Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
کیا فاتحانہ مسیحی زندگی گزارنا واقعی ممکن ہے؟

س بات پر حیران ہونے کیلئے کسی شخص کا کئی سالوں سے مسیحی ہونا لازمی نہیں ۔کہ « کیا فتحمندی کی مسیحی زندگی بسر کرنا واقعی کوئی حقیقت ہے؟ ۔کیا میرے پاس خدا کی طرف سے معافی کے اور ابدی نجات کے وعدوں کا ہونا کافی ہے یا میں واقعی اپنی پرانی عادات اور روِشوں پر فتح پاسکتا ہوں؟»۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر دیانتدارہوں تو ایسے بہت سے مسیحی ہیں جو نیک مقاصد کیلئے ایسے سوالات پوچھتے ہیں۔

گر ہم صرف اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو بے شمار ایسے مسیحی ملیں گے جونئے عہد نامے میں بیان کردہ فاتحانہ مسیحی زندگی کے معیارسے کہیں زیادہ دور اور گِری ہوئی زندگی بسر کرتے ہیں۔ مجھے ایسے بے شمار مسیحی لوگوں سے مِلنے کا اتفاق ہوا جو اتنے زیادہ مسائل اور مشکلات سے گھِرے ہوئے ہیں کہ میں نے خیال کیا کہ شاید ان کے مسائل اور حالات کا کو ئی خاطر خواہ حل نہیں ہے۔پھر میں نے گِردو نواح میں کئی مسیحی قائدین کی طرف دیکھا تو اکثر شکست خوردگی، پست ہمتی بلکہ پوری مسیحی برادری میں مایوسیوںکے بادل چھائے دیکھے۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍمسیحی برادری میں شکست خوردگی ایسی عام سی بات ہو چُکی ہے کہ بہتوں نے فتح مندی کے تعلق سے بائبل مقدّس کے اہم اُصولوں کو ترک کر دیا اور بائبل مقدّس سے ہٹ کرنفسیاتی اور انسانی نظریات کے پیرو ہو گئے ہیں۔حالیہ سالوں میں مسیحی برادری میں شکست خوردگی کی شرح اس قدر بڑھ گئی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے صلاحکاروں کی فیکٹری لگ گئی ہے۔اس کے نتیجے میں انسانی سوچ کا رحجان اس طرف ہو رہا ہے کہ کیا واقعی فتح ہے بھی یا نہیں۔

اس سے بھی زیادہ بھیانک بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کی شکست خوردہ زندگی کو دیکھتے ہوئے اپنی شکست خوردہ زندگی کو بھی ویسا ہی دیکھتے ہیں۔بہت سے مسیحی جنسی خواہش، نفرت، غصہ ، پریشانی اور دِل کی کئی حیلہ بازیوں کے اسیر ہیں جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ مسیحی ہونے کے بعد وہ ان لعنتوں میں مبتلا نہیں ہو نگے۔ہم میں سے اکثر کیلئے ضروری نہیں کہ ہمیں بتایا ہی جائے کہ ہم شکست خوردہ ہیں۔ہمیں ہر روز اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حال ہی میں مجھے ایک مسیحی خاتون مِلی جس نے بلاکِسی تکلّف کے مجھ سے کہا کہ میں ایک اور عورت کے شوہر کیساتھ جنسی گناہ میں مبتلا رہی۔جس طور پر اُس نے اپنے اس گناہ کا اقرار کیا اس سے یو ں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس غلط رِشتے میں فتح کی کوئی اُمّید نظر نہیں آتی ۔کئی سال پہلے میں ایک پاسبان سے مِلا جو حرامکاری میں مبتلا تھا۔اُس نے مجھے کہا کہ «میں نے دُعا کی اور کہا کہ اے خدا میرے جو احساسات اس عورت کیلئے ہیں ان احساسات سے مجھے آزاد کر لیکن میں غلبہ نہ پا سکا۔لہذا میں نے وہ رِشتہ قبول کیا جو خدا مجھے سے توقع کرتا ہے»۔بے شمار ایماندار ایسے ہیں جنہوں نے شکست کو اپنی منزل کے طور پر قبول کر لیا ہے کیونکہ لگتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں فتح کو اور اُس کے منبع کو قبول نہیں کیا ۔

میں نے اکثر مسیحیوں کو سُنا جن کی زندگی میں فتح نہیں اور بہانہ بازی کیلئے کلام کا حوالہ دیتے ہیں۔زیادہ تر لوگ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے داﺅد بادشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ« آخر وہ بھی تو خدا کے دِل کا سا آدمی تھا تو بھی وہ جنسی گناہ اور قتل کا مُرتکب ہوا۔اگروہ خدا کا بندہ اورخدا کی بادشاہی میں ایک قائد کی حیثیت سے تھا تو پھر ہمیں اپنے آپ سے بہتر توقع کیوں کرنی چاہئے»؟بائبل مقدّس ایسے بے شمار خواتین و حضرات کی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ خدا کے لوگ ہونے کے باوجود وہ شکست خوردہ ہوئے۔پولس رسول فرماتا ہے«چنانچہ جِس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اُسے کر لیتا ہوں »( رومیوں ۱۹:۷)۔پطرس نے یسوع کا انکار کیا اور توما نے شک کیا۔جب ایک بادشاہ ابرہام کی بیوی کا طالب ہوا تو ابرہام نے بھی اُس سے جھوٹ بولا۔موسیٰ بھی فرعون کے خوف سے شکست خوردہ ہو کرمدیان کے بیابان کی طرف بھاگ نِکلا۔پوری بائبل کی جلدی سے سیر کرنے سے کوئی بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ایمانداروں کیلئے فتح کا کوئی تصوّر نہیں ہے۔

لیکن ایک اور وجہ بھی ہے کہ بہت سے مسیح کے پیروکارشکست خوردہ زندگی بسر کر تے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ جس جگہ پر وہ ہیں وہاں سے بدبُو آتی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ بائبل مقدّس ایک مختلف قسم کی زندگی کا بیان کرتی ہے۔بہت سے لوگ گناہوں کی وادی سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن اُنہوں نے اس طرح کی زندگی کو اپنی روحانی منزل بنا لیا ہے۔لوگ جس حقیقت کوسمجھ نہیںرہے وہ یہ ہے کہ ایک شریر مالک ہے جس نے اُنہیں قائل کر لیا ہے کہ تُم اسی گندگی میں ہی رہو۔اُنہوں نے شیطان کے جھوٹ کا یقین کر لیا ہے۔شیطان انسانی تخلیق سے آج تک وہی پرانی کہانی سُنا تا چلا آ رہا ہے۔اُس نے ایمانداروں کی ہر نسل کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ گناہوں کی اس گندگی میں ہی زندگی بسر کرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں اوریہ روحانی گندگی کا نالہ مسیحی زندگی کیلئے عام سی بات ہے۔

جب یسوع صلیب پر موا تو اُس نے ہمارے ہر دُشمن کو شکست خوردہ کر دیا۔اُس نے شیطان کو بھی شکست خوردہ کر دیا۔ابلیس کو بھائیوں پر الزام لگانے والے کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔وہ ہمیں مسلسل کہتا رہتا ہے کہ تمہارے لئے کوئی اُمّید نہیں ۔وہ ہمیں قائل کرتا رہتا ہے کہ شکست ہماری منزل ہے لیکن وہ جھوٹا ہے۔ کلام واضح طور پر ہمیں بتا تا ہے«مگر ان سب حالتوں میں اُس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے»(رومیوں ۳۷:۸)۔بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ جب یسوع صلیب پر موا تو اُس نے شکست خوردہ شیطان کا برملا تماشہ بنایا (کُلسیوں ۱۵:۲)۔اب ہمیں ابلیس کے جھوٹ پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔شرارت کی روحانی فوجوں پر پہلے ہی سے فتح پائی جا چُکی ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

شاید سب سے بڑی کُشتی جو ہم کر رہے ہیں وہ ہمارے اندر ہی کی ہو۔یہ بنیادی طور پر وہی ہے جس کیساتھ پولس رسول نے رومیوں ۷ باب میں کُشتی کی۔وہ فتح چاہتا تھا مگر وہ اقرار کرتا ہے کہ اس (جسم) میں کوئی راستبازی بسی ہوئی نہیں ہے(رومیوں ۱۸ٍ:۷ٍ)۔یہاں تک کہ وہ سوال بھی پوچھتا ہے کہ «مجھے اس موت کے بدن سے کون چھُڑائے گا »(رومیوں ۲۴:۷)۔پھر اُس نے اپنے ہی سوال کا یہ بیان دیتے ہوئے جواب دیا«خداوند یسوع مسیح میں خدا کا شکر ہو»(رومیوں ۲۵:۷)۔ہاں پولس نے شکست کھائی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ فتح کا وسیلہ مسیح ہی ہے۔

یہ وہ عظیم سچائی ہے جو مسیحی ہونے سے پہلے میں نے کبھی نہیں سیکھی تھی۔فتحمند مسیحی زندگی کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ میں کُچھ کر کے اُسے حاصل کرلوں بلکہ یہ وہ ہے جو مسیح نے میرےے لئے حاصل کی ہے۔یہ ایسا نہیں کہ میں کیا کر سکتا ہوں بلکہ وہ ہے جو اُس نے پہلے ہی میرے لئے کر دیا ہے۔یہ» میں«نہیں بلکہ» مسیح مجھ میںہے« جو فتح کی عظیم اُمّید ہے۔میری ذمہ داری مسیح پر بھروسہ کرنا ہے۔جس طرح میں نے یسوع پر بھروسہ کیا کہ مجھے بچا اور معاف کر اسی طرح میں اُس پر ایمان رکھ سکتا ہوں کہ وہ مجھے ہر بُری خواہش اور آزمائش سے بچائے گا۔مسیح میری فتح ہے۔ہاں مسیحی فاتحانہ زندگی ممکن ہے۔یہ حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ یسوع نے فتح حاصل کر لی ہے۔ہم بس اِس بات پر ایمان لائیں۔