| سیمی ٹپٹ منسٹری کی تاریخ |
ُدُنیا خدا کی کلیسیائی برادری ہے
از: جیری جینکِنز
امدادی کتاب :مسیح کے لئے ایلچی
اشاعت : موڈی
سیمی نے ایک ڈیکن کی بیٹی سے مِلنے کیلئے تاریخ طے کرنے میں غلطی کی۔ سیمی کے ہائی اسکول سے گریجویشن کرنے کے فوراً بعد ۱۹۶۵ ئکی بات ہے کہ ایک اتوار کی شام کو سیمی کی دوست کو سیمی کیساتھ باہر جانے میں اُس کے باپ کی طرف سے اُس وقت تک اجازت نہیں ملی جب تک کہ وہ دونوں پہلے چرچ نہ جائیں۔سیمی اپنے دوستوں کے تمسخر اُڑانے اور اُن کے ہنسنے کے باوجود چرچ گئے جہاں پر سیمی نے خوشخبری سُنی اور مسیح پر ایمان لائے۔ سیمی نے جلد ہی محسوس کیا کہ خدا مجھے منادی کرنے کیلئے بلا رہا ہے۔
:کالج چھوڑنا
ریاست ہائے امریکہ کے شمالی علاقہ جات میںاُ ن کی پہچان پہلے سے ہی ایک اچھے پیغام رساں کے طور پر ہونے لگی۔ابھی سیمی کو صرف عِلم ہی کی ضرورت تھی۔اُنہیں اپنے پاسبان کی شاگردیت اختیار کرنی پڑی اور جلد ہی سیمی نے اپنے آبائی عِلاقے بیٹن روگ لوزیانہ میں نرسِنگ ہوم، قید خانوں اور نائیٹ کلبوں میں منادی کرنا شِروع کر دی۔
اگرچہ کالج میں سیمی پربے آرامی کی سی کیفیت طاری تھی تو بھی وہ ہفتے کے آخر پر مختلِف کلیسیاﺅں میں جاتے اور دورانِ ہفتہ بڑے بوجھ کیساتھ گلیوں میں جا کر منادی کیا کرتے تھے۔ ۱۹۶۸ئ میں آپ دبورہ این جِن کا خاندانی نام ٹیکس ہے اُن کیساتھ ازدواجی رِشتے میں منسلک ہوئے اور فائنل ایئر میں کالج کو خیر باد کہہ دیا کیونکہ گناہوں میں مرتی ہوئی دُنیا کو دیکھ کر آپ کلاس میں نہ بیٹھ پائے۔یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا۔سیمی کے مرحوم والد صاحب کی یہ آخری خواہش تھی کہ وہ کالج چھوڑ دیں۔اُن کے دوستوں نے اُنہیں کہا کہ سیمی کبھی بھی بڑی کلیسیاﺅں میں نہیں بول پائے گا اور خدمت گزاری کے فیلڈ میں کسی ڈِگری کے بغیرنہ ہی اُ س کی کوئی شناسائی ہو گی۔
ان کے اس ازدواجی سفر میں پہلے ہی دِن سیمی اور ٹیکس نے دیکھا کہ اُن کا جو بھی سامان تھا وہ چور لے اُڑے ہیں۔ابھی وہ صرف ایمان پر ہی زندگی گزار رہے تھے۔سیمی مسلسل گواہی دیتے رہے اور ماسوا اُن کی کمر پر بیگ میں کپڑوں کے اور کُچھ نہ تھا۔جب سیمی کے ایک دوست نے اُنہیں ایک بشارتی کانفرنس میں بولنے کیلئے بلایا تو سیمی کے بال بڑھے ہوئے تھے اور وہی سوٹ تھا جو اُنہوں نے پہنا ہوا تھا۔آپ نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کو بتاﺅں کہ مجھے بچوں اور غرباءمیں منادی کرنے کا ازحد بوجھ ہے اور یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کلیسیائیں اس خِدمت کو کیسے کریں۔اُس لمحے سے درجنوں کے حساب سے دعوتیں آنے لگیں کہ ہماری کلیساءمیں آ کر منادی کریں۔
:بے آرامی میں مدد
سیمی اور ٹیکس اپنی بلاہٹ کے مطابق فرمانبردار رہے تو پھر سیمی نے ایک ایسی خدمت کا بیڑا اُٹھایا جو نمایاں اور یادگار کے طور پرہے۔سیمی نے کہا کہ"" میں جانتا ہوں کہ اگر یہ بے آرامی کی سی کیفیت خدا نے میرے دِل میں ڈالی ہے تو پھر وہ ٹیکس اور میرا خیال بھی رکھے گا۔اب میری ذات میرے لئے اِتنی زیادہ اہمیت کی حامل نہ تھیں جیسا کہ کِسی وقت تھیں۔میں نے کہا کہ کسی ایک آدمی سے بھی کسی بھی جگہ پر مسیح سے متعلق بات کرنے میں اِتنی ہی خوشی محسوس کروں گا جِتنی کہ دُنیا میں کسی بھی بڑے مشہور چرچ میں بولنے سے محسو س ہوتی ہے""۔
پورے ملک میں نوجوانوں کے کروسیڈز سے شروع کر کے لوزیانہ سے واشنگٹن ڈی سی تک (بائبل مقدس سے بھری ہوئی ہاتھ گاڑی دھکیلنے کے ذریعے) اور 1972 کی طرف صلیب اُٹھائے ہوئے ٹِپٹ نے اپنے آپ کو خدمت کیلئے پیش کیا۔اگرچہ سیمی نے اپنے آپ کی یوں شناخت تو نہیں کروائی تاہم اُنہیں یسوع کے ابتدائی شاگرد کی حیثت سے پہچانا جانے لگا۔ایمان کے مطابق زندگی گزارنا، مسیح کی منادی کرنا اور بازاروں میں گواہی دینا آپ کی اس نئی خدمت کی پہچان بن گیا۔سیمی نے اس خِدمت کو خدا کی عملی محبت کا نام دیا۔
سیمی ٹِپٹ کی خدمت کا ایک اور خاصہ یہ رہا کہ اُنہوں نے شروع ہی سے یہ ٹھان لیا کہ میں کبھی کِسی سے پیسہ نہیں مانگوں گا۔اُنہوں نے اپنے دوستوں اورچند دُعا گو ساتھیوں کو اپنا دُعائیہ خبر نامہ بھیجا لیکن پیسہ کی درخواست کبھی نہیں کی۔سیمی سمجھتے تھے کہ پیسہ اُن برکات کا سایہ ہے جومیرے منصوبوں پر خدا کی طرف سے برستی رہتی ہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر پیسہ آتا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم آگے قدم بڑھائیں اور اگر پیسہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے خدا نہیں چاہتا کہ ہم آگے بڑھیں۔
اپنی خِدمت کے ابتدائی ایّام میں بھی ٹِپٹ نے مشرقی یورپ کیلئے بڑی واضح بلاہٹ محسوس کی۔وہ اس بات کو نہیں سمجھ پائے اور اُنہیں کوئی پتہ بھی نہیں تھاکہ وہ وہاں پر کیسے جائیں گے اور جانے کے بعد وہ وہاں پر کیا کریں گے لیکن سیمی اس خدمت اور بلاہٹ سے متعلق کئی سالوں تک سوچتے رہے۔
:روزہ کے ذریعے گواہی دینا
۔1970 کے اوائِل میں شِکاگو کے بازاروں میں اپنی خِدمت کے قیام کے دوران ٹِپٹ اور اُن کے ایک اور مددگار کونا ئٹ کلب کے سامنے گواہی دیتے ہوئے گرِفتار کیا گیا کہ یہ اُن لوگوں کے کاروبار کو خراب کر رہے ہیں۔سیمی نے رہنمائی پائی کہ اپنی پیشی سے پیشتر وہ مشہور میں ۲۵, ایام پر مشتمل روزہ رکھیں اور دُعا کریں۔سیمی کا کیس ایک مسیحی وکیل نے مفت لڑا تھا۔اس کیس نے ساری دُنیا کی توجہ گرِفت کی اور یوں سیمی کے خلاف جو دعوے تھے وہ خارج کر دئے گئے لیکن اس دوران بہت سے لوگ مسیحی ہو گئے۔۲۹، ستمبر ۱۹۷۱ کو جس دِن آپ کی پیشی تھی اُسی روز سیمی اور ٹیکس سے پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ڈیوڈ رکھا گیا۔
سیمی کی زندگی کے ہلا دینے والے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ تقریباً ۲۰، برس بعد ہوا جب"" لوزیانہ سیکنڈکانفرنس منیلا فلِپائین"" میں ہوئی اور اس دوران ایک خاتون آپ کے پاس آ ئی اور کہا کہ میں شِکاگو میں آپ کی خِدمت کی وسیلے سے مسیح کے پاس آئی۔ وہ نائِٹ کلب میں ناچنے والی خاتون تھی۔اس نے سیمی کا ایک پمفلٹ پڑا اور یوں وہ اُنہیں سُننے کیلئے آئی اور وہاں وہ مسیح پر ایمان لائی ۔اس وقت وہ اور اُس کا شوہر دونوں مشنری کا کام کرتے تھے۔
جب ۱۹۷۱ ءمیں ٹپٹ کا پہلا دورہ برائے یورپ کامیاب نِکلا تو پھر وہ لوگ جو آپ کے وسیلے سے مسیح کے پاس آئے اُن کے لئے آپ کے دِل میں محبّت موجزن ہوئی۔جب سیمی نے سُنا کہ اشتراکی نوجوانوں کا ایک بہت بڑاعالمی میلہ ایسٹ برلن میں ۱۹۷۳ئ میں منعقد ہونے کو ہے توان ایک لاکھ اشتراکی نوجوانوں کیلئے بوجھ آپ کو وہاںلے گیا۔سیمی اور آپ کے دو دوستوں نے وہاں پر پیغامات پیش کیئے، گواہی دی اور پمفلٹ تقسیم کیئے جس کے نتیجے میں دوسو لوگوں نے مسیح کو قبول کر لیا۔
بعد میں جب آپ تبدیل شدہ لوگوں کی مزید مدد کر رہے تھے تو سیمی نے سُنا کہ ایک لڑکی نے اپنی دُعا میںایک جُملے کا اضافہ کیا جس نے سیمی کی خدمت کیلئے ایک اور دروازہ کھول دیا۔اُس نے دُعا کی کہ اے خدا «خواہ مجھے کیا ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے»مجھے حوصلہ دے کہ میں تیرے لئے زندگی گزاروں۔
:ملک بدر کیا جانا
۱۹۷۴ئ کے موسمِ بہار میںٹِپٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں مسیح کیلئے جیوں گا خواہ مجھے کیاہی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب وہ اور اُن کے ایک ساتھی کو میں اس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا کہ وہ روس کے کالج کے طلباءمیں گواہی دیتے ہیں۔اُنہیں ان کے ہوٹل کے کمرے ہیں ہی نظر بند کر دیا گیا اور کئی گھنٹوں تک اِن سے تفتیش ہوتی رہی اور اُنہیں مجبور کیا جاتا رہا کہ وہ اپنے الزام کو قبول کرتے ہوئے کاغذ پر دستخط کریں کہ وہ «مذہب کے بیماری پھیلا رہے ہیں»۔ اِنہوں نے اپنے اقرار میں گواہیاں لکھیں اور وضاحت کی کہ کس طرح سے اس کاغذ کاپڑھنے والا مسیح کو قبول کر سکتا ہے۔
آخر پر اُنہوں نے یہ اظہار کیا کہ ہمیں امریکن ایمبیسی لے جا یا جائے۔اس کے نتیجے میں اُنہیں میں بھیج دیا گیا۔ سیمی نہیں جانتے تھے کہ یہ سیاہ دھبہ کب تک میری پہچان رہے گا اور مجھے واپس روس آنے اور منادی کرنے میںروکے رہے گا۔جلد ہی سیمی کو یہ محسوس ہوا کہ آپ کی خدمت مزید بلوغت کی طرف بڑھ رہی ہے۔پھر آپ نے ایک ایسے مقام کاانتخاب کیا جہاں پررہ کر اپنی خِدمت کو بہتر طور پر کر سکتے تھے۔آپ نے جرمنی میں ایک اگریزی بولنے والی کلیسیاءمیں پاسبان کی خدمت قبول کی جہاں کی جماعت امریکن فوجیوں سے مِل کر بنی تھی۔
:خاندانی مسئلہ
کلیسیاءاور سیمی بڑے زوروں پر ترقی کی منازل طے کر رہے تھے۔سیمی نے پورے یورپ کی کلیسیاﺅں سے واعظ کرنے کی بڑی حوصلہ افزادعوتیں قبول کیں۔سیمی نے اپنی کلیسیا میں بہت لوگوں کو شاگرد بنایا اور دیکھا کہ اُن کے خاندان مسیح میں پروان چڑھ رہے ہیں۔سیمی نے کئی مشکل اسباق سیکھے جِن میں نہایت ہی اہم سبق اپنی بیوی ٹیکس کے وسیلے سے سیکھا۔
ایک شام سیمی کی اہلیہ نے بڑی جُرات کرتے ہوئے سیمی سے بات کی کہ آپ نے میرے ساتھ جوسلوک کیا ہے اُس کی وجہ سے میرا دِل آپ کیلئے نفرت و کڑواہٹ سے بھرا ہوا ہے۔وہ رومانیہ جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے جہاں پر ایک بڑی بیداری آئی تھی۔لہٰذا ٹیکس نے محسوس کیا کہ اس سے پہلے کہ ہم سفر کریں پہلے اس مسئلے سے متعلق ایک دوسرے سے بات کر ہی لیں۔
ٹیکس نے سیمی کو بتایا کہ آپ جس طور پر لوگوں کو قائل کر لیتے اور بحث کر لیتے ہیں اُس کے مطابق تو میں کبھی بھی اس لائق نہیں ہوئی کہ آپ سے بحث کر کے جیت جاﺅں۔آپ ہمیشہ ٹھیک ہی کرتے ہیں اور اگر ٹھیک نہ ہوں تو ہمیشہ اپنے آپ کو ٹھیک ثابت کرنے کی کوشش کرتے اور مجھے نیچا دِکھاتے ہیں۔میں ڈیوڈ کی پیدائش سے پہلے اور بیٹی رینی کی پیدائش کے بعد بھی میں آپ کی مساوی ہمخدمت رہی۔اب میں آپ کی منتظر تھی کہ آپ واپس آ کر بتائیں کہ خداوند آپ کے وسیلے سے کیا کر رہا تھا۔
یہ باتیں سُن کر سیمی احساسِ شرمِندگی کی وجہ سے اندر سے ٹوٹ گئے۔سیمی نے ایلڈر کو جانے کیلئے کہا تاکہ آپ اور ٹیکس اس مسئلے پر علیحدگی میں بیٹھ کر بات کر سکیں۔سیمی نے خیال کیا کہ وہ درست کہتی ہیں۔اس مسئلے سے متعلق خیال نہ کرتے ہوئے یا بے خبری میں ، میںنے ٹیکس کیسا تھ ایسا سلوک کیا جیسا کہ مجھے نہیں کرنا چاہئے تھا۔«میں ایک نئے انداز سے اپنی خودی ، غرور اور تکبّر کو دیکھنے لگا»۔چنانچہ سیمی نے معافی مانگی اور یوں خدا نے اور ٹیکس دونوں نے اُنہیں معاف کیااور سیمی نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ کیلئے اور زیادہ محبت کرنے والا اور ٹیکس کو ترجیح دینے والا شوہر ہوں گا۔
دونوں کے تعلقات کی بحالی کی وجہ سے سیمی کی خِدمت وسیع ہونے لگی اور دونوں نے پہلی دفعہ رومانیہ کا دورہ کیا۔سیمی نے وہاں کے لوگوں کیساتھ ایسا محبت بھرا رِشتہ قائم کیا کہ وہ اُن لوگوں کے دلپسند خادم ٹھہرے او ر یوں کئی سالوں تک آپ وہاں پر منادی کرتے رہے
:مزید انٹرنیشنل کروسیڈز
سیمی نے امریکہ میں کئی مقاما ت پر پاسبانی فرائض سر انجام دیئے اور یوں سین انٹانیو میں مقیم ہو گئے اور محسوس کیا کہ خدا ہمیں عالمی طور پر منادی کرنے کیلئے بلا رہا ہے لیکن ساتھ ہی کُچھ بے آرامی سی بھی محسوس کرنے لگے۔اپنے خاندان کو اس طرح کے خوف اور بے یقینی سی کے عالِم سے نِکالنے کیلئے سیمی اپنے پرانے دوست« آرتھر بلیسٹ» کے پاس گئے جو سیمی کی طرح ہی نعمت یافتہ اورشعلہ بیان مبشّرتھے۔ بلیسٹ نے سیمی کو مشورہ دیا کہ خدا کی طرف سے بلاہٹ کی پیروی کرو۔ اس رفاقت نے سیمی کے دِل میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنے خاندان کو خدا کی حفاظت میں دے دیں۔اس میں اُنہیں بڑے محتاط ہو کر ایسے علاقہ جات کی طرف سفر کرنے میں بھی اپنے خاندان کو خِدمت میں شامل کرنا ہے جہاں پر بشارت دینا اِتناآسان نہیں ہے۔
جب ۱۹۸۶ئ میں سیمی نے پاسبانی کام چھوڑا ور کُل وقتی طورپر عالمگیر بشارتی کام کی طرف واپس لوٹے تو دیکھا کہ اُن کی خدمت بڑھ رہی ہے۔اُنہوں نے اُس وقت سے ہندوستان، شمالی امریکہ، روس، رومانیہ، منگولیہ اور البانیہ میں بشارتی کروسیڈز کیئے۔۱۹۸۸ئ میں رومانیہ کی حکوت نے سیمی کو بلیک لِسٹ میں شامل کیا اور رومانیہ سے نِکال دیا۔لیکن ۱۹۹۰ئ میں انقلاب آنے کے بعدسیمی رومانیہ واپس چلے گئے اور ایک فُٹ بال کے اسٹیدیم میں رومانیہ کی تاریخ میں ہونے والاپہلا کروسیڈ کیا ۔آپ کے پیغام کے وسیلے سے ہزاروں نے مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا۔سیمی روس میں بھی واپس گئے اور سرِ بازار کئی ایک پروگرام کیئے۔ایک میٹنگ میں ۲۵۰۰ کے قریب لوگوں نے سیمی کے کلام سُنانے پر مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پرقبول کیا۔سیمی ٹپٹ نے ساری دُنیا میں منادی کاکام جاری رکھا۔وہ کہتے ہیں کہ ""خدا نے کھوئی ہوئی روحوں کیلئے جو بوجھ مجھے دیاہے اِتنا زیادہ ہے کہ میں اس کا کُچھ بھی نہیں کر سکتا۔اگر میرے پاس وقت اور وسائِل ہوں تو میں ہر جگہ جا کر منادی کر سکتا ہوں پھر بھی وہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہو ں گے جنہوں نے ابھی تک خوشخبری نہیں سُنی ہو گی""۔
جیری جینکِنز --
