِس سے بھی زیادہ حیران کُن بات یہ کہ جب وُہ دوڑتا ہے تو اُس کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔

میں نے اَپنی کتاب ”دی ریس “کیلئے ریان کا انٹرویو لیا۔یہ اُس وقت ہوا جب وُہ گُزرے سال بوسٹن ماراتھان دوڑ چُکا تھا۔ اُس نے مُجھ سے کہا‘‘جب میں باہر دوڑ دوڑتا ہوں تو دُعا کر رہا ہوتا ہوں اور اِس وجہ سے مشکل گھڑیاں میرے لیئے گویا خُدا کی حضوری بن جاتی ہیں۔ اِن مشکل لمحات میں ایسی راہیں ڈھونڈنا چاہتا ہوں کہ میرا اُس سے رابطہ ہو جائے کیونکہ جب کبھی میں اُس کی حضوری میں ہوتا ہوں تو ہمیشہ خوشی محسوس کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ خوشی پانے کیلئے یہ بہترین طریقہ ہے کہ اُس سے رابطہ قائم کیا جائے اور اُس کی حضوری میں ٹھہراجائے’’۔

ریان نے کہا کہ بروز پیر کی ماراتھان دوڑ یادگار دوڑ تھی کیونکہ میں نے یہ دوڑ اِتنی پُھرتی سے دوڑی کہ اِس سے پیشتر ایسی پُھرتی سے کوئی نہیں دوڑا۔ یہاں تک کہ وُہ اُس شخص کو دیکھ نہیں پارہاتھا جس نے یہ دوڑ جیتی کیونکہ وُہ بہت زیادہ آگے تھا۔ جیتنے والا کینیاکا تھا جس کا نام‘‘جیفری موتائی تھا۔ وُہ26.2میل کے حساب سے دوڑا اور اُس کے علاوہ کوئی اور اِنسان اِس سے زیادہ 2:03:02 تیزی سے کبھی نہیں دوڑا ۔اِس تواریخی دوڑ کے اِختتام پر موتائی نے کہا‘‘میں اِس کو خُدا کی طرف سے بطورِ بخشش دیکھتا ہوں۔ مزید کُچھ کہنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں’’۔

حال اور موتائی دُونوں ہی اَپنے دوڑنے کی صلاحیت کو خُدا کی طرف سے بطورِ بخشش سمجھتے ہیں۔ میں نے حال سے پوچھامیری کتاب کیلئے اِنٹر ویو کے طور پر کیوں دوڑتا ہے؟ جواب میں اُس نے کہا کہ ‘‘میں محسوس کرتا ہوں کہ خُدا نے مُجھے بتایا ہے کہ اُس نے مُجھے ایک نعمت دے رکھی ہے اور یہ نعمت اِس لیئے دی گئی ہے کہ دُوسروں کیلئے اِستعمال ہو۔ لہٰذا میں اِس مقصد کیلئے یہ دوڑ دوڑتا ہوں اور ایسا کرنے میں مُجھے بامقصد زِندگی کا یقین ہوتا اور خوشی و مسرت مِلتی ہے’’۔

حال اور موتائی میں کوئی مشترک بات تھی۔ یہ بات بروز پیر کا ریکارڈ توڑنے سے بڑھ کر ہے۔ دونوں ہی اَپنی اِس صلاحیت کو‘‘ خُدا کی طرف سے بخشش’’ سمجھتے ہیں۔جو حقیقی چیمپین ہوتے ہیں وُہ اَپنی زِندگی میں اِس بات کو جانتے ہوتے ہیں کہ اُن کی صلاحیتیں خُدا کی طرف سے بخشش کے طور پر ہیں اور وُہ اُن نعمتوں کا اِس طور پر اِستعمال کرتے ہیں کہ خُدا کے نام کو جلال مِلے۔حال اور موتائی نہ صرف دوڑ دوڑنے میں ہی چیمپین ہیں بلکہ زِندگی کے اِعتبار سے بھی چیمپین ہیں۔

Bookmark and Share
0 اظہارِ خیال
اپنے تااثرات یہاں لکھیں
نام:

*
آپ کا ای میل ایڈریس:

آپ کی ویب سائٹ:

پیغام:

ذیل میں دی گئی تصویر میں جوکوڈ لکھا ہے وہ یہاں لکھیں

بلاگ تلاش کریں
دیکھیں کون بات کر رہا ہے
ہمارے جس مضمون پر سب سے زیادہ تااثرات آئے وُہ ایک نظر میں
Tags
Tags,