| بُنیادی عقائِد |
مقصد:۔
سیمی ٹِپٹ منِسٹریز کا مقصد و مُدعا یہ ہے کہ ساری دُنیا میں بشارتِ انجیل دینے کے ذریعے خدا کے نام کو جلا ل دیا جائے۔
رویا: ۔
سیمی ٹِپٹ منسٹری ساری دُنیا میں کلیسیاءکے اندر مختلف طریقوں سے بیداری لانے کیلئے سرگرمِ عمل ہے۔ہم کلیسیائی قائدین کو کھوئے ہوئے لوگوں کیلئے بوجھ اور رویا رکھنے کی اس طور پر تربیت دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ شہروں اور پھر سارے مُلک میں ایسا تااثر چھوڑتے ہیں جس کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔
ہماری ترجیحات:۔
| ٭ --- دُعا: ہم جو کُچھ تعمیرِ کلیسیاءمیںکرتے ہیں یا کرنے کے آرزو مند ہیں اُس کی بنیاد دُعا ہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ کلیسیائیں اپنے آپ کو دُعائیہ زندگیاں بنانے کیلئے وقف کر دیں۔ | |
| ٭ --- ایسی بیداری جو بشارتی کام کا نتیجہ ہے: ہم بیداری کو اس طور پر پیش کرتے ہیں جس کا آغاز کلیسیاءکے اندر سے ہوتا ہے اور یوں کلیسیاءکو کھوئے ہوئے لوگوں کیلئے مسیح جیسا بوجھ ملے اور کلام کی فرمانبرداری کیلئے اپنے عہد کی تجدید کریں۔ | |
| ٭ --- ہماری شناخت: جیسا کہ ہمارا مقصد ہمارے لئے نہایت ہی اہم ہے اِسی طرح اس مقصد کی تکمیل بھی ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ہم اس طور پر زندگی گزارنے کیلئے کوشاں ہیں کہ ہمارے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ ہو۔ | |
| ٭ --- خادمانہ روح: ہم خدا کے اور پھر اُس کے لوگوں کے خادم ہیں اور جہاں کہیں ہمیں بلایا جاتا ہے ہم خادمانہ روح میں مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرتے ہو ئے وہاں جاتے ہیں۔ | |
| ٭ --- مختاری: بغیر کسی انسانی حِکمت کے استعمال کیئے ایسا مالی تعاون حاصل کرنا کہ وہ مالی مدد کہیں غیر موزوں طور پر استعمال نہ ہو۔ ہم پیسہ اور مالی تعاون کرنے والوں کی مساوی قدر کرتے ہیں۔ | |
| ٭ --- پاکیزگی: ہم نے اپنے آپ کو ایسی پاکیزہ زندگی بسر کرنے کیلئے وقف کیا ہوا ہے کہ ہماری پاکیزہ زندگی کی وجہ سے وہ پیغام جو ہم دوسروں تک پہنچاتے ہیں وہ مسح شدہ اور قوّت والا ہو۔ | |
| ٭ ---روحوں کیلئے بوجھ: کلیسیاءکا مقصد کھوئے ہوئے لوگوںکوڈھونڈ کر مسیح کے پاس لانا ہے۔ خدمت کے کام کیلئے یہ ہمارا وہ محرّک ہے اور بوجھ ہے جو ہم کلیسیاءکیساتھ بانٹتے ہیں۔ | |
| ٭ --- شخصی تعلق کی وجہ سے خِدمت زیادہ مﺅثرہوتی ہے: یسوع لوگوں کیساتھ روابِط قائم کرتا تھا ۔اُس نے اِسی طرح سے خِدمت کی۔ ہم بھی جب کسی شہر میں جائیں یا دوسروں سے مدد حا صل کریں تو اُس کے نمونے کی پیروی کریں۔ | |
| ٭ --- ایسا پیغام جِس میں سمجھوتہ نہیں ہو سکتا:ہم انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ڈرتے ہیں اور عِلمِ اِلٰہیات اور فلسفے کے جھونکے سے نہیں بلکہ صلیب کے وسیلے سے پیغامِ نجات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ |
انفرادیت :۔
| ٭ --- ہم عالمی طور پر مقامی کلیسیاﺅں کے قائدین کیساتھ مِل کربشارتی کام کرتے ہیں تاکہ موثر خدمت ہو سکے اور دیرپا نتائج بھی ثابت ہو سکیں۔ہم کلیسیائی اور قومی قائدین کیساتھ روابِط قائم کرنے کے ذریعے اپنے مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ہم ان کے اندر بیداری کی رویا اور کھوئے ہوئے لوگوں کیلئے ایسی تحریک پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے بشارتی کام ہونے سے پہلے ہی شہر پربڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔پھر ہم مقامی لوگوں کے ساتھ مِل کر جو سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری رویا ہے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کے شہر کیلئے خدا کی طرف سے کونسا بشارتی طریقہ مﺅثر ہو گا تاکہ اُن کے شہر کو مسیح کا پیغام سُنا یا جا سکے۔ہم بنیادی طور پر کھلے آسمان تلے بڑے بڑے اجتماعات کے ذریعے شہر پر تاثر چھوڑتے ہیں۔ | |
| ٭ --- ہم ایسی جگہوں میں بھی جاتے ہیں جہاں انجیل لے کر جانا آسان نہیں ہے۔خدا نے ہمیں دُنیا کے کئی ایسے شہروں کیلئے بلایا ہے جہاں انجیل کے وسیلے سے رسائی نہیں ہوئی اور جہاں غیر ملکیوں کا جانا خطرے سے خالی نہیں اور جہاں تشدّد ہوتا ہے لیکن خدا نے وہاں بھی ہماری خِدمت کیلئے دروازے کھولے ہیں۔ | |
| ٭ --- ہم جو کُچھ بھی کرتے ہیں دُعا اُس کی بنیاد ہے: دُعا صرف یہی نہیں ہے کہ خدا سے درخواست کی جائے کہ وہ ان پروگراموں کوبا برکت بنائے بلکہ یہ اُس رویا کی بنیاد ہے جو ہم کلیساﺅں کو دیتے ہیں۔ہم لوگوں کو دُعا کی طرف مائل کرتے ہیں کہ وہ خدا پر بھروسہ کریں جس کے نتیجے میں وہ اپنے شہر اور ملک کیلئے خدا کے دِل کی آواز سُنتے ہیں۔ | |
| ٭ --- ہم اپنی رویا سے زیادہ خدا کے پابند ہیں: اگر خدا ہمیں کہے کہ اس رویا کو چھوڑ دو تو ہم اُس کی پیروی کریں گے۔ | |
| ٭ --- ہمارا ماضی مستقبل کیلئے ہمیں مقام بخشتا ہے: ہم نے کلیسیاءاور قومی قائدین کیساتھ جو شخصی رِشتہ قائم کیا ہے اور بیداری سے متعلق جو رویا ہم نے اُن سے بیان کی ہے اور جہاں پر ہم نے خدِمت کی ہے وہاں سے مِلنے والے دیرپا نتائِج اکیسویں صدی عیسوی میں بشارتی کام کرنے کیلئے ہمارے لئے دروازہ کھولتے ہیں۔ |
