Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

news

دِل کی پُکار۔۔۔۔ سائوتھ افریقہ

آج کی رات ایک معجزہ ہے۔ خُدا نے اَپنا فضل ظاہر کیا ہے۔اَب میں یہ دُعا کرتا ہوں کہ وُہ اپنا جلال بھی ظاہر فرمائے’’۔ جب وُور سسٹر سائوتھ افریقہ میں سیمی ٹپٹ قوم کو روحانی بیداری کیلئے للکارنے کو کھڑے ہوئے تو خوشی کے مارے اُن کی آواز پھٹنے لگی۔ سُننے میں آیا کہ سیمی کی آواز جہاں وُہ تھے وہاں سے تقریباً دو کلو میٹردور تک سُنائی دے رہی تھی۔

اس معجزہ کے بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ۔۔۔ ایک دِن پہلے سے بارش برس رہی تھی اور ہوا بڑی تیز چل رہی تھی۔ تاہم جب سیمی کلام سُنانے کیلئے اُٹھے تو بارش تھم گئی اور تیز و تُند ہوائیں موقوف ہو گئیں اور سیمی شہر کے بڑے چوک میں کھڑے ہو کر لوگوں کو بیداری کیلئے للکارنے لگے۔ اینگُس بُکان نے اگلے دِن بڑے خوشگوار موسم میں ایک فلم کے مضمون پر کلام سُنایا جس کا نام‘‘آلو کی طرح کا ایمان’’ ہے۔ بروز اتوار جب سیمی اور بُکان نے لوگوں کواُس بڑے اسکوائر میں للکارا تو ایک مرتبہ پھر شہر پر بارش برسنے لگی اور آندھی چلنے لگی۔

سیمی اور بُکان کے پیغام کے اختتام پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ ٹپٹ نے 2 کرنتھیوں14-1:7 سے کلام پیش کیا۔ سیمی نے بیان کیا کہ رومانیہ میں کیسے انقلاب آیا۔ اُنہوں نے بیان کیا کہ اس سے پہلے کہ خُدا جواب دیتا رُومانیہ کے لوگوں نے کیسے ایک عشرے سے زائد عرصہ تک دُعاکی۔ ‘‘خُدا کی طرف سے یہ ایک ایسا لمحہ تھا کہ خُدا کے روح کی ایسی آندھی چلی کہ مُلک میں سے دہریہ پَن کی رُوح کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔ وُہ خُدا جو رُومانیہ کا ہے وُہی سائوتھ افریقہ کا بھی خُدا ہے۔ رُومانیہ کا خُدا امریکا کا بھی خُدا ہے۔ وُہ کل آج بلکہ ابد تک یکساں ہے’’۔ یوں امریکہ کے اس مبشر نے قوم کو بڑٰی آواز سے للکارا۔

بُکان نے لوگوں کو توبہ کرنے اوریسوع مسیح پر ایمان لانے کے بارے میں کلام سُنایا۔ بُکان سائوتھ افریقہ کے ایک کسان تھے جنہیں خُدا اس ملک میں بڑی قُدرت کیساتھ استعمال کر رہا تھا۔ سات سال پیشتر اُنہوںنے ایک کانفرنس کا آغاز کیا جس کا نام ‘‘سورمے’’ تھا۔ گُزرے سال اس کانفرنس میں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد نے شرکت کی۔ تین ہفتے پہلے اندازہ لگایا گیا کہ شرکا کی تعداد تین سے چار لاکھ تھی جو بُکان کے کھیتوں میں خُداوند کی پرستش کیلئے اپنے خیمے لگائے ہوئے تھے۔

وُورسسٹر میں جو باہرکُھلی فضا میں ہونے والا پروگرام تھا وُہ سائوتھ افریقہ کی ہیئرٹ کرائی کانفرنس کا حصہ تھا۔ وُور سسٹر میں یہ پروگرام وُوسسٹر میں ایک سو پچاسویں بیداری کی سالگرہ پر کئے گئے جو اینڈریو مرے کی رہنمائی میں شروع ہو ئی تھی۔ اپریل 1860 میں سارے وُوسسٹر میں خُدا کی بیداری کی ایک آندھی چلی۔ یہ وُہی چوک تھا جہاں سیمی اور بُکان نے کلام سُنایا۔

1860 کی دُعائیہ میٹنگ میں ایک پندرہ سالہ لڑکی روتے ہوئے خُدا کے حضور دُعا کرنے لگی۔ جب وُہ خُدا کی پرستش کرنے لگی توایسی زور کی رُوحانی آندھی چلی کی کانفرنس میں ایک ایک آدمی پھوٹ پھوٹ کر رُونے لگا۔ اینڈریو مرے نے سمجھا کہ حالات بے قابو ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کانفرنس کا اختتام کر دینا چاہئے لیکن وُہ ایسا نہیں کر پائے۔ پروگرام کے دُوسرے دِن بھی ایسا ہی ہوا۔ اینڈریو مرے نے پھر بھر پُورکوشش کی کہ اِس طرح کی بے ترتیبی کو ختم کیا جائے لیکن وُہ ایسا نہ کر پائے۔ چنانچہ ایک امریکی خاتون نے مسٹر مرے سے مخاطب ہو کر کہا‘‘میں ابھی ابھی امریکہ سے آئی ہوں اور یہی کُچھ وہاں بھی ہو رہا ہے’’۔ یقیناً یہ خُدا کا کام ہے۔ تب مسٹر مرے نے جانا کہ یہ خُدا کے رُوح کی ایک لہر ہے اور اس بیداری کیلئے رہنمائی کرنا شروع ہو گئے۔

گُزرے ہفتے اِس کانفرنس میں پیغام رساں خُدامِ دین نے محسوس کیا کہ یہ 1860 والی بیداری کی ایک لہر ہے۔ ان شرکا میں سے کئی پریٹوریا میں بڑے مورلیٹا ڈَچ ریفارمڈ چرچ کے پاسبان تھے۔ بُکان کے پیغام کے بعد سائوتھ افریقہ کے بنی موسٹرٹ نے اسی چوک میں نوجوانوں کے حوالے سے کلام سُنایا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کانفرنس میں دیگر امریکی پاسبانوں نے بھی خُد اکا کلام سُنایا۔ اس ہفتے کے دوران واعظین کو مختلف جماعتوں میں جا کر کلام سُنانا تھا۔سیمی نے اتوار کی شب کو مانٹاگو میں کلام سُنانا تھا۔ 1860 والی بیداری کا تجربہ جو مانٹاگو میں ہوابالکل اُسی وقت اِس کا تجربہ وُورسسٹر میں بھی ہوا۔ ٹپٹ کت کلام سُنانے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے ردِعمل کا اظہار کیا اورمانٹاگومیں اتوار کی شام کی عبادت میں سینکڑوں کی تعدا د میں لوگوں نے اَپنی زِندگی خُداوند کے سپرد کر ڈالی۔

ہفتے کے روز وُور سسٹر میں اینگس بُکان نے لوگوں کو بتایا‘‘بیداری موجود ہے’’۔ اُنہوں نے لوگوں کو بتایا کہ دیکھو کیسے کئی ہفتے پہلے ہی سے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ میرے کھیتوں میں آ کر اپنے خیمے لگائے ہوئے ہیں تاکہ خُدا کی پرستش کریں اوراس کا کلام سُنیں۔ سائوٹھ افریقہ میں بھی یقیناً کُچھ ہو رہا ہے۔ موریلیٹا میں ہیئرٹ کرائی کانفنرس پریٹوریا چرچ میں اس ہفتے بھی جاری رہے گی۔ سائوتھ افریقہ کی اس ہیئرٹ کرائی کانفرنس کے ڈائریکٹر فرینکوئس کارنے اور ایک واعظ نے یہ کہا کہ میرا ایمان ہے کہ خُدا سائوتھ افریقہ میں کوئی خاص کام کر رہا ہے۔ وُہ اپنے مُلک میں ایک عظیم بیداری کے آنے کے آرزُو مند ہیں۔ اُنہوںنے کہا کہ اس طرح کی بیداری کیلئے سالہا سال سے میں دُعا کر رہا ہوں جس کا کُچھ جواب اس کانفنس میں مُجھے مِل گیا ہے۔

ہم اپنے تمام ایس ٹی ایم کے دوستوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس ہفتے اور اگلے ہفتے اس کانفرنس کیلئے دُعا کرتے رہیں۔ ٹپٹ، بُکان، کار اور دیگر واعظین موریلیٹا اور جوہانسبرگ اور پریٹوریا کے علاقے میں کلام سُنائیں گے۔