Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

news

رَہنما بیداری کیلئے پُکار اُٹھے

بِلی گراہم ٹرینگ سینٹر کُوومیں پاسبان اور مختلف خِدمات میں سرگرمِ عمل رَہنماہان ساتویں ہئیرٹ کرائی بیداری کی کانفرنس میں شریک تھے جو گزشتہ10 سالوں سے ہو رہی ہے۔ جب یہ رہنماہان خُدا کے چہرے کے دیدار کے طالب ہوئے تو ایک بیداری کی رُوح نے اِ

بِلی گراہم ٹرینگ سینٹر کُوو میں پاسبان اور مختلف خِدمات میں سرگرمِ عمل رَہنماہان ساتویں ہئیرٹ کرائیبیداری کی کانفرنس میں شریک تھے جو گزشتہ 10 سالوں سے ہو رہی ہے۔ جب یہ رہنماہان خُدا کے چہرے کے دیدار کے طالب ہوئے تو ایک بیداری کی رُوح نے اِس میٹنگ کو اَپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اِس کانفرنس میں دُعائیہ میٹنگ بھی ہوئی جس کی رَہنمائی ڈیو بَٹاور ڈینیل ہنڈرسن نے کی۔ ڈیو بَٹ امریکہ کی ہاروسٹ پریئر منسٹریزکے چیئرمین ہیں جو نیشنل پریئر کمیٹی ہے اور ڈینیل کے چیئرمین ہیں۔

ہیئرٹ کرائی کانفرنس میں واعظین میں مائیکل کَیٹ جو شروُڈ بیپٹسٹ چرچ کے پاسبان اور اور فلموں کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔ کیٹ نے پاسبانوں کو چیلنج دیااور نصیحیت کی کہ اَپنی خِدمات میں مُشکلات کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ ڈیو برینٹ جو پروکلیمنگ ہوپ کے صدر ہیں اُنہوں نے اگلی شام یسوع مسیح کی فضیلت اور جلال کے بارے میں بات کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم سب کے اِتفاق سے ہی ایک جگا دینے والی تحریک شروع ہو سکتی ہے۔ بروز منگل دِن کے وقت کانفرنس کے ایک سیشن میں اِس کے مقصد کا بیان کیا گیا۔ جو انٹر نیشنل ایویکننگ منسٹریز کے پریذیڈنٹ ہیں اُنہوں نے پاسبانوں کو چیلنج پیش کیا کہ کلام کی منادی کریں۔ اُنہوں نے کہا ‘‘آپ صرف خُدا کے کلام کے بارے میں اور خُدا کے کلام سے پیغام پیش نہ کریں بلکہ کلام کی منادی کریں’’۔ اُنہوں نے پاسبانوں کو بتایا کہ جب ایک پاسبان خُدا کے کلام کو پیش کرتا ہے تو پھر اُس کا کلام ‘‘ہتھوڑے’’ کی مانند اور ‘‘ٲگ’’سے بھرا ہوا ہو گا۔

الزا میئرجو جہانسبرگ جنوبی افریقہ کے قریب موریلیٹا چرچ سے ہیں اُنہوں نے منگل صبح کوخواتین سے کلام کیا۔الزا جنوبی افریقہ میں خواتین کے بہت بڑے اجتماعات کرتی ہیں جنہیں ‘‘خُدا کی طرف رجُوع لانا’’ کہا جاتاہے۔ کانفرنس میں بہت سی خواتین الزا سے متاثر ہو کرحوصلہ پاتے ہوئے باہر آ کر کہنے لگیں ‘‘واہ’’ کیا بات ہے۔خُدا نے ہمارے دِلوں کو چُھوا ہے ۔اگلے دِن ایک اور خواتین کی میٹنگ ہوئی جس میں نینسی لئی دی ماس نے بہت سے واعظین کی بیویوں کے اِنٹر ویوز لئے جن میں ٹیکس ٹِپٹ بھی شامل تھیں۔

ٲخری شام کے سیشن میں سیمی ٹپٹ نے کلام سُنایا۔اُنہوں نے بتایا کہ امریکہ میں کونسا پیغام ابھی تک نہیں سُنایا گیا اور اِنٹر نیشنل مبشرین نے رہنمائوں کو چیلنج دیا کہ ‘‘صبر کیساتھ اُس دوڑ میں دوڑو جو ہمیں درپیش ہے’’۔ اُنہوں نے پاسبانوں کو پاکیزگی کیلئے چیلنج دیا اوردُکھوں کو خوشی سے قبول کرنے کیلئے کہا۔اُنہوں نے کہا‘‘جن باتوں میں ہم دُکھ اُٹھاتے ہیں اُن میں ہم اور زیادہ یسوع کی مانند بنتے جاتے ہیں۔ جب ہم دُکھوں کی وادی سے ہو گُزرتے ہیں تو ہم اور زیادہ یسوع کی مانند ہوتے جاتے ہیں۔ ہمیں دُکھوں کو قبول کرنا سیکھنا ہے’’۔

شُرکا نے خُدا کے کام کے اُس کام کے بارے میں جو اُن کے دِل میں ہوا بہت سی گواہیاں دیں جِن میں سے کُچھ ذیل میں پڑھی جا سکتی ہیں۔

٭ -1-- نظم و نسق کے پہلو کے اِعتبار سے خُدا نے مُجھ سے کلام کیا۔ مُجھے ایسا وَقت نِکالنے کی ضرورت ہے کہ جب میں شخصی طور پر خُدا کی حضور میں وَقت گُزارسکوں اور بائبل مُقدَس کو صرف پیغام تیار کرنے کیلئے ہی نہیں بلکہ یسوع سے مُلاقات کرنے کیلئے بھی کھولوں۔
٭ -2-- اُس نے مجھے اَپنی کلیسیا میں دُعا کرنا سِکھانے کیلئے مقرَر کیا۔ یہ دُعا خُدا کا کلام کرنا ہے۔اُس کا کلام موثر اور زِندہ ہے۔
٭ -3-- میں کون ہوں کہ خُداوند نےمُجھے برکت بخشی کہ میں اُس کی تخت گاہ میں داخل ہوں اور وُہ مجھے اَپنے آپ سے معمور فرمائے؟
٭ -4-- اُس نے مجھے پھر سے اِس بات کا یقین دِلایا کہ میں اَپنی خِدمت میں اکیلا نہیں ہوں۔اُس پر نظریں جمائے رکھنے کیلئے میں اِس دُنیا کی اِن چیزوں کی طرف نہیں دیکھوں گا جو مُجھے جلدی سے اُلجھا لیں اور تباہ کر دیں۔
٭ -5-- مجھے شخصی بیداری کی ضرورت تھی۔ میرا مضمون بھوک اور پیاس رہا۔ کئی سالوں کے بعد میں اِس لائق ہوا کہ خاموش کھڑا رہوں۔
٭ -6-- میںنے ٹھان لیا کہ بڑا سنجیدہ ہو کر دوڑ کو ختم کروں گا۔ توبہ کے ذریعہ ہر روز میں اَپنے گناہوں سے دُور رہوں گا اور نجات دہندہ سے مِلا رہوں گا تاکہ وُہ میری افزائش و پرورش کرے۔میں رُوح القدس سے درخواست کرتا ہوں کہ وُہ میری زِندگی میں رُوح کا پھل، نظم و ضبط اور خود ضبطی پیدا کرے۔
٭ -7-- کُچھ وقت سے میں خُدا سے دُور ہوا اور میرا تعلق خُدا سے ٹوٹ گیا اور اِس کی اِتنی زیادہ وجوہ ہیں کہ اِن کی فہرست نہیں بنائی جا سکتی۔ لیکن خُدا کے لوگوں کے وسیلہ سے مُجھ سے کلام کیا گیا اورمیں بیدار ہو گیا۔
٭ -8-- خُدا نے مُجھے ایک نیا بوجھ دیا کہ ایک ایسا دُعا کرنے والا ماحول تشکیل دوں جوکلیسیااور میری شخصی زِندگی کیلئے سُود مند ہو۔
٭ -9-- خُداوند نے مُجھے بلایا کہ میرا اُس کیساتھ اور زیادہ گہرا تعلق ہو۔ اُس نے میری رُوح کو تازگی اور اُس کی خِدمت کیلئے نئی رَویا بخشی۔
٭ -10- ۔ خُدا نے مجھے واپس اِپنی طرف رجوع لانے کیلئے بلایا کہ میں اُس میں تازگی پائوں۔ اُس نے مجھے واضح طور پر بتایا کہ ایک خاص خِدمت کرتے ہوئے میں اُسے اِس سفر میں یوں سمجھ لیا کہ جیسے یہ میری اَپنی ہے اور بہت جلد راستے سے بھٹک گیا۔
٭ -11- میں کُچھ کلیسیائوں کا پاسبان ہوں اور بڑی کشمکش میں تھا کہ اِس کانفرنس کا پروگرام منسوخ کر دوں کیونکہ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ جو کُچھ میں سیکھ کر آئوں گا اُس کا اطلاق میں کیسے اور کہاں کروں گا۔ مجھے یہ قبول کرنا ہو گا کہ اَب کی بار میں مکمل طور پر خود غرض ہو گیا تھا جبکہ یہ کانفرنس صرف اور صرف میرے لئے ہی تھی۔ مجھے ابھی خاص سمت، فہم، اُمید، حوصلہ، ایمان ، رویا، اطمینان اور ہلا دینے والے پیغامات مِلے۔
٭ -12- خُدا نے مجھے دِکھایا کہ شخصی طور پر دُعا ، بیداری اور کلام کے مطابق دُعا کرنے کا طالب ہو جائوں۔ میں نے جو کُچھ اِس ہفتے سیکھا اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کانفرنس میرے لئے تھی تاکہ میں اَپنی خِدمت کے بارے میں پھر سے سوچنے ولا ہوں۔ یہ کانفرنس مجھے اور زیادہ یسوع کی قُربت میں لانے کا وسیلہ بنی۔
٭ -13- اِس کانفرنس سے میری مدد ہوئی کہ میں اَپنے دِل میں یہ آواز سُن پائوں کہ تُو کُل وقتی طور پر خِدمت میں آ جا۔ میں موسمِ بہار2011 میں مسیحی صلاحکاری میں نفسیات میں بی ایس مکمل کر لوں گا۔ یہ میری آرزُو ہے کہ‘‘اُس کیلئے’’ آرزُو پیدا کر سکوں۔
٭ -14- خُدا نے مُجھے دِکھایا ہے کہ مُجھے کِتنا زیادہ دُعا کرنے اوراُس کے چہرے کے دیدار کا طالب ہونے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ کہ ہمیں اَپنے لوگوں کی یوں رہنمائی کرنا ہے کہ اُن کا مرکزِ نگاہ جس قدر مُمکن ہو یسوع ہی رہے۔
٭ -15- مجھے اَپنی دُعائیہ زِندگی پر کُچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ رُوح القدس کی رہنمائی میں اُمید کرتا ہوں کہ پہلے مجھے بہت سخت کام کرنا اور پھر بعد میں سوال پوچھنا ہے۔اِس کا مطلب یہ کہ پہلے دُعا کروں اور پھر فرمانبرداری کروں۔
٭ -16- اُس نے میری خِدمت کی تصدیق کی اور حوصلہ دیا کہ اگرچہ حالات تو اُستوار نہیں ہوں گے اور حوصلے بھی پَست ہوں گے تو بھی تُجھے وفادار رہنا ہے۔ اُس نے مستقبل کی میری خِدمت کے حوالے سے میری دُعا کا جواب دیا ہے۔