Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

news

کانگو۔۔۔۔۔۔۔۔ حادثے میں اُمید

بروز پیر21جون 2010 گئےشام ۔۔۔۔ ایسے ہوا کہ ریل گاڑی کے ایک عام سے سفر کا پوائنٹ نوئر سے آغاز ہوا جو کانگو کا اقتصادی سینٹر ہے اور یہ سفر برازاویل کی طرف ہو رہا تھا جو کہ مُلک کا دار الخلافہ ہے۔ شاید اُس شام کسی نے دیر سے غور کیا ہو کہ یہ ریل گاڑی کس طرح کھچا کھچ مسافروں سے بھری ہوئی عام رفتار سے تیز سفر طے کر رہی تھی لیکن یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اِس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ جب پوائنٹ نوئر سے قریباً 40 میل دُور یہ ریل گاڑی موڑ مُڑنے لگی تو چار بوگیاں پٹڑی سے اُتر کر دُور وادی میں جا پڑیں۔

لوگوں کی چیخ و پُکار سُنائی دے رہی تھی۔ لاشیں ایک دوسرے سے لگ رہی اور اُڑ رہی تھیں۔ پھر انتہائی خوف زدہ اور پریشان حال مسافروں کیساتھ یہ ریل گاڑی گہری وادی میں جا پڑی۔ پھر مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔ تقریباً 100 مسافروں کا ہمیشہ کیلئے خاموش ہو جانا یونہ وُہ جو لقمہ اجل ہو گئے ملک کی انتظامیہ کوبلند آواز سے پکار رہے تھے۔700 سے زائد زخمی مسافروں کی چیخ و پکار نے پوائنٹ نوئر کو ہلا کر رکھ دیا جہان خاندان کے افراد سے ریلوے اسٹیشن بھرا ہوا تھا تاکہ اپنے رِشتہ داروں کے بارے میں سُنیں کہ وُہ زِندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔

حکومت نے اعلان کیا کہ جون 26 تا 28 کو سوگ کے ایام ہو ں گے۔کانگو کی تاریخ میں یہ بہت ہی بڑا حادثہ تھا۔

بروز جمعہ 25تا 27جون 2010کو ایک عالمی مبشر بنام سیمی ٹپٹ نے پوائنٹ نوئر میں بشارتی عبادات کے سلسلے کا آغاز کیا جن کا اہتمام سارے شہر کی مقامی کلیسیائوں نے کیا ہو اتھا۔ ٹپٹ نے ان عبادات میں کلام سُنانے کیلئے کئی ماہ پہلے سے پروگرام بنایا ہوا تھا۔ تاہم سفر کی دُشواریوں کے سبب سے اِن عبادات کو چھ ماہ بعد کرنا پڑا۔ منتظمین میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ وُہ وقت عبادات کیلئے کیسا پیچیدہ وقت ہو گا۔

ریل گاڑی کے اِس حادثے کے سبب سے ساے ملک میں سوگ منایا گیا۔ ٹیلی وژن، ریڈیو اور خبر رساں اداروں نے سیمی سے کہا کہ اِس حادثے کے شکار لوگوں کیلئے کُچھ حوصلہ افزائی کے اَلفاظ کہیں۔ ٹیکساس کے اِس مبشر نے حادثے کے شکار لوگوں کے لواحقین سے اظہارِہمدردی کرتے ہوئے اُن کیلئے دُعا کی۔

قومی اِعتبار سے سوگ کے پہلے دِن پوائنٹ نیرو کے ہزاروں شہریوں میں ایک کُھلی فضا میں کلام کیا کہ ‘‘زِندگی میں اِس طرح سے آنے والے طوفانوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے’’۔ سامعین نے نہ صرف بڑی توجہ سے کلام سُنا بلکہ ردِ عمل کا اظہار بھی کیا۔ سینکڑوں ایسے لوگ تھے جنہوں نے اَپنے دِل یسوع کو دیئے۔ صلاحکارُوں نے اُن کیلئے دُعا کی اور اُن کی مدد بھی کی۔

انگولہ کے مسیحی رہنمائوں کی دعوت پر ٹِپٹ کانگوآئے جہاں اُنہوں نے گزشتہ چند سالوں سے کئی بشارتی عبادات کیں۔ جب کانگو کے رہنمائوں نے اِن عبادات کے بارے سُنا تو انگولہ کے رہنمائوں سے درخواست کی کہ سیمی سے کہیں کہ کانگو میں بھی اِس طرح کی عبادات کریں۔ اِن عبادات سے پیشتر نئی کلیسیائوں کے قیام کیلئے ایک سیمینار کیا گیا اور یہ منصوبہ بنایا گیا کہ جن لوگوں نے مسیح کو اَپنا دِل دیا اُن سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں سے نئی کلیسیائوں کا آغاز کیا جائے۔

ٹپٹ نے کہا‘‘لوگوں کو عظیم اُمید کی ضرورت ہے۔ یہ خُدا کی مرضی تھی کہ ہم صحیح وقت پر، صحیح مقام پر اور صحیح پیغام کیساتھ یہاں آ موجود ہوں۔ میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ خُدا کس طرح کسی پیچیدہ سے وقت میں میرا پروگرام مرتب کرتا ہے کہ میں صحیح مقام پر صحیح طریقے سے کام کر سکوں۔ پوائنٹ نوئر میں اُس نے ایسا ہی کیا۔لوگوں نے اَپنے طوفانوں میں بھی اُمید کو حاصل کیا’’۔