Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

news

ٹِپٹ یونانی لمبی دوڑ مکمل کرتے ہیں

یہ مضمون سیمی ٹِپٹ سے رابطہ کرتے ہوئے مِلا جبکہ وُہ بھارت کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے حال ہی میں یونانی لمبی دوڑ مکمل کی اور ذیل میں وُہ بیان کرتے ہیں کہ کیا ہوا:

سیمی ٹِپٹ(فیڈاپائیڈس) کی طرف سے آداب

پہلے سارا مضمون پڑھیں اور فیڈاپائیڈس کو جاننے کی کوشش کریں اور جانیں کہ اِس دوڑ کے اختتام پر کیا ہوا۔

اگر آپ کو یہ نام ‘‘فیڈاپائیڈس’’یاد نہیں آتا تو وُہ دوڑنے والا ایک ایسا شخص تھا جو اہلِ اتھینہ کو یہ بتانے کیلئے پیغام لے کر گیا کہ اُنہوں نے طویل دوڑ میں فارسیوں کو شکست خوردہ کر دیا۔ وُہ تقریباً 26 میل کی دوڑ دوڑا اور فتح کا اعلان کیا اور پھر گِر کر مر گیا۔ جب عالمی دوڑ کو ترتیب دینے والی کمیٹی نے1986میں فیصلہ کیا کہ ایک طویل دوڑ ہو تو اُنہوں نے ٹھان لیا کہ فیڈیپائیڈس کی دوڑ دوڑنا ہے۔ اِس کے نتیجے میں اِس دوڑ کو ماراتھان کہاگیا کیونکہ فتح ماراتھان کے پروگرام میں ہی حاصل کر لی گئی تھی۔

اب اِس کا مُجھ سے کیا تعلق ہے؟ آپ میں سے بہت سے لوگ یہ جانتے ہیں کہ جب میرا میڈیکل ہوا تو پتہ چلا کہ مجھے کینسر ہے تو اُس وقت خُدا نے میرے دِل میں یہ بات ڈالی کہ اتھینے کی اِس کلاسک دوڑ میں تُو بھی دوڑ۔ تیس سال پہلے کا میرا ایک بہترین دوست کین لیبرگ نے یہ اصل والی یونانی دوڑ دوڑنے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے۔ کین ایک کار کے حادثے میں ہلاک ہو گیا اور یہ خواب کبھی پورا نہ ہوا۔ جب مجھے کینسر کے بارے معلوم ہوا تو یہ خواب پھر سے آنے لگا۔

اب اِس کا مُجھ سے کیا تعلق ہے؟ آپ میں سے بہت سے لوگ یہ جانتے ہیں کہ جب میرا میڈیکل ہوا تو پتہ چلا کہ مجھے کینسر ہے تو اُس وقت خُدا نے میرے دِل میں یہ بات ڈالی کہ اتھینے کی اِس کلاسک دوڑ میں تُو بھی دوڑ۔ تیس سال پہلے کا میرا ایک بہترین دوست کین لیبرگ نے یہ اصل والی یونانی دوڑ دوڑنے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے۔ کین ایک کار کے حادثے میں ہلاک ہو گیا اور یہ خواب کبھی پورا نہ ہوا۔ جب مجھے کینسر کے بارے معلوم ہوا تو یہ خواب پھر سے آنے لگا۔

کین کی بڑی بیٹی کرِسٹا لیبرگ ملٹن نے محسوس کیا کہ اَپنے باپ کی جگہ وُہ میرے ساتھ دوڑے گی۔ کرِسٹا اُس کپڑے کیساتھ آئی جس پر اُس کا نام لکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اَپنے باپ کی تصویر بھی ایک چھوٹے سے فریم میں ڈال کر لائی۔

AthensSamHalfMarathonاِس صبح کو کرِسٹا کے شوہر ویڈ اور میں نے کرِسٹا کا ساتھ دیا اور بس پر سوار ہوئے تاکہ دوڑنے کیلئےمخصوص لائن تک جایا جا سکے(جب میں ہوٹل سے باہر آیا تو ٹیکس علیل تھیں اورمیں نےڈاکٹرکوبلایا کہ وُہ اُن کاعلاج کرے۔اَب اُن کی طبیعت کُچھ ٹھیک ہے)۔ جب نقطہ آغازپرپہنچا توتھوڑی سی کھیل کے موڈ میں آ گیا۔ بڑے بڑے کینیا کے دوڑنے والے قریب ہی اَپنے بدن گرم کرتے تھے اور نے بھی جا کر اَپنا بدن اُسی طرح گرم کرنا شروع کر دیا۔ کاش کہ میرے پاس اُس وقت کیمرہ ہوتا تو آپ دیکھتے کہ کیا ہو رہا ہے۔

صبح9بجے یہ دوڑ شروع ہوئی اور میں بہترین آغاز کرنے کیلئے تیار تھا۔کرِسٹا کو میں نے سٹیڈیم میں بہت دیر کے بعد دیکھا اور یہی وُہ مقام ہے جہاں سے کہانی دِلچسپ ہوتی چلی جاتی ہے۔ پہلے میں 8:42قدم دوڑا جو میرے لئے بہت تھا۔ میں نے تھکن محسوس نہیں کی۔ یہ آسان لگا۔ اس سلسلے کو میں نے چار گھنٹوں تک جاری رکھااور میں یہی چاہتا تھا۔دس کلومیٹر تک میری سپیڈ اِسی طرح رہی۔ میں مضبوط محسوس کر رہا تھا۔10 سے 20 K تک کئی پہاڑیاں بھی تھیں لیکن میرا وقت بھی مناسب ہی تھا۔ 8:40 پر جا کر رُک گیا جب کہ4 گھنٹے کی دوڑ دوڑنے کیلئے ابھی بھی میرے پاس وقت تھا۔

20اور 30کلومیٹر کے درمیان ماسوا پہاڑیوں کے اور کُچھ بھی نہیں ہے۔بڑی، لمبی اور مشکل پہاڑیاں ہیں۔میں جانتا تھا کہ وقت کی مناسبت سے میں بہت ٲگے ہوںاور اپنے ٲپ کو تیس کلومیٹرتک محدود کرسکتا ہوںاور اِس کے باوجود میں4گھنٹوں میں پہنچ جائوں گا۔ آخری دَس کلومیٹر یا تو ڈھلوان کی طرف جانا تھا یا میدان ہی تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ آخری دس کلومیٹر بھی میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ میرا منصوبہ تھا۔ تاہم جب میں نے پہاڑی سلسلہ مکمل کیا تو میں مکمل طور پر تھکا ہوا تھا اور مُجھ سے توانائی جاتی رہی تھی۔ اَبھی مجھے 2.5 کلومیٹر آگے جا کر تازہ دَم ہونا تھا لیکن میں نے یہاں سے ہی کولڈ ڈرِنک لی اور پھر اَپنی راہ لی۔ جب میں نے دوڑنے کی کوشش کی تو میری بدن کا ایک ایک حصَہ دَرد کر رہا تھا۔ پہلے تو میں یہ سوچتا تھا کہ2.5کلومیٹرآہستہ آہستہ بھاگتا ہوااگلے تازہ دَم ہونے والے مقام تک جائوں گا اور یوں کُچھ توانائی پا کر کُچھ اور چلوں گا۔

لیکن ایسا میں خُدا کے جلال اور اَپنے دوست کین لیبرگ کی یاد میں کر رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اِسے چھوڑنا نہیں ہے۔ لیکن یہ بہت مُشکل تھا۔ ابھی ایک کلومیٹر سے بھی کم تھا لیکن میں رَو رہا تھا کیونکہ میرا بدن دَرد کر رہا تھا۔ میں ابھی ہمت ہارنے ہی والا تھا کہ ایک گلی کی راہ لی جو اسٹیڈیم کی طرف لے جا رہی تھی۔ اِس منظر کا بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ سینکڑوں ہا لوگ گلی میں کھڑے‘‘بریوو، بریوو’’کے نعرے مار رہے تھے۔ میں رونا شروع ہو گیا اور خُدا وند کی طرف نگاہ کی اور مُجھ میں قوَت آ گئی۔ میں ٲہستہ ٲہستہ بھاگنا شروع ہو گیا اور لوگ مسلسل شور مچاتے رہے۔ تب میں اسٹیڈیم میں پہنچا اور منظر ایسا تھا جو بیان نہیں کیا جا سکتا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہلے اولمپِک اسٹیڈیم میں جو کھچا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا زور دار‘‘بریوو، بریوو’’ کے نعرے مار رہے تھے۔

AthensSamVictory2میں اِس تواریخی اسٹیڈیم میں اِنتہائی شورو غوغا کرتے ہوئے ہجوم کے سامنے سے ٲسمان کی طرف اَپنی اُنگلی اُٹھائے بھاگ رہا تھا۔ بدن میں اِنتہائی دَرد تھی اور گہرے جذبات کیساتھ رَو رہا تھا۔ میں نے ٲخری لائن عبور کی اور بس میں ایک ہی بات کہہ سکتاتھا کہ‘‘میں نے کر لیا، دوڑ مکمل کر لی’’۔ لیکن ایک دَم کُچھ ہو گیا اور جو آدمی ہماری دوڑ کا انچارچ تھا اُس نے دیکھا کہ کُچھ ٹھیک نہیں ہو رہا۔ وُہ میرے لیئے جلدی سے پانی لایا۔

مسیح میں ایک بہت ہی پیارا بھائی جانتھن مارکِساور اُس کا دوست میری فلم بنا رہے تھے۔ وُہ کیمرہ لے کر میرے پاس بھاگے آئے اورکہنے لگے کہ دوڑ کے بارے میں کُچھ کہیں۔ میں نے کہا ‘‘میری زِندگی میں سب سے مشکل ترین کام یہی تھا جو میں نے کیا۔ جتنی میں اُمید کرتا تھا اُتنا تیزمیں نہیں بھاگا۔ لیکن دوڑ کے ایک ایسے مرحلے میں پہنچا کہ سپیڈ کوئی خاص اہمیت نہیں تھی لیکن دوڑ کو مکمل کرنا بڑی بات تھی’’۔

تب میں نے اُوپردیکھا اورکہا‘‘مُجھے یوں لگتا ہےکہ بیہوش ہونے والا ہوں’’۔ آسمان گھومنا شروع ہو گیااور سب کُچھ دُھندلا نظر آ رہا تھا۔ فوراً ایمرجینسی میڈیکل سٹاف آ گیا اورمیں بیہوش ہو گیا۔ اگلے چند منٹ کے بارے میں کُچھ نہیں جانتا ماسوا اِس کے کہ مجھے سٹریچرپرڈال کرمیڈیکل کیمپ میں لایا گیا۔ کئی ڈاکٹر مُجھ پر کام کرنا شروع ہو گئے اور مُختلف قسم کی مشقیں کر رہے تھے اورمیں بے جان سا ہو کر وہاں لیٹا ہوا تھا۔

ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ مجھے ہسپتال لے جایا جائے۔ چند گھنٹوں تک میں میڈیکل کیمپ میں ہی رہا۔ کرِسٹا نے مُجھ سے ایک گھنٹہ بعد آخری لائن کو عبورکیا۔ اور جان نیتھن کا بیٹا جسٹن بھاگا ہوا گیا اور اُس سے کہنے لگا کہ سیمی میڈیکل کیمپ میں ہے۔ وُہ اور وَید دونوں آئے تاکہ معلوم کریں کہ مجھے کیا ہوا ہے۔

مجھے ہسپتال میں لایا گیا۔ ایمرجینسی اسٹاف نے ایمبولینس میں جان نیتھن سے پوچھا کہ یہ کون ہے اوراِس کے دوڑنے کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں۔ وُہ اِس لائق ہوا کہ نہ صرف میری کہانی اُسے سُنائے بلکہ مسیح کے بارے میں بھی اُسے بتائے۔ جب ہسپتال میں پہچا دیا گیا تو میری کئی ٹیسٹ ہوئے جن میں خون ٹیسٹ، ایکسرے اور ماہرِقلب کے ذرِیعہ میرے دِل کے بھی کئی ٹیسٹ ہوئے اوراندرونی طور پر جائزہ بھی لیا۔ میں نے اِنتظار گاہ میں چند بڑے ضرورت مند لوگ دیکھے جن کے چہرے مہرے سے لگتا تھا کہ جیسے وُہ مشرقِ وُسطیٰ سے آئے ہیں۔ نانتظار کرتے ہوئے میں نے اُن سے بات کرنا شروع کر دی۔ وُہ افغانستان کے مہاجرین تھے اور ابھی ابھی اتھینے میں پہنچے تھے۔ اُن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ مجھے اِتفاق ہوا کہ اُنہیں یسوع کے بارے میں بتائوں اور جان نیتھن سے اُن کا تعارف کروائوں جو مہاجرین میں خِدمت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔

جس بھی ڈاکٹر سے مِلنے کا اِتفاق ہوا اُس نے مُجھ سے پوچھا‘‘کیا آپ پہلے دفعہ اِتنی لمبی دوڑ دوڑے؟’’جب میں نے مثبت جواب دیا تو پھر وُہ کہنے لگے‘‘آپ کی عُمر کِتنی ہے؟’’۔ جب میں نے کہا کہ میں61 سال کا ہوں تو وُہ یونانی میں روانی سے ایک دُوسرے سے بات کرنا شروع ہو گئے۔

اِس کی وجہ یہ تھی کہ ایک اور آدمی بھی بالکل اِسی طرح کا آج ہی ہسپتال لایا گیا۔یہ اُس کی پہلے طویل دوڑ تھی۔ اُس میں اور مُجھ میں جو بڑا فرق تھا وُہ یہ تھا کہ وُہ مر گیا۔

آخر کار ڈاکٹرز نے چُھٹی دے دی اور میں بحفاظت اَپنے ہوٹل کے کمرے میں اَپنی پیاری بیوی کے پاس آ گیا۔ میں اَب اَپنی نارمل زِندگی گُزار رہا ہوں اور آپ کوہمارے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم ٹھیک ہو جائینگے۔بہرحال ہم ‘‘دو زخمی ہرن’’ہیں۔ ہم انتہائی ممنون ہیں کہ آپ ہمارے لئے دُعا کرتے ہیں۔ کل ہم ایمسٹرڈیم کو فلائی کریں گے جہاں پر ہم ایک رات گُزاریں گے۔ پھر ہم منگل کو بھارت کے دس روزہ مشنری دورے پر نِکلیں گے ۔براہِ کرم مسلسل دُعا کریں کہ خُداوندع ٹیکس کو صحت یابی عنایت فرمائے اور مجھے قوَت بخشے۔

ہم آپ کے شکرگزار ہیں اور ٲپ سے پیار کرتے ہیں

>سیمی اور ٹیکس