Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

news

اپریل2010

آداب و تسلیمات

میں ابھی ابھی چٹا نوگا، کلیو لینڈ، ٹینسَی کے علاقوں سے جوامریکہ میں ہیں اس سوچ اوراُمید کے ساتھ واپس لوٹاکہ ہمارے مُلک میں بیداری آ جائے۔ سائوتھ ایسٹ ٹینسی میں جو ہیئرٹ کرائی کانفرنس ہوئی اُس کے وسیلہ سے خُدا نے بہت ہی عظیم کام کیا۔ 50 سے زائد کلیسیائوں نےکسی نہ کسی طرح سے شراکت کی۔ تاہم یہ عام ‘‘کلیسیائی عبادات’’سے بڑھ کربات تھی اور وُہ یہ کہ خُدا نے ہم سے مُلاقات کی۔

جب میں نے منگل شام کوان کلیسیائوں میں سےایک میں کلام سُنایاتوسامعین میں سے ایک شخص کوخُدا نے چھُو لیا۔ وُہ روتا ہوا کھڑا ہوااور اسٹیج کی طرف چلا چلاآیااورمنہ کے بَل گِر کرتوبہ کرنے لگا۔ اِسی دوران ایک دوسرا شخص دُوسری طرف سےآڈ یٹوریم میں آیا اور اسٹیج پردوزانُو ہو گیا۔ پھرایک تیسراآدمی درمیانی راہ لیتے ہوئے سامنےآ کراسٹیج پر گِر گیا اور خُدا سے معافی مانگنے لگا۔ میں ابھی کلام سُنا رہا تھا کہ اُس رات میرے اپیل کرنے سے پیشتر تقریباً پندرہ لوگ پہلے ہی مذبح پر آ چُکے تھے۔ جب میں نے لوگوں کو دعوت دی کہ وُہ چرچ کے سامنے آ جائیں اور خُدا سے درخواست کریں کہ وُہ اُن کی زِندگی میں بیداری بھیجے تو چرچ کے سامنے والا حصہ اُن لوگوں سے بھر گیا جواپنی زِندگی خُداوند کے سپرد کر رہے تھے۔

یہ چرچ وُہ واحد کلیسیا نہیں تھی جو خُدا کے کام میںمصروفِ عمل تھی بلکہ اِس میٹنگ میں 50 سے زائد کلیسیائوں نے شراکت کی۔ بہت ہی بڑی کلیسیائوں میں سے پانچ نے اس پروگرام کی میزبانی کی۔ ان پانچ کلیسیائوںمیں سے جس میں بھی پروگرام ہوتا، ہر شام کو لوگ وہاں تشریف لاتے۔ اِن پروگراموں میں 5 واعظین تھے(اس خط کے اختتام پرآپ اِن 5 واعظین کے ناموں کی فہرست دیکھ سکتے ہیں)جواِن کلیسیائوں میںجا کراپنی اپنی باری پربولتے تھے۔ ہر روز شام کوہر کلیسیا میں سے اسی طرح کی رپورٹ ملتی تھی۔

امریکہ کے ایک علاقے میں جس طریقے کو وُہ اپنائے وُہ بیداری کیلئے دعوت دینے کا ایک لاثانی طریقہ تھا ۔اس کیلئے کسی ‘‘شخص’’ پر سے نظریں ہٹا کر بیداری کے پیغام پرنظریں جمانے کی بات تھی۔ پیغام میںواعظین کا ایک دُوسرے سے بہت اتفاق تھا جس کے سبب سے کلیسیائوں میں اتفاق کی رُوح پیدا ہو ئی۔ خُدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ میں اَپنے لوگوں میں اِتفاق کی قدر کروں گا۔ جن دِنوں ہم نے ٹینیسی میں خِدمت کی اُن دِنوں میں دِن کے وَقت بہت ہی حیران کُن باتیں ہوئیں۔اِن حیران کُن باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ لوگ مسلسل تمام میٹنگزمیں جمع ہوتے رہے۔ دورانِ عبادات ہر چرچ لوگوں سے بھرا ہوتا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر حیران کُن بات ایسے لوگ تھے جن سے وُہ چرچ بھرے ہوئے تھے۔ لوگوں میں توجہ دینے کی ایک ایسی رُوح تھی جو امریکہ میں ا س سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی۔ پرستش کے شروع ہونے سے لے کر جب تک کہ میں اپنا پیغام ختم نہ کرتا میٹنگ میں نہایت ہی خاموشی اور توجہ دینے والی روح کا احساس ہوتا رہا۔

اِن تمام کلیسیائوں میں اپیل کرنا بھی حیرانگی کا سبب ہوا۔ لوگ بڑی تعداد میں اپنی زِندگی میں خُدا کی طرف سے بیداری کے متلاشی بن کر اسٹیج کی طرف آئے۔ ایسا صرف کسی ایک کلیسیا میں نہیں بلکہ ہر کلیسیا میں ہو اجس نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ مثلاً جب میں ایک چرچ میں اپنے پیغام کے اختتام کی طرف آیاتو اسٹیج لوگوں سے بھر گیا۔ اسٹیج پر کُچھ وقت دُعا میں گُزارنے کے بعد میں نے عبادت کا اختتام کیا۔ تاہم پرستار مسلسل پرستش کرتے رہے اور اور زیادہ لوگ مذبح پر تشریف لائے۔جب اُنہوں نے پرستش کرنا ختم کیا تو اور لوگ آئے۔ یوں لگتا تھا کہ شاید ہم میٹنگ کا اختتام نہ کر پائیں۔ لوگ خُدا کی حضوری میں کھڑے رہے، بیٹھے اور آنسو بہاتے رہے۔

یہ پروگرام ہماری کلیسیا کی طرف رہنمائی کر رہے تھے۔ ہم نے اس پروگرام کیلئے بڑے مضمون کے طور پرجو نام استعمال کیا وُہ‘‘بیداری کیلئے دِل کی پُکار’’تھا۔ تاہم وہاں محض مسیحی ہی نہیں تھے جو بیدارہوئے بلکہ مُختلف پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ ان پروگراموں میں مسیح کے پاس آئے۔ ایک رات کو ایک جوڑے نےاَپنا دِل خُداوند یسوع مسیح کودیا۔ اگلی رات اُنہوں نے بپتسمہ لیا۔ میٹنگ میں آنے سے پہلے اُن کی ازدواجی زِندگی کی نوبت طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم اُس رات چرچ کے بپتسمہ کے حوض پر اِن دو دِلوں کو پھر سے محبت کی ڈوری سے باندھا۔ بپتسمہ کے بعد وُہ ایک دوسرے کے گلے مِلے اورعرصہ دراز کے بعد ایک دوسرے کا بھوسہ لیا۔

ایک اور شخص نے گواہی دی کہ خُدا نے اُس کی زِندگی کو تبدیل کیا ۔ اگرچہ پہلے وُہ اپنی کلیسیا میں بطورِ ایلڈر تھا تاہم کُچھ ماہ پہلے اُس نے ایک لڑائی کی تھی۔ اِس آدمی نے بتایا کہ بچپن سے ہی اُس کے دِل میں کس قدر نفرت اور کڑواہٹ بھری ہوئی تھی۔ وُہ بات تو کرتا تھا کہ لیکن اپنے غصہ کو کئی سالوں تک دبائے رکھتا تھا تاکہ وُہ ایساشخص نہ بن پائے جیسا خُدا چاہتاتھا کہ وُہ بنے۔ تاہم اُس نے بتایا کہ خُدا نے کس طرح سے اُس کو یہ بتانے کیلئے کام کیا کہ تیرے غصے اورکڑواہٹ کی جڑ تیرا غرور اور گھمنڈ ہے۔ چنانچہ خُدا نے اُس کو توڑا۔ اُس نے توبہ کی اور خُدا سے بھی اور پھر کلیسیا سے بھی معافی مانگی۔ شاید آپ کو معلوم ہو ہی رہا ہو کہ میں امریکہ میں بیداری آنے کے لئےاس قدر مثبت سوچ کیوں رکھتا ہوں۔ خاندان بحال ہوئے۔ غصہ وَر لوگ تبدیل ہو گئے۔ خُدا کی قُدرت نے پیغام میں مداخلت کی۔ اسٹیج بھوکے دِلوں سے بھر گیا جن کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ خُدا نے ابھی ہمارے وسیلہ سے کام ختم نہیں کیا بلکہ ہماری سرزمین میں وُہ اور بھی بڑے کام کرنا چاہتاہے۔

مہربانی سے ایس ٹی ایم کیلئے دُعا کرتے رہیں تاکہ ہم خُداوند کے نام کا اسی طرح چرچا کرتے رہیں۔ میں اپریل کے اختتام پر ایک ایسے ملک میں خِدمت کر رہا ہوں گاجہاں مسیحی لوگوں کو ستایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جنوبی افریقہ میں بھی تاکہ مئی میں بیداری کے تعلق سے قومی لیول پر کانفرنس کروں۔ خُدا سے دُعا کریں کہ وُہ اِن سب جگہوں پرجہاں وُہ مجھے بھیجتا ہے بولنے کیلئے اپنی حکمت عنایت فرمائے۔ خُدا آپ کو برکت بخشے اوراُس کی بادشاہی کے کام میں آپ کی محبت اور شراکت کیلئے بہت بہت شکریہ۔

Sammy Tippit
سیمی ٹپٹ

سائوتھ ایسٹ ٹینیسی میں ہیئرٹ کرائی ریوائیول کے واعظین: ہنری بلیک ابی، فرنسوئس کار، جان میک گریگور، برائن پولس اور سیمی ٹپٹ۔