Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
نجات کی یقین دہانی

فاتحانہ مسیحی طرزِ زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ نجات کا یقین نہ ہونا ہے۔اگر ہم اپنی زندگی میں خدا کی طرف سے معافی سے متعلق مسلسل شک کرتے رہیں تو شیطان ہمیںغیر موثر کر دیتا ہے ۔میں ایسے کئی مسیحیوں سے مِلا ہوں جو فتح کے مشتاق ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ مشکل میں پڑے رہتے اور اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کرتے ہیں۔اگر خدا کیساتھ ہمارے تعلق میں کوئی تحفظ نہیں تو پھر شکست یقینی ہو جاتی ہے اور فتح محض ایک خواب بن جاتا ہے۔

کئی سال پہلے کی بات ہے کہ میرا ایک دوست تھا جو اگرچہ نجات یافتہ تھا پھر بھی وہ خدا کے حضور مقبول ہونے کیلئے مسلسل کوشش کرتا تھا۔وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جہاںہر وقت لڑائی جھگڑا لگا رہتا تھا۔اُس کا باپ شرابی تھا اور جب وہ شراب کے نشے میں دھت ہو جاتا تو اپنے بچوں کی پیٹائی کیا کرتا تھا۔بعد میں جب میرا دوست مسیحی ہو گیا تو اپنے باپ کی طرح اُس کا بھی خدا سے متعلق نظریہ بڑا فرق قِسم کا تھا۔جب بھی کبھی اُس سے کوئی غلط کام ہوتا تو وہ اپنے آپ کو خدا کی نظر میں رَدّ کیا ہوا سمجھتا اور یوں وہ خیال کرتا تھا کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا کریگا۔ایک دِن ایک مسیحی رہنما میرے دوست کو شاگردیت کی طرف لانے لگا۔اُس نے نہ صرف اُسے کلامِ خدا سے سچائیاں ہی سِکھائیں بلکہ وہ خود بھی اِن سچائیوں کے اعتبار سے میرے دوست کیلئے نمونہ تھا۔

جب کبھی میرا دوست ناکام ہوتا تو یہ رہنما اُس کی حوصلہ افزائی کرتا۔اُس نے اُس کی بے عِزتی نہیں کی بلکہ اُسے دِلاسہ دیا۔جب میرا دوست روحانی طور پر گِرتا تو یہ رہنما اُسے اُٹھاتا ۔یوں میرا دوست روز بروز اپنی زندگی میں فتح کا تجربہ کرنے لگا۔اُس کے بعد میں نے کئی سالوں تک اپنے دوست کو نہیں دیکھا۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ وہ میرے شہر آیاتو اُس نے مجھے فون کیا اور کہا کہ کیوں نہ ہم رات کا کھانا اکھٹے کھائیں۔اُس کی زندگی میں جو تبدیلی آئی وہ قابِل تعریف تھی۔ابھی وہ محفوظ تھا۔ابھی وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ سب کی نظر میں مقبول ٹھہروں۔وہ جانتا تھا کہ خدا نے مجھے قبول کر لیا ہے اور اُس نے مجھے آزاد کر دیا ہے کہ میںمسیح میں ترقی پاﺅںاور بڑھوں۔

بائبل مقدّس شیطان کو بھائیوں پر الزام لگانے والا کہتی ہے۔وہ خدا کو الزام دیتا ہے۔وہ ہمارے ہم ایمان بھائی کی طرف سے ہم پر الزام لگاتا ہے۔لیکن ہم اُس وقت سب سے زیادہ دُکھی ہوتے ہیںجب ہم اُس کے الزامات خود قبول کر لیتے ہیں۔ہم وہی بنتے ہیں جیسا ہمارا ایمان ہوتا ہے۔جو کُچھ خدا کہتا ہے اگر ہمارا ایمان اُس پر ہو تو ہم اپنے آپ کو مسیح کے فضل اور عِرفان میں ترقی پاتے ہوئے دیکھیں گے۔اگر ہم ابلیس کے الزامات کا یقین کریں گے تو ہم شکست خوردہ ہو جائینگے۔

میں کسی نئی تعلیم کی بات نہیں کر رہا اور نہ ہی اسے کوئی نیا نام دے رہا ہوں۔میں پرانے وقتوں ، پرانے طرز یعنی خدا کے وعدوں کی تعلیم پر بھروسہ کرنے کی بات کر رہا ہوں۔خدا کے کلام میں لکھا ہے«میں نے تُم کو جو خدا کے بیٹے پر ایمان لائے ہو یہ باتیں اس لئے لکھیں کہ تمہیں معلوم ہو کہ ہمیشہ کی زندگی رکھتے ہو» (۱-یوحنا ۱۳:۵)۔بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ ہم جان سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے۔ یہ ہماری آرزو ، سوچ یا اُمّید نہیں کہ ہمارے پاس ابدی زندگی ہے۔ہم اس بات پر مکمل یقین کر سکتے ہیں کہ ہم خدا کے فرزند ہیں اور یہ اسلئے نہیں ہے کہ ہم نے خدا کے فرزند ہونے کیلئے کُچھ کیا ہے بلکہ یہ خدا کے فضل کے وسیلے سے ممکن ہے۔

جو آیت ہم نے اوپر پیش کی ہے اُس سے پہلے والی آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کِس طرح سے یقین کیساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے۔یہاں لکھا ہے کہ «وہ جس کے پاس بیٹا ہے اُس کے پاس زندگی بھی ہے»(۱-یوحنا ۱۲:۵)۔ہم کِس طرح جانیں کہ ہمارے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے؟اگر ہماری زندگیوں میں خد اکا بیٹا ہے تو پھر ہم اس بات پرمکمل طور پر یقین کر سکتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ ہمیشہ کی زندگی ہے کیونکہ یہ بات کلامِ خدا کہتا ہے۔لہٰذا ضرور ہے کہ ہم خدا کے وعدوں کا یقین کریں۔

خدا کے ساتھ مستحکم رِشتے کے سبب سے ہی فتح کی ندیاں بہنا شروع ہو جاتی ہیں۔خدا کے کلام کے ابدی وعدوں پر یقین کرنے سے ہی یہ ممکن ہے۔یہ باپ کی عظیم اور عملی محبّت کے علم کی بات ہے جو اُس کے اپنے بچوں کیلئے ہوتی ہے۔اسی لئے بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ «مسیح جو ہم سے پیار کرتا ہے اُس میں ہم فتح پانے والوں سے بڑھ کر ہیں»۔ہم صرف فاتح نہیں ہیں بلکہ ہم فاتح لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔

جب ہم اس عظیم سچائی کو جان لیتے ہیں تو پھر ہم عقاب کی مانند بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔ یہ ایسا اعتماد و بھروسہ ہے جو ہمارے کردار کی تعمیر کرتا ہے۔جیتنے والے ہمیشہ پُر اعتماد ہوتے ہیں لیکن وہ ضرورت سے زیادہ بھی پُر اعتماد نہیں ہوتے۔صرف اُن کو اعتماد ہوتا ہے۔جیتنے والے اپنی قوّت کا راز جانتے ہیں۔یہ بات اُن کے دل و دماغ میں پختہ ہوتی ہے اور یہی بات اُن کے دِل و دماغ پر چھائی رہتی ہے۔یسوع مسیح میں ایماندار ہونے کی حیثیت سے ہماری مسیحی زندگی میں فتح کی قوّت حتمی ہے کیونکہ یسوع نے اُس فتح کو ہمارے لئے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ہم اپنی فتح میں نہیں بلکہ اُس کی فتح میں آگے بڑھتے ہیں ۔فتح آسمان پر ٹھہرائے گئے مستقبل سے ہی مِلتی ہے اور وہ اس دھرتی پر ہمارے نجات دہندہ کیساتھ محفوظ تعلق اور مسیح میں جو ہمارا مقام ہے اُس پر مکمل بھروسے سے ہی ممکن ہے۔اس دُنیا میں سب سے زیادہ محفوظ مقام جہاں ہم رہ سکتے ہیں وہ مسیح میں ہے اور یہ جاننا کہ وہ ہم میں رہتا ہے۔یہی وہ مبارک اُمید ہے جو ہمیں حاصل ہے۔