| ایمان کا عقیدہ |
کلامِ مقدّس
بائبل مقدّس ایسے اشخاص کے وسیلے سے لکھی گئی جو خدا کی طرف سے الہام پائے اور یہ انسان کیلئے خدا کی اپنی طرف سے مکاشفے کا ریکارڈ ہے۔یہ اِلٰہی ہدایات کا کامل خزانہ ہے۔اس کا مصنف خدا بذاتِ خود ہے۔اس میں پیغامِ نجات اور سچائی ہے جس میں کِسی بھی قِسم کی مِلاوٹ یا غلطی نہیں ہے۔
خدا
صرف اور صرف ایک ہی زندہ اور حقیقی خدا ہے۔وہ دانش و فہم سے معمور ہے اور روحانی ہے۔ایک شخصیت ہونے کے اعتبار سے وہ خالق، مخلصی دینے والا، حفاظت کرنے والا اور اس کائنات پر حاکم ہے۔خدا اپنی پاکیزگی میں لامحدود اور کامل ہے۔
ا-- خدا باپ
باپ ہونے کی حیثیت سے خدا اس ساری کائنات کی ضروریات کو پورا کرنے والا حاکم ہے۔وہ جو خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں وہ خدا باپ کے فرزند بن جاتے ہیں ۔
ب-- خدا بیٹا
مسیح خدا کا ازلی بیٹا ہے۔بحثیت یسوع مسیح میں مجسّم ہونے کے وہ روح القدس کے قدرت سے کنواری مریم کے بطن میں پڑا اور اس سے پیدا ہوا۔بشری اعتبار سے اُس نے کامل اوربے گناہ زندگی گزاری۔اُس نے اپنی صلیبی موت کے وسیلے سے انسان کو اُس کے گناہوں سے مخلصی دینے کیلئے انتظام بھی کیا۔وہ ایک جلالی بدن میں مُردوں میں سے جی بھی اُٹھا اور اپنے شاگردوں پر ویسے ہی ظاہر ہوا جیسے وہ مصلوبیت سے پہلے تھا۔وہ آسمان پر اُٹھایا گیا اور ابھی وہ خدا باپ کی داہنی طرف بیٹھا ہے ۔ جہاں وہ درمیانی کی حیثیت سے ہے۔وہ اپنی قدرت اور جلال میں واپس آئے گا تاکہ دُنیا کا انصاف کرے اور اپنے مخلصی کے کام کو پائیہ تکمیل تک پہنچائے۔
ج-- خدا روح القدس
روح القدس خدا کا روح ہے۔اُس نے خدا کے مقدس لوگوں کو چُنا کہ وہ الہام سے کلامِ اِلٰہی کو تحریر کر پائیں۔اس نے الہام سے ہی لوگوں کو تیار کیا کہ وہ اس سچائی کو سمجھ پائیں۔وہ مسیح کو سربلند کرتا ہے۔وہ گناہ ، راستبازی اور عدالت کے اعتبار سے قائل کرتاہے۔وہ لوگوں کو نجات دہندہ کی طرف مائل کرتا اور اُن کو نیا مخلوق بنا دیتا ہے۔وہ مسیحی کردار کی تعمیر کرتا ہے۔وہ مخلصی کے آخری دِن تک ایمانداروں کو مُہر کرتا ہے۔
انسان
انسان کو خد انے اپنی صورت و شبیہ پر خلق کیا اور اپنے تخلیقی عمل میں خدا نے انسان کو اشرف المخلوق پیدا کیا ہے۔ابتدا میں انسان بے گناہ تھا اور خالق نے اُسے آزاد مرضی پیدا کیا تھا۔انسان نے اپنی مرضی سے خدا کے خلاف گناہ کیا اور یوں یہ گناہ ساری نسلِ انسانی میں پھیل گیا۔شیطان کے آزمانے کے وسیلے سے انسان نے خداکی حُکم عدولی کی اور اپنی معصومیت والی حالت سے گِر گیاجس کی وجہ سے ساری نسلِ انسانی فطرتی اعتبار سے موروثی طور پر گنہگار ہوئی اور یوں سارے ماحول کا رُحجان گناہ کی طرف مائل ہو گیا۔اس طرح انسان کے اعمال بھی بُرے ہوگئے اور خدا کے حضور نا مقبول ٹھہرے۔اب صرف خدا کا فضل ہی انسان کو اس مقدّس رفاقت میں بحال کر سکتا ہے اور انسان کو اس اہل کر سکتا ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی مقصد کو پورا کرے۔
نجات
نجات میں انسان کی مکمل نجات شامل ہے اور یہ اُن سب لوگوں کیلئے فائدہ مند ہے جو خدا وند یسوع مسیح کو اپنے خدا وند اور نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں جس نے اپنے لہو کے بہائے جانے کے وسیلے سے ایمانداروں کیلئے ابدی رہائی کا انتظام کیا۔
ا---- نئی پیدائش یا نیا مخلوق ہونا خدا کے فضل کا کام ہے جس کے وسیلے سے مسیح یسوع میں ایماندار نئے مخلوق بن جاتے ہیں۔یہ روح القدس کے وسیلے سے گناہ کے لحاظ سے قائل ہونے کے سبب دِل کی تبدیلی مراد ہے۔اس کا اظہار گنہگار انسان خدا کے حضوراپنے گناہوں سے توبہ اور یسوع مسیح پر ایمان لانے کے ذریعے سے کرتا ہے۔
ب- --- تقدیس ایک ایسا تجربہ ہے جو نئے مخلوق ہونے کے وقت سے شروع ہوتاہے۔ اس کے ذریعے ایماندار کو روح القدس کے حضوری اور قدرت کے وسیلے سے جو اس کے دِل میں سکونت پذیر ہوتا ہے خدا کے مقصد کیلئے الگ کیا جاتا ہے اور اُسے اخلاقی اورروحانی کاملیّت کی طرف بڑھاتا ہے۔خدا کے فضل میں نئے مخلوق شدہ شخص کو ترقی پاتے رہنا چاہیئے۔
ج----ہماری نجات کا حتمی نتیجہ جلال پانا ہے اور مخلصی یافتہ شخص کا یہ حتمی درجہ ہے جس میں وہ قائم رہتا ہے۔
