<?xml version="1.0" encoding="UTF-8" ?><rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"><channel><title>سیمی کا بلاگ Urdu Sammy's Blog</title><description /><atom:link href="http://ur.sammytippit.org/blogs/rss/URSammyBlog" rel="self" type="application/rss+xml" /><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog</link><item><title>آپ کی دوڑ کون سی ہے؟</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110519</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110519</guid><description>&lt;div style=&quot;overflow: visible; line-height: 200%;&quot;&gt;
&lt;p&gt;جب میں نے اَپنی کتاب &amp;lsquo;&amp;lsquo;دی ریس&amp;rsquo;&amp;rsquo; کیلئے ریان حال کا انٹر ویو لیا تو  اُن سے پوچھا، کیا وجہ ہے کہ آپ نے کالج والی ایک میل کی دوڑ دوڑنا چھوڑ کر لمبی دوڑ دوڑنا شروع کر دی؟اُن کا جو جواب تھا وُہ مسیحی طرزِ زِندگی اور  دوڑ دوڑنے کے بارے میں بہت ہی اہم اُصول ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُنہوں نے کہا کہ جب میں بڑا ہو رہا تھا اَپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی کہ میں نے ایک میل دوڑنا ہے۔ آپ کا خواب تھا کہ عالمی طور پر آپ بہترین ایک میل کی دوڑ دوڑنے والے ہوں۔ کالج میں بہت حوصلہ شکنی ہوئی اور کئی ایسی دوڑیں دوڑا جو بڑی مُشکل تھیں،  جس سبب سے میں نے خُدا سے درخواست کی کہ مالک فرما کہ میرے دوڑنے کے بارے میں تُو کیا چاہتاہے؟اُنہوں نے خُدا سے درخواست کی کہ&amp;lsquo;&amp;lsquo; اے خُدا، ٹھیک ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ تُو کیا چاہتاہے کہ میں کیاکروں۔میں بس وُہی کرنا چاہتا ہوں جس کیلئے تُو نے مجھے خلق کیا ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;۔یہ اِس دُعا کے بعد کی بات ہے کہ ریان نے لمبی دوڑ دوڑنے کا تجربہ کرنا شروع کر دیا جواُن کیلئے زیادہ فطرتی دوڑ تھی۔ بعد میں اُنہوں نے سوچا&amp;lsquo;&amp;lsquo;کاش کہ میں اِتنا دانا ہو جاتا کہ اُتنی تیز دوڑ دوڑ سکتا&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ ریان نہ صرف تیز ہی دوڑ دوڑنے لگے بلکہ وُہ پہلے امریکی ہوئے جنہوں نے ایک گھنٹے سے بھی کم وَقت میں آدھی دوڑ دوڑی اور حال ہی میں اُنہوں نے تمام امریکیوں سے زیادہ تیزاور لمبی دوڑ دوڑی۔جب ریان کو اَپنی دوڑ کے بارے معلوم ہوا تو وُہ عالمی ریکارڈ کی کتب کی وَرق گردانی کرنا شروع  ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خُدا نے ہم میں سے ہر ایک کو دوڑنے کیلئے ایک دوڑ بخشی ہے۔ ہم اکثر  کوئی نہ کوئی کام  کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اِس سے دُوسرے لوگوں میں ہماری عزت ہوتی ہےیا ہم یوں سوچنے لگتے ہیں کہ میں اَپنی کاوشوں سے اُس عظیم مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔تا ہم یہ اُس وَقت ہوتا ہے جب ہم وُہ کرتے ہیں جو ریان حال نے کیا اور وُہ یہ کہ اَپنے ہاتھ اور دِل منصوبہ خُداوندی کیلئے کھولیں۔ تب ہم اَپنی پوری صلاحیت کیساتھ دوڑیں۔ یہ اُس وَقت ہوتا ہے جب ہم یہ کہیں کہ&amp;lsquo;&amp;lsquo; اَے خُدا مُجھے اَپنی راہیں دِکھا&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔یہ وُہ دوڑ ہے جو فطرتی لگے گی۔ حقیقت میں یہ مافوق الفطرت فطرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اَپنا دِل خُدا کیلئے کھولیں اور اُس سے درخواست کریں  کہ وُہ ایسی دوڑ آپ پر ظاہر کرے جو وُہ چاہتاہے کہ آپ اَپنی زِندگی میں دوڑیں۔تب آپ اہک چیمپئین کی طرح دوڑیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Thu, 19 May 2011 00:00:00 -0500</pubDate></item><item><title>بوسٹن ماراتھان دوڑ--خُدا کی طرف سے ایک بخشش</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110420</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110420</guid><description>&lt;div style=&quot;text-align: right; line-height: 200%;&quot;&gt;
&lt;p&gt;ریان حال وُہ واحِد امریکن ہے جس نے آدھی ماراتھان دوڑ  ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں دوڑی اور اِس ہفتے ماراتھان دوڑ دوڑنے کیلئے وُہ تاریخ میں تیز ترین امریکن ٹھہرا۔2:04:58یہ بڑی حیران کُن بات ہے کہ26.2کلومیٹر دو ڑ 2گھنٹے5 منٹ سےبھی کم وقت میں دوڑی۔ ایک اندازے کے مطابق یوں کہا جا سکتاہے کہ اُس نے 26 کلومیٹر کا سفر 4 منٹ46 سیکنڈ فی میل کے حساب سے  طےکیا۔ لیکن اِس سے بھی زیادہ حیران کُن بات یہ کہ  جب وُہ دوڑتا ہے تو اُس کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اَپنی کتاب &amp;rdquo;دی ریس &amp;ldquo;کیلئے ریان کا انٹرویو لیا۔یہ اُس وقت ہوا جب وُہ گُزرے سال بوسٹن ماراتھان دوڑ چُکا تھا۔ اُس نے مُجھ سے کہا&amp;lsquo;&amp;lsquo;جب میں باہر دوڑ دوڑتا ہوں  تو دُعا کر رہا ہوتا ہوں اور اِس وجہ سے مشکل گھڑیاں میرے لیئے گویا خُدا کی حضوری بن  جاتی ہیں۔ اِن مشکل لمحات میں ایسی راہیں ڈھونڈنا چاہتا ہوں کہ میرا اُس سے رابطہ ہو جائے کیونکہ جب کبھی میں اُس کی حضوری میں ہوتا ہوں  تو ہمیشہ خوشی محسوس کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ خوشی پانے کیلئے یہ بہترین طریقہ ہے کہ اُس سے رابطہ قائم کیا جائے اور اُس کی حضوری میں ٹھہراجائے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریان نے کہا کہ بروز پیر کی ماراتھان دوڑ یادگار دوڑ تھی کیونکہ  میں نے یہ دوڑ اِتنی پُھرتی سے دوڑی کہ اِس سے پیشتر ایسی پُھرتی سے کوئی نہیں دوڑا۔ یہاں تک کہ وُہ اُس شخص کو دیکھ نہیں پارہاتھا جس نے یہ دوڑ جیتی کیونکہ وُہ بہت زیادہ آگے تھا۔ جیتنے والا کینیاکا تھا جس کا نام&amp;lsquo;&amp;lsquo;جیفری موتائی تھا۔ وُہ26.2میل  کے حساب سے دوڑا اور اُس کے علاوہ کوئی اور اِنسان اِس سے زیادہ 2:03:02 تیزی سے کبھی نہیں دوڑا ۔اِس تواریخی دوڑ کے اِختتام پر موتائی نے کہا&amp;lsquo;&amp;lsquo;میں اِس کو خُدا کی طرف سے بطورِ بخشش دیکھتا ہوں۔ مزید کُچھ کہنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال اور موتائی دُونوں ہی اَپنے دوڑنے کی صلاحیت کو خُدا کی طرف سے بطورِ بخشش سمجھتے ہیں۔ میں نے حال سے پوچھامیری کتاب کیلئے اِنٹر ویو کے طور پر کیوں دوڑتا ہے؟ جواب میں اُس نے کہا کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;میں محسوس کرتا ہوں کہ خُدا نے مُجھے بتایا ہے کہ اُس نے مُجھے ایک نعمت دے رکھی ہے اور یہ نعمت اِس لیئے دی گئی ہے کہ دُوسروں کیلئے اِستعمال ہو۔ لہٰذا میں اِس مقصد کیلئے یہ دوڑ دوڑتا ہوں اور ایسا کرنے میں مُجھے بامقصد زِندگی کا یقین ہوتا اور خوشی و مسرت مِلتی ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال اور موتائی میں کوئی مشترک بات تھی۔ یہ بات بروز پیر کا ریکارڈ توڑنے سے بڑھ کر ہے۔ دونوں ہی اَپنی اِس صلاحیت کو&amp;lsquo;&amp;lsquo; خُدا کی طرف سے بخشش&amp;rsquo;&amp;rsquo; سمجھتے ہیں۔جو حقیقی چیمپین ہوتے ہیں وُہ اَپنی زِندگی میں اِس بات کو جانتے ہوتے ہیں کہ اُن کی صلاحیتیں خُدا کی طرف سے بخشش کے طور پر ہیں اور وُہ اُن نعمتوں کا اِس طور پر اِستعمال کرتے ہیں کہ خُدا کے نام کو جلال مِلے۔حال اور موتائی نہ صرف دوڑ دوڑنے میں  ہی چیمپین ہیں بلکہ زِندگی کے اِعتبار سے بھی چیمپین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Wed, 20 Apr 2011 00:00:00 -0500</pubDate></item><item><title>صبر کو کیوں کام کرنے دیں؟</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110412</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110412</guid><description>&lt;div style=&quot;line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;جب ڈاکٹر نے مجھے مشورہ دیا کہ اِس سے قبل  کہ آپ کے کینسر کا آپریشن کیا جائے آپ  کو اَپنا وزن کم کرنا اور صبر کرنا ہو گا۔مجھے معلوم ہے کہ اِن دونوں کا ایک دوسرے سے کیسا گہرا تعلق ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ آپ کی زِندگی میں  ایک انمول دریافت ہوتی ہے۔اور یہ تب ہوا جب میں نے جانا کہ دوڑنے کے جو اُصول ہیں اُن کا بائبل مقدس کی سچائیوں سے کیا تعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر ڈاکٹر&amp;lsquo;&amp;lsquo;صبر&amp;rsquo;&amp;rsquo; کا لفظ اِستعمال کرتا تھا۔اُس نے کہا کہ صحت یابی کے عمل میں یہ بہت ہی مددگار ہو گا۔وُہ اَپنی جگہ پر درست تھا۔میری صحت یابی ایسی ہوئی کہ جیسے خلافِ توقع بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس وقت ڈاکٹر نے مجھے صبر کے بارے میں کہا اُسی دوران خُدا نے مُجھ سے خاموشی میں دُعا اور بندگی کے دوران  عبرانیوں  ٢ا:١ سے کلام کیا جہاں لکھا ہے کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;صبر سے دوڑیں&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔بلاشک خُدا چاہتا تھا کہ میں اَپنی توجہ  صبر کی طرف دوں۔میں جو اصل یونانی دوڑ دوڑا کرتا تھا اُسی تربیت کے ذریعے اَپنے آپ میں اِس صفت کو پیدا کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوسب سے پہلا سوال میرے ذہن میں تھا وُہ یہ کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;صبر کیوں اِتنا ضروری ہے؟&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت وقت گُزر گیا اور دوڑ دوڑنے کے اختتام پر میرے دِل میں اِس سوال کا جواب دینے کیلئے چند خیالات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;١۔  ---      زِندگی کی اِس دوڑ میں یقینا دُکھ اور تکالیف کے لمحات آئیں گے۔ صرف وہی لوگ    	جو صبر کرتے ہیں وُہی دوڑ کو ختم کرنے کے اہل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;٢۔  ---     وُہ جو دوڑ کو مکمل کرتے ہیں اُنہیں  ایوارڈ مِلے گا۔وُہ جو زِندگی کی اِس دوڑ میں صبر سے کام لیتے ہیں وُہ  آخر پر جلال کا تاج حاصل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;٣۔  ---  جب ہم ایک بات دُکھوں اورمُشکلات میں صبر کر لیتے ہیں  تو پھر ہمیں ایک بہت ہی عجیب سے خوشی میسر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;٤۔  ---   جب ہم صبرکرتے ہیں تو دوسروں کے دُکھوں اور تکالیف کیلئے اُن کی حوصلہ               افزائی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;٥۔  ---     صبر نہایت ہی اہم خاصیت ہے جو ہمیں اِس لائق کرتی ہے کہ  چیمپئن کے طور پر دوڑ        دوڑیں۔ جب ہم مشکلات کو برداشت کرتے ہیں تو پھر ہی یہ حاصل کیا جا سکتاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;٦۔  ---    صبر زِندگی کو نہایت ہی خوش کُن بنا دیتا اور مستقبل کیلئے بحالی پید اکرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے یہ پکا یقین ہے کہ سیکھنے کیلئے اور بہت کُچھ ہے لیکن میں ابھی اِس عمل سے گُزر رہا ہوں۔میں ابھی بھی دوڑ رہا ہوں۔میں ابھی بھی ترقی کر رہا ہوں۔کیسی عظیم دریافت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Tue, 12 Apr 2011 00:00:00 -0500</pubDate></item><item><title>کسی خواب کی موت و جی اُٹھنا</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110222</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_110222</guid><description>&lt;div style=&quot;line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور میں ایک خواب بین ہوں۔میرے اکثر خواب محض خواب ہی رہے۔کبھی کبھی خواب اُوپر سے آتا ہے اَندر سے نہیں نِکلتا۔ ایسے خوابوں میں سے جب کوئی ایک خواب میرے دِل میں جڑ پکڑتا ہے تو اَن کا بہت ہی عظیم حصہ ہوتاہے کیونکہ جس  منبع سے وُہ آتی ہیں وُہ بڑا لامحدُود ہوتا ہے اور وُہ یسوع ہے۔ تاہم  مجھے دریافت ہو اہے کہ  ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعہ خواب پورے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کین لی برگ اور میں نے  اصل میں یونانی دوڑ دوڑنے کا خواب دیکھا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعی آسمان کی طرف سے آیا تھا۔جب کین کار کے حادثے میں مارے گئے تو اُن کے ساتھ خواب بھی دفن ہو گیا۔ میں  نے بھی دوڑنا بند کر دیا اور میرا وزن کافی بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریباً تیس سال بعد جب  دریافت ہواکہ مجھے کینسر ہے توخُدانے اُس خواب کو پھر سے زِندہ کیا۔جب ڈاکٹر آپ کو یہ کہیں کہ آپ کو کینسر ہے  تع پھرآپ اَپنی زِندگی کا  قریب سےخیال رکھیں۔میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا اورجانا کہ خُدا  جو بھی خواب میرے دِل میں ڈالتا ہے وُہ اُس کو پورا بھی کرتاہے۔اِس توقع کیساتھ کہ جو اصل یونانی دوڑ ہے وُہ دوڑوں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے وُہ خواب دیکھا اور اُس کی تربیت کرنا شروع ہو گیا۔یہ ناممکن سا لگ رہا تھا۔کینسر، آپریشن اور زخم وغیرہ سَب پکار اُٹھے۔&amp;lsquo;&amp;lsquo;ٹپٹ تُم ایسا نہیں کرسکتے۔ یہ ناممکن ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔لیکن میں نے بہت عرصہ پہلے یہ سیکھا  کہ جب خُدا کوئی خوب بخشتا ہے تو یہ ہمیشہ ممکن ہوتاہے۔اٹھارہ ماہ کے بعدکِرسٹا لی برگ  ملٹن( کین کی بڑی بیٹی) کو میں نے ایک گائوں سے اُس یونانی  دوڑ میں بھاگتے ہوئے دیکھا جواصل اولمپک اسٹیڈیم تھااور یوں کین اور میری خواب کی تعبیر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آپ کے خواب ناممکن لگیں تو صرف ایک ہی مناسب سوال ہے اور وُہ یہ کہ کیا جو خواب آیاا وُہ اُوپر سے تھا یا ہمارے اندر سے تھا۔اگر یہ خواب اُوپر سے آیا تو وُہ اِس کو پورا بھی کرے گا۔کیونکہ جو کام خُدا شروع کرتا ہے اُسے وُہ مکمل بھی کرتاہے۔اگر خُدا نے یسوع کو قبر میں سے جِلا یا تو آپ کے خواب کا جی اُٹھنا معمولی سی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Tue, 22 Feb 2011 00:00:00 -0600</pubDate></item><item><title>اَپنے کمزور گُھٹنوں کو مضبوط کریں</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_100414</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_100414</guid><description>&lt;div style=&quot;overflow: hidden; line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;گُزرے چند ہفتوں سے آپ نے میری دوڑ کے بارےمیں کُچھ زیادہ خبریں نہیں سُنی کیونکہ میری دوڑ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔ایسا نہیں کہ میں سُست ہو گیا یا دوڑنا چھوڑ دیا لیکن تقریباً دس ہفتے پیشتر میں نے اپنا گُھٹنا زخمی کر دیا اور اس نے مجھے ایسا بنا دیا کہ یوں لگتا ہے کہ شاید دوڑنا میرے لئے نا مُمکن ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم میں نے دوڑ کو سیکھنے کا عمل قرار دیااور یہ بالخصوص اُس وقت ہوا کہ جب میں بائبل مُقدَس سے عملی مسیحی زِندگی گُزارنے کے بارے میں سیکھ رہا تھا۔ شاید آپ حیران ہو رہے ہوں کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;بائبل مُقدس سے کوئی کمزور گُھٹنوں کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب عبرانیوں کے خط میں مسیحی زِندگی کو صبر سے دوڑی جانے والی دوڑ سے موازنہ کیا جاتا ہے تو یہ کھیلوں میں سے دوڑ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ اس میں لکھا ہے &amp;lsquo;&amp;lsquo;اپنے سُست ہاتھوں اور ڈھیلے گُھٹنوں کو مضبوط کرو&amp;lsquo;&amp;lsquo;(عبرانیوں 12:12 )۔ میرے حادثے سے پیشتر کئی ایک دوستوں نے مُجھ سے پوچھا&amp;lsquo;&amp;lsquo;سیمی! کیا اَس عُمر میں آپ کو گُھٹنوں کی تکلیف نہیں؟&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اُنہیں ہمیشہ یہی کہتا کہ&amp;lsquo;&amp;lsquo;میرے لیئے یہ کبھی بھی مسئلہ نہی ہوا۔پھر فروری کے آغازمیں اپنے کام کے اختتام کرنے میں ابھی پندرہ سیکنڈ باقی تھے کہ میں نے ایک اونچی آواز سُنی اور میرے گُھٹنے میں درد شروع ہوئی اور یہ دَرد مُجھے لے کر بیٹھ گئی۔ اُس وَقت سے میں شدید درد کی اِس کشمکش میں مُبتلا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر میں نے اپنا ایم آر آئی کروایا اور معلوم ہوا کہ میرے گُھٹنے کے اندر کئی ایک مسائل ہیں۔یہ تکلیف عرصہ سے رہی لیکن فروری کی اُس صبح کو جب میں کام کر رہاتھا تو اُنہیں معلوم ہوا۔ میں نے کھیلوں کے ماہر ڈاکٹر سے سین اینٹونیو میں رابطہ کیا جو اچھی دوا تجویز کرتا ہے اور ٹائم لے لیا۔ ایم آر آئی اورایکسرے کا معائنہ کرنے کے بعد اُس نے میرے گُھٹنے کی مضبوطی کیلئے ایک منصوبہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اُمَید کرتا ہوں کہ اگلے دو ماہ کے دوران میں پھر سے دوڑنا شروع کروں گا۔ اس تجربہ سے خُدا جو مُجھے سکھا رہا ہے وُہ یہ ہے کہ ابھی مُجھے معلوم بھی نہیں تھا تو اُس سے کہیں زیادہ پہلے سے میرے گُھٹنوں میں مسئلہ تھا۔ اپنے گُھٹنے کی مضبوطی کیلئے کُچھ کام تھے جو میں کر سکتا تھا لیکن میں نے کوئی خاص پرواہ نہیں کی۔ میں نے اس بات کو یاد ہی نہیں کیا کہ مُجھے کوئی مسئلہ درپیش ہے۔ اگرچہ دوڑ کے دوران کبھی کبھی میرا داہنا گُحٹنا مُڑ بھی جاتا ہے لیکن چونکہ اُس وقت مُجھے تکلیف نہیں ہوئی اِس لئے میں نے اِس کی پرواہ بھی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ہم اپنی مسیحی زِندگی میں بھی کرتے ہیں۔ خُداوند کیساتھ چلنے میں ایسے اشارے ہمیں اکثر مِل رہے ہوتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں۔ تاہم جب تک وُہ مکمل طور پرزخم یا ناسور نہ بن جائیں اُس وقت تک ہم اُنہیں بڑھنے ہی دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ہفتوں تک یہ کمزوری ہمیں ایک طرف کردیتی اور کبھی کبھی مہینوں اور سالوں تک ایسا ہی ہوتا ہے۔ میں نے جونہایت ہی اہم بات سیکھی ہےوُہ یہ ہے کہ اَپنی کمزوری کو یاد رکھا جائےتاکہ خُدا کو موقع دیا جائے کہ وُہ ہمیں مضبوطی عنایت فرمائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال ہماری کمزوریوں میں مضبوط کرنے کیلئے خُدا کاہمارے لیئے بہت ہی بڑا منصوبہ ہے۔ بائبل مُقدَس فرماتی ہے&amp;lsquo;&amp;lsquo;اُس کا زور ہماری کمزوریوں میں ہمیں مضبوط کرتا ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ جب ہم اپنی کمزوریوں کو جان کر اُنہیں خدا وند کے پاس لاتے ہیں تو اُس کا زور ہمیں قوت بخشتا ہے اور وُہ ہماری کمزوریوں کواَپنی قُدرت کے ذریعے زبردست گواہی میں بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ کے گُھٹنے بھی کمزور ہیں؟اُنہیں مضبوط کریں۔جو میں نے کیا وُہ آپ نہ کریں اور ایسے نشات سے غفلت نہ برتیں۔ اُن کمزوریوں کو طبیبِ اَعظم کے پاس لائیں اور اُسے چھونے، شفا دینے اور مضبوط کرنے دیں۔ آپ کے کمزور گُھٹنوں کیلئے اُس کا بہت بڑا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Wed, 14 Apr 2010 00:00:00 -0500</pubDate></item><item><title>پہاڑوں سے واپسی</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091115</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091115</guid><description>&lt;div style=&quot;overflow: hidden; line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; میرا سچائیوں کا بلاگ ہے اُُس سے میں اَِس ہفتے چُھٹی کر رہا ہوں ۔ ہم نے ابھی ابھی کُوو میں ایک ہفتے کی کانفرنس کا اِختتام کیا۔میں نے اِس کانفرنس کے شرکائ کی حوصلہ افزائی کیلئے چند اََلفاظ ذیل میں لَکھے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اِنہیں پڑھنا آپ کیلئے باعثِ برکت ہو گا۔ ذیل میں پیش کیا گیا چیلنج پڑھیئے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; بیداری کی کانفرنس جِس کا نام یعنی &amp;lsquo;&amp;lsquo;دِل کی پُکار&amp;rsquo;&amp;rsquo; تھااِختتام پزیر ہوئی اور اِس دوران خُدا نے ہم سے ملاقات کی۔ہمیں جِسمانی طور پر بھی اور رُوحانی معنیٰ کے اِعتبار سے بھی پہاڑ کی بلندی کا تجربہ ہوا۔ اَب ہم سب شمالی کیرولینا کے پہاڑ سے جا چُکے ہیں۔ ہم وادی اَب حقائق اور زِندگی کا تجربہ کر رہے ہیں جن میں دورانِ خِدمت مُشکلات، کلیسیائی ذِمہ داریاں اور مَنوں کے حساب سے کام ہمارا مُنتظر ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; خُدا نے اِن چند دِنوں کی کانفرنس میں ہماری زِندگی میں بہت کام کیا لیکن اَب جو سوال پیدا ہوتا ہے وُہ یہ ہے کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;اَب جب ہم عام معمولاتِ زِندگی میں واپس ٲ گئے ہیں تو اِس سے ہم اَپنی عام زِندگی اور خِدمت میں کیا تبدیلی لانا چاہیں گے؟ خُدا نے جن باتوں کے بارے میں ہمارے دِل سے کلام کیا اُس کا ہم کِس طرح سے اطلاق کریں گے؟شمالی کیرولینا کے پہاڑ پرہم نے جِس بیداری کا تجربہ کیا اُس کو ہم واپس اَپنی کلیسیائوں اور اَپنے لوگوں میں کیسے لے کر جائیں گےِ؟&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; کی کانفرنس میں خُدا نے میرے دِل سے کلام کیا اور اِس کے وسیلہ سے میرے دِل میں ایک بہت بڑے بیداری لایا۔اِس کانفرنس میں بُدھ شام کو میں نے جو بیان کیا وُہ خُدا کے اُس کام کا ٲغاز تھا۔ میرے دِل میں شاید سب سے بڑا کام جو ہوا وُہ یہ تھا کہ اِس کانفنس کے بعد میں کیا کروں۔میں نے محسوس کیا کہ وُہ یہ چاہتا ہے کہ میں ایک دِن میں تین گھنٹے لوں جو سات دِنوں تک جاری رہے اور یہ وَقت دُعا میں گُزارُوں۔ میں جانتا تھا کہ یہ میرے لئے اِتنا ٲسان نہیں ہو گا تو بھی میں نے مناسب سمجھا کہ اگر میں یہ وَقت خُدا کے ساتھ پوشیدگی میں گُزاروں تو یہ بہت فائدہ مند ثابت ہو گا تاکہ میں خُدا  سے اُن باتوں کے بارے میں بات کر سکوں جو اُس نے میرے دِل سے کی ہیں۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; خُدا نے جو کُچھ مُجھے کہا کہ کروںوُہ میں نے کیا۔ اِس فیصلے کی وَجہ سے یہ کانفرنس نہ صرف ایک اَچھی کانفرنس رہی بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر ثابت ہوئی۔ اِس سے میری خِدمت کیلئے قائم رہنے والا پھل پید اہوا اور نئی رَویا بھی مِلی۔ اِس سے میں اِس لائق ہوا کہ اور موثر طریقے سے دوڑ دوڑ سکوں اور خُدا کا کام اور زیادہ موثر اور گہرے طور پر کرنے والاہوں۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; میں سمجھتا ہوں کہ ہروُہ شخص جس نے اِس کانفرنس میں شِرکت کی اور محسوس کیا کہ  اُن کی زِندگی اور خِدمت کے مُختلف پہلووں کے حوالے سے خُدانے اُن کے دِل سے کلام کیا ہے، اُن کیلئے یہ نہایت مفید ہو گا کہ ٲئندہ سات دِنوں تک خُدا وند کیساتھ خاص وَقت گُزاریں تاکہ اَپنے دِل کے معاملات کی بابت خُدا سے مشورت کر سکیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ٲپ تین گھنٹے ہر روزدُعا میں گُزاریں لیکن جو کُچھ ٲپ نے پہاڑ پر سُنا ہے اُس کو سنجیدگی سے اَپنے دِل میں لیں اور وادی میں اُس کو حقیقت بنا ڈالیں۔ بیداری کے جڑ پکڑنے اور ترقی کرنے کا راز اِسی میں ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; دو ایسے بڑے اہم سوالات ہیں جِن پر ٲپ کو غور و فِکر کرنا ہو گا۔ پہلی بات یہ کہ کُوو میں خُدا نے ٲپ کے دِل سے کیا کلام کیا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ خُدا نے ٲپ سے جو کلام کیا ہے اُس کے پورا ہونے کیلئے ٲپ کو کِس طرح کی اَہم تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے؟ خُدا کے حضور وَقت گُزاریں اور اِن پہلووں پر کام کرنے کیلئے اُس سے حِکمت طلب کریں۔ دُعائیہ رُوح میں کلام پڑھیں۔ وُہ ٲ&amp;lrm;پ سے بات کرے گا اور واضح طور پر رہنمائی فرمائے گا۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; ٲسمان پر صعود فرمانے سے پیشتر یسوع نے اِس دھرتی پر جو ٲخری کام کیا وُہ پہاڑ پر شاگردوں سے ملاقات کرنا تھا۔ پھر اُس نے اُنہیں یہ خُکم دیا کہ سب قوموں میں جا کر شاگرد بنائو تو بھی ہم اَعمال کی کتاب میں دیکھتے ہیں کہ پہاڑ سے رُخصت ہونے کے بعد جو پہلا کام اُنہوں نے کیا وُہ یہ تھا کہ یسوع نے اُن سے جوکام کرنے کیلئے کہا تھا اُس کے کرنے کیلئے دُعا میں وقت گُزاریں۔ اُسی دُعائیہ وقت میں سے ایک ایسی عظیم بیداری ٲئی جس کی وجہ سے اِنسانی تاریخ میں بہت بڑی بیداری کی تحریک پیدا ہوئی۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; شاید پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ اُنہوں نے پہاڑ پر جو باتیں سیکھی تھیں اُن کی بابت وادی میں خُدا کا طالب ہونا سیکھا۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے مُلک میں کیا ہو گا؟ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Sun, 15 Nov 2009 00:00:00 -0600</pubDate></item><item><title>جیتنے کیلئے دوڑنا</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091102</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091102</guid><description>&lt;div style=&quot;overflow: hidden; line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; گُزرے ہفتے کے آخر پر مجھے  ٹیکساس کی ریاست میں بڑوں کی کھیلوں میں دوڑنے کا بڑازبردست تجربہ ہوا۔ موسم بہت سُہانا تھا، دھوپ تھی اور ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی اور 68فارن ہائیٹ ٹمپریچر تھا۔ میرے لئے مسئلہ یہ تھا کہ چند ہفتے پیشتر مجھے دَمہ کا ہلکا سا دھچکا لگا تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;دوڑنے سے قبل میں نے اَپنے ایک دوست سے کہا کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo; میں اَپنی طرف سے اَچھی طرح دوڑنے کی کوشش کروں گا لیکن دیکھا جائیگا کہ کیا ہوتا ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ خِدمت میں بھی یہی میرا روَیہ رہا۔ میرا کام یہ ہے کہ جتنا بہتر ہو سکتا ہے کروں باقی خُدا کے ہاتھ میں ہے۔ اگر میرا پیغام سُن کر بہت سے لوگ  اَپنا آپ خُدا وند کو دیتے ہیں تو بہت اَچھا ہے۔ جہاں تک مُمکن ہوا میں نے اَپنی بہترین کار کردگی دِکھائی اور نتائج کو خُداوند پر چھوڑ دیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; جب میں 400میٹر کی دوڑ دوڑنے کیلئے سامنے آیا تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔ میں اَپنے پڑوسیوں کیلئے نیا لیکن &amp;lsquo;&amp;lsquo;پرانا&amp;rsquo;&amp;rsquo; بچہ تھا۔ میری عُمر کے دیگر لوگ جو تقریبا 60-64 سال کی عُمر کے تھے وُہ گاہے بگاہے 400میٹر کی دوڑ دوڑا کرتے تھے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; میں نے بہت اَچھی طرح شِروع کیا۔جب میں نے پہلا مرحلہ مکمل کیا تو ماسوا ایک کے باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیا اورٲ س سے بھی میں آخری موڑ پر ٲگے نِکل گیا۔ لیکن مجھے یوں لگ رہا تھا کہ گویا میں گِرنے لگا ہوں۔ میرے بازو اور ٹانگیں درد کرنا شروع ہو گئے۔ میں سُن رہا تھا کہ میرے پیچھے ایک شخص مجھے کُچھ کہہ رہا تھا۔ وُہ مجھے پکڑنا اورآگے نِکلنا چاہتاتھا۔ افسوس تو ہے لیکن میں جانتا تھا کہ جیتنے کیلئے مُجھے اَپنا سب کُچھ دے دینا ہے۔ میں خود حیران تو تھا ہی مگر میں نے ہر کسی کو حیران کر دیا ۔ یوں میں نے سونے کا تمغہ جیت لیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; جو شخص تیسرے نمبر پرآیا اُس نے بعد میں آ کر کہا &amp;lsquo;&amp;lsquo;میں نے آپ کو اِن میں سے کِسی بھی دوڑ میں نہیں دیکھا&amp;rsquo;&amp;rsquo;میں نے جواب میں کہا کہ پوری ریاست کے پیمانے پر کھیلے جانے والی چیمپین شِپ میں یہ میری پہلی کاوش ہے۔ لیکن میں گُزرے مارچ میں سین انٹونیوSan Antonio میں  دوڑا تھا۔ اُس نے جواب میں کہا&amp;lsquo;&amp;lsquo;میں نے اُس دوڑ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا اور میں نے آپ کو وہاں نہیں دیکھا&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا&amp;lsquo;&amp;lsquo;اِس کی وجہ یہ ہے کہ میں آپ کے مقابلے میں بہت پیچھے تھا۔میں اُس دوڑ میں پانچویں نمبر پر تھا۔ میں ابھی 400میٹر کی دوڑ دوڑنے ہی والا تھا&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; اُس نے کہا کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تُم نے بہت ترقی کی ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; میں بڑا پُر اِطمینان ہو کر وہاں سے چلا جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میں نے سونے کا تمغہ جیتا تھا بلکہ اِس لئے کہ میں جانتا تھا کہ کئی ماہ سے ہر روز یہ مشق کر رہا تھا۔ تب میں اَپنے پورے زور سے یہ دوڑ دوڑا۔ جتنا میں گُزرے مارچ میں دوڑاتھا وُ ہ ویسا نہیں تھا جیسا میں اِس گُزرے ہفتے کے آخر پردوڑا ہوں۔ پھر میں زِندگی کے بارے میں سوچنا شروع ہو گیا۔ بہت سے لوگوں نے اَچھی دوڑیں دوڑِیں لیکن اُنہوں نے وہاں ہی چھوڑ دیا جہاں وُہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;گُزرے مارچ&amp;rsquo;&amp;rsquo; میں تھے۔ وُہ زِندگی میں کبھی چیمپین نہیں بنے کیونکہ وُہ اَپنے آسائش خانوں تک محدُود ہو کر رہ گئے۔ ایک خاص حد تک دوڑ دوڑناآسان ہے لیکن اُنہوں نے دُوسرے درجہ تک پہنچنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt; اگر آپ چیمپئین بننا چاہتے ہیں تو آپ وہاں ہی نہیں رہ سکتے جہاں خُدا کےساتھ چلنے میں آپ گُزرے سال تھے۔ ضرور ہے کہ اُس کی بادشاہی کیئے ٲپ کو تربیت مِلے اورآپ اُصولوں کی پیروی کریں۔ ایسا کرنے سے آپ دیکھیں گے کہ بہ نِسبت پچھلے سال کے اگلے سال آپ اور زیادہ یسوع کی مانِند ہوں گے ۔ آپ سونے کا تمغہ جیتنے کی راہ پر ہوں گے اور آپ چیمپئین کی طرح دوڑیں گے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Mon, 02 Nov 2009 00:00:00 -0600</pubDate></item><item><title>جسٹ ڈُو اِٹ</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091018</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091018</guid><description>&lt;div style=&quot;overflow: hidden; line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;۔&amp;lsquo;&amp;lsquo;جسٹ ڈُو اِٹ&amp;rsquo;&amp;rsquo; کھیلوں کےجوتے بنانے والی ایک معروف کمپنی کا یہ لوگو ہے لیکن کئی بار کھلاڑیوں کیلئے یہ دوڑ سے بڑھ کر بھی بات ہوتی ہے۔یہ اُن کی زِندگی کا ایک اہم ترین حصہ بن جاتاہے۔اِس ہفتے لائبیریا میں اِس حقیقت کا تجربہ ہوا۔ جب سے ہم اِس مُلک میں پہنچے اُس وقت سے ہر روز بارش ہو رہی ہے۔ ایسامُلک جو جنگ و جدل سے دوچار ہے اَس میں یوں دوڑنا بہت مُشکل ہو جاتاہے۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;شروع کرنے کیلئے وہاں ایسی جگہیں زیادہ تر نہیں جہاں دوڑا جا سکے۔ بالخصوص جب بارش ہو رہی ہو اور آپ کے پاس اِتنا وقت بھی نہ ہو تو نامُمکن ہو جاتاہے۔ اِس لئے جب بارش کُچھ دیر کیلئے تھم گئی تو میں واپس ہوٹل میں آگیا اور میں جانتا تھا کہ مجھے دوڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کیلئے واحد جگہ ہوٹل کے سامنے والی سڑک ہی تھی۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;لیکن میں نے سوچا کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;وہاں تو سڑک پر گڑھے اور کیچ  ہے اور کاریں سارا پانی مُجھ پر پھینکیں گی&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ میں نے سوچا کہ میں جانتا ہوں کہ مجھے کام کرنا ہے کیونکہ جب میں واپس گھرجائوں گا تو ٹیکساس کی ریاست  کے بڑے آدمیوں کی کھیلوں اور دوڑوں کے ہونے میں صرف 9دِن باقی رَہ گئے ہیں۔لہٰذا مُجھے کُچھ نہ کُچھ کرنا چاہئے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;اِس سوچ و بچار کے بعد کہ مُجھے کیا کرنا چاہئے یہ جُملہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;جسٹ ڈُو اِٹ&amp;rsquo;&amp;rsquo; میرےذہن میں دوڑنے لگا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اَپنے ہوٹل کا آسائش خانہ چھوڑوں اور دوڑ لگائوں۔ اگرچہ گڑھوں میں میں گیا، تیز رفتار موٹر سائیکل گندا پانی بھی اُچھالتے رہے تو بھی میں دوڑنے کیلئے نِکل گیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;ایسا کرنے کے بعد میں نے یسوع مسیح کے پیروکار کی حیثیت سے اَپنی زِندگی کی بابت سوچا۔ میں بھی اکثر ایسا کرتا ہوں کہ جب موسم ٹھیک ہو تو اُس کی خِدمت کرنا چاہتا ہوں۔ میں اُس کی خِدمت کرنا چاہتاہوں بشرطیکہ کوئی اَچھی جگہ ہو۔میں گندا نہیں ہونا چاہتا۔ میں خُدا کی بادشاہی میں صرف اَچھا اور آرام دِہ کام کرنا چاہتاہوں۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;تاہم اگر ہمیں چیمپئین کے طور پردوڑنا پڑے تو ضروری ہے کہ ہم اَپنے آسائش خانے چھوڑنے کیلئے رضامند ہوں اور وُہ کریں جو خُدا چاہتاہے کہ ہم کرنے والے ہوں۔ زِندگی کی دوڑ میں تربیت پانے کی راہ صرف یہی ہے۔ خواہ موسم کیسا ہی کیوں نہ ہو بس خُدا کی مرضی کریں۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Sun, 18 Oct 2009 00:00:00 -0500</pubDate></item><item><title>چیمپئین کو دیکھتے رہنا</title><link>http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091011</link><guid isPermaLink="true">http://ur.sammytippit.org/blog/URSammyBlog/BlogUR_091011</guid><description>&lt;div style=&quot;overflow: hidden; line-height: 200%; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;گُزرے ہفتے میں 400 اور پھر میٹر کی دوڑ دوڑا جو دُنیا کے بڑی عُمر کے لوگوں کی کھیلیں تھیں۔یہ کھیلیں ہنٹس مین سینٹ جارج میںمنعقد ہوئیں۔ مجھے بہت سے تجربات ہوئے اور میں مسلسل دوڑنے اور زِندگی کے بارے میں سیکھتا رہا۔ ایک بہت ہی بڑا سبق جو میں نے سیکھا وُہ میں نے اَپنے دوڑنے سے نہیں سیکھا بلکہ400میٹر کی دوڑ دوڑنے سے کُچھ ہی دیر پہلے سیکھاتھا۔65 تا69سال کی عُمر والوں کو بڑی دو ڑ دوڑنے والوں کے طور پر لائن میں کھڑا کیا گیا۔ اِن میں سے ایک ایسا شخص تھاجو امریکی تھا اور اُس نے حال ہی میں400 میٹر کی دوڑ دوڑنے میں ریکارڈ قائم کیا تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;میں نے بڑے جذبے کیساتھ اِنتظار کیا کہسال 65 کی عمر کے چیمپیئن کودوڑتے دیکھوں۔میں مایوس نہین تھا۔ وُہ بلاک سے اِس قدر جوش سے نِکل کر 400میٹر کی دوڑ دوڑا جو شاید میں نے اِس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اُس کی جسامت بھی اچھی تھی اور اُس کی سپیڈ باقی دوڑنے والوں سے اُسے آگے لے جا رہی تھی۔ جب میں نے اُسے دوڑتے دیکھا تو اُٹھ کھڑا ہوا کہ اُس نے اَپنا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;اُس دوڑ کے فوراً بعد میری باری ٲ گئی کہ اُن لوگوں کی دوڑ میں دوڑوں جن کی عُمر  60۔64سال تھی۔ میں نے سوچا کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;ایک دِن میں بھی اُس چیمپئین کی طرح دوڑوں گا&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ میرے دِ ل میں ایک خواب سا ٲنے لگا اورذہن میںایک معیار قائم ہو گیا۔ میں جانتا تھا کہ اُس چیمپئین کی دوڑ کی تصویر مجھے اپنے دِل اور ذہن میں رکھنی ہے ۔مُجھے اُس سپیڈ اور جسمات میں دوڑنے کیلئے روزانہ کُچھ کام کرنے کی ضرورت تھی۔ میں نے ایک چیمپئین دیکھا اور چاہتا تھا کہ اُس کی مانِند ہو جائوں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;بائبل مُقدَس میں آیا ہے کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;صبر کیساتھ اُس دوڑ کو دوڑو جو تُمہیں دَرپیش ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ اِس سے پھر ہمیں یہ نصیحیت مِلتی ہے کہ &amp;lsquo;&amp;lsquo;یسو ع کو تکتے رہیں جو ہمارے ایمان کا بانی اور کامل کرنے والا ہے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ اِس دُنیا میں وُہی ایک واحد شخصیت ہے جس نے زِندگی کی دوڑ ایسے دوڑی کہ کبھی کسی نے نہیں دوڑی اور وُہ کامل فضل اوریقینی قوَت کیساتھ تھی۔ یسوع کی مانند کبھی کسی نے زِندگی نہیں گُزاری۔ جب ہم اُس پر نگاہ کرتے ہیں تو پھر ہم بھی یوں ہی کہیں گے&amp;lsquo;&amp;lsquo;میں اِس طرح سے دوڑنا چاہتا ہوں۔میں چاہتاہوں کہ میری زِندگی بھی اُس کی زِندگی کی طرح ہو جائے&amp;rsquo;&amp;rsquo;۔ خواب ہماری دِل میں کسی حقیقت کو جنم دینا ہو گا۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;زِندگی کا حقیقی چیمپین وُہی ہے۔چیمپیئن کو دوڑتے ہوئے دیکھیں اور اَپنے دِل میں ٹھان لیں کہ آپ اُس کی مانِند بننا چاہتے ہیں۔ اُس کے خواب اَپنے خواب بنا لیں۔اُسی کی راہ پر چلیں۔ ایسے محبت کریں جیسے اُس نے کی اور ایسی زِندگی گُزاریں جیسے اُس نے گُزاری۔  عظمت تب ہی حاصل ہوتی ہے کہ جب ہم چیمپئین کو دیکھتے ہوئے اُس کے نمونے کو اَپنائیں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;span style=&quot;font-size: medium; font-family: Nafees Nastaleeq;&quot;&gt;اِس عظیم چیمپئین کی زِندگی کو دیکھیں تو آپ حیران رہ جائینگے۔ یسوع کو دیکھتے ہوئے دوڑیں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;</description><dc:creator /><pubDate>Sun, 11 Oct 2009 00:00:00 -0500</pubDate></item></channel></rss>
