Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
کوشش نہ کریں بلکہ بھروسہ کریں

تقریباً ۳۰ سال پیشتر جب میں مسیح پر ایمان لایا تو میری زندگی یکسر بدل گئی۔خدا نے مجھے حرامکاری اور خود غرضی سے جنہوں نے مجھے کئی سالوں سے غلام بنارکھاتھا آزاد کر دیا۔خدا نے جو کُچھ میری زندگی میں کیا اُس کی وجہ سے میں حیران تھا۔میری کئی ایسی عادات تھیں جن پر میں غلبہ پانا چاہتا تھا لیکن ناکام رہا۔تاہم جب یسوع میرے دِل میں آ گیا تو میں واقعی آ زاد ہو گیا۔

لیکن مسیح کی پیروی کرنے کے کئی ماہ بعد بھی مجھے محسوس ہوا کہ ایک ایسی عادت ہے جوابھی تک میری جان نہیں چھوڑ رہی ہے۔یہ حسد کی انتہا تھی۔جب کوئی لڑکا میری ہونے والی بیوی سے بات کرتا تومیں غصّے سے لال پیلا ہو جاتا۔میں اس قدر غم و غصے سے بھر جاتا کہ دِل چاہتا ہے کہ اس لڑکے کو دو لگا دوں۔لیکن میں جانتا تھا کہ یہ غلط ہے اور اس طرح کے احساسات سے خدا خوش نہیں ہوتا۔اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا کہ انتہائی کوشش کروں گا کہ میں کِسی سے حسد نہ کروں۔مجھے معلوم نہیں کہ کبھی آپ نے کوشش کی کہ نہیں کہ حسد نہ کریں لیکن میں آپ کو دوستانہ مشورہ دیتا ہوں۔کوشش نہ کریں ، یہ ناممکن ہے۔

میں نے جِتنی زیادہ کوشش کی کہ حسد نہ کروں اُتنا ہی زیادہ ہو تا گیا۔میں اپنے دانت پیستا رہتا اور جتنی کوشش ہو سکتی تھی کرتا کہ حاسد نہ بنوں۔میں نہیں جانتا تھا کہ کیا کروں۔میں نے اور زیادہ کوشش کی مگر بری طرح سے ناکام ہوا۔ جتنی زیادہ اس اُلجھا دینے والے گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میں اس کا اور زیادہ غلام بنتا چلا جا رہا ہوں۔

چنانچہ ایک دِن میں نے فتحمندمسیحی طرزِ زندگی کا بھید سیکھا کہ یہ کوشش سے نہیں بلکہ ایمان سے ممکن ہے۔یہ ایسا نہیں کہ میں کیا کر سکتا ہوں بلکہ یہ کہ میری فتح کیلئے مسیح نے پہلے ہی کیا کر دیا ہے۔مجھے صرف یسوع پر ایمان لانا تھا کہ اُس نے میرے لئے فتح حاصل کر لی ہے۔وہ بالکل میری طرح یا کسی بھی شخص کی طرح ہر اعتبار سے آزمایا گیا تو بھی وہ بے گناہ رہا۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ پہلے ہی حسد پر غالب آیاہے۔مجھے صرف اُس پر ایمان لانا تھا کہ وہ مجھ میں رہتا ہے اور جو کام اُس نے ۲۰۰۰ سال پہلے کئے وہ اب بھی کرے گا۔مجھے صرف کوشش کرنا بند کر کے مسیح پر بھروسہ کرنا تھا اوریسوع پر یہ ایمان لا نا تھا کہ وہ میرے حسد پرمجھے غلبہ بخشے گا۔وہی یسوع جِس نے مجھے بچایا اور میرے گناہ معاف کیئے وہ اس لائق ہے کہ گناہ پر غلبہ پانے کیلئے میری فتح کو محفوظ رکھے۔

واقع میری زندگی میں وقوع پذیر ہوا۔وہ احساسات جو غصے اور تحفظ کے نہ ہونے کے تھے ختم ہو گئے۔لیکن زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ میں پھر سے حسد کی آزمائش میں پڑ گیا اور یسوع کی طرف راغب ہو کر کہا کہ «اے خداوند میں پھر سے تُجھ پر بھروسہ کرتا ہوں کہ تُو ہی میری فتح ہے» ۔ تو پھر مجھے فتح مِل گئی۔

شیطان مسلسل واپس آتا اور مجھے آزماتا رہا لیکن میں یسوع پر مسلسل بھروسہ کرتا رہا اور اُسی کی طرف دیکھتا رہا۔کئی مہینوں کے بعد میں نے دیکھا کہ شیطان اُس طور پر مجھے نہیں آزما رہا جیسے وہ مجھے کبھی آزماتا تھا۔یقینا اب وہ مجھ سے نہیں بلکہ یسوع کیساتھ زور آزمائی کرتے ہوئے تھک چُکا ہو گا۔یسوع نے ہماری زندگیوں میں ابلیس کو شکست خوردہ کر دیا ہے۔گناہ ، ابلیس اور آزمائشوں پر فتح کا تجربہ جو ہم کر رہے ہیں وہ ہم اپنے جسم کے زور پر نہیں کر رہے۔شیطان جانتا ہے کہ ہمارا جِسم ناتواں ہے۔وہ ہماری ہر کمزوری سے واقف ہے۔وہ جانتا ہے کہ ہماری زندگی کے کون سے کمزور پہلو ہیں جن پر وہ حملہ کر سکتا ہے۔اسی لئے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ اپنے آپ پر نہیں بلکہ یسوع پر مکمل طور پر بھروسہ کریں۔

جب یسوع نے اس زمین پر ۲۰۰۰ برس پہلے بے عیب اور بے گناہی کی زندگی گزاری تواُس کے وسیلے سے فتح پہلے ہی سے محفوظ و موجود ہے ۔جب وہ صلیب پر موا تو اس بات کا اعلان کیا کہ «تمام ہوا»۔اُس نے کام کو مکمل کر دیا ہے۔وہ موت تک مکمل طور پر فرمانبردار رہا۔اُس نے تاریکی کی تمام تر قوّتوں کا بر مِلا تماشہ بنایا۔تین دِن بعد وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔وہ اُن تمام دُشمنوں پرغالب آیا ہے جن کا انسان سے کبھی پالا پڑ سکتا ہے۔وہ گناہ، موت، جہنم، ابلیس اور بدروحوں پر غالب آیا ہے۔اُس کی فتح کا اعلان ہو چُکا ہے۔ہمیں صرف بھروسے سے اُس کیساتھ شامل ہونے کی ضرورت ہے۔

انتہائی بڑا سبق جوایک مسیحی فتحمند مسیحی زندگی سے متعلق سیکھے گا وہ یہ ہے کہ کوشش کرنے سے نہیں بلکہ بھروسے کی وجہ سے ہم کامیابی و کامرانی کا تجربہ کر رہے ہیں۔اپنے ہی زورسے گناہ پر غالب آنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک شیر دانی ایل کی غار میں ہے یا ایک جولیت جو ایک سو داﺅد کا مقابلہ کر رہا ہے اور وہ داﺅد ایمان سے معمور ہیں۔یہ مکمل طور پر شکست ہو گی۔لیکن اُس چھوٹے داﺅد کا ایمان ہماری زندگی کے کسی بھی بڑے سورما کوشکست خوردہ کر سکتا ہے۔دانی ایل نے خدا پر بھروسہ کیا اور شیروں کی قوّت جاتی رہی۔جب داﺅد نے اپنے زور پر بھروسہ کیا تو اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔سمسون جب آزمائش میں گرفتار ہوا تو وہ بھی اپنی قوّت کھو بیٹھا۔اُن کی فتح اور قوّت وہاں ہی تھی جہاںپر آج ہماری قوّت اور فتح ہے۔جب اُنہوں نے خدا پر بھروسہ کیا تو وہ مسیح کے وسیلے سے جس نے اُن سے محبت کی فاتح سے بڑھ کر ہوئے۔آپ اپنے زور پر کوشش کرنا چھوڑد یں بلکہ خدا پر بھروسہ کریں۔