Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
شکوک و شبہات کاحل

مجھ سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کو خدا سے متعلق شکوک ہیں؟ اکثر لوگ یہ سُن کر حیران ہو جاتے ہیں کہ ایک مسیحی مصنف، ایسا مبشر جو ساری دُنیا میں کلام سُنا تا ہے اور ۳۳ برس سے مسیح کا پیروکار ہے اورابھی تک شکوک کی کشمکش میں مبتلا ہے؟۔لیکن میں اقرار کرتا ہوں کہ میں کبھی کبھی شک کرتا ہوں۔میں نے کافی عرصہ پہلے سُنا کہ اپنے عقیدے کے بارے میں شک کرنا گناہ نہیں ہے۔گناہ اُس وقت ہوتا ہے کہ جب آپ اپنے شکوک کا یقین کرنے لگتے ہیں۔

میری مسیحی زندگی کے آغاز میںمیں نے اپنے آپ کو اکثر شک کرتے ہوئے پایا۔میں کچھ ایسا کرتا جس کے بارے میں مجھے پتہ ہوتا کہ یہ خدا کی خوشی کا سبب نہیںہے۔لیکن دِل کو ٹٹولنے والے سوالات اکثر میرے گناہ کو ڈھونڈتے رہتے کہ «تُم یہ کیسے کر سکتے ہو اور پھر بھی تُم مسیحی ہی رہو۔اگر کوئی خدا ہے تو اس طرح سے کیوں ہو تارہتا ہے؟»۔

میرے مسیحی ہونے کے چند دِن بعد میں نے اپنے کمرے میں اپنے آپ کو خدا کے حضور روتے ہوئے پایا۔شکوک سے میرا دِل بھرا ہوا تھا۔کہ «کیا کوئی خدا ہے؟ میرے دماغ کو کُچھ ہو تو نہیںگیا ہے؟۔کہیں یہ کوئی جزباتی تجربہ تو نہیں ہے؟»۔ میں انتہائی اُلجھا ہواتھا۔میں نے خدا کو پکارا۔یوں لگتا ہے کہ اُس لمحے جو ایک ہی لفظ میری زبان سے ادا ہوا وہ یہ تھا کہ «یسوع اے یسوع میری مدد فرما»۔کئی منٹ تک خدا کے حضور رونے کے بعد میری روح میں دریا کی طرح اطمینان بہنا شروع ہو گیا۔روح القدس نے میری روح کے اندر کا م کیا اور گواہی دی کہ میں خدا کا فرزند ہوں۔مجھے معلوم تھا کہ میں جانتا ہوں کہ مسیح واقعی ہے۔یہ جزبات سے کہیں زیادہ گہری اور انسانی سمجھ سے بالا تربات تھی۔یہ روحانی عِرفان تھا۔

مسیحی زندگی ایک سفر کی طرح ہے۔اس سفر میں ہر گام آپ نیا سبق سیکھتے رہتے ہیں۔آپ مسلسل سیکھتے اور ترقی پاتے چلے جاتے ہیں۔ایسا شخص جو بڑھتا نہیں وہ ہمیشہ شکست کھاتا ہے۔جب میں نے اپنے شکوک کو دور کرنے کی کوشش کی تو کئی نئی باتیں مجھے معلوم ہوئیں۔میں نے سیکھا کہ یہ شکوک بجائے اس کے کہ مجھے مایوسیوں کی دلدل میں دھکیل دیں مجھے ایمان کی بلندیوںتک لے جائیں۔میں نے یہ بھی سیکھا کہ یہ شکوک کہا ں سے پیدا ہوتے ہیں۔

مسیح کے پاس آنے سے قِبل میرے شکوک بہت گہرے تھے۔یہ بڑے گہرے اور روحانی سے شکوک تھے۔میری خودی کے ساتھ وہ بھی مصلوب ہو گئے۔میرے دِل میں اس لئے شکوک تھے کیونکہ خدا کے ساتھ میرا تعلق گہرا نہیں تھا۔مجھے خدا کی طرف سے بھی کوئی یقین دہانی

نہیں تھی کیونکہ مجھے خدا سے متعلق علم ہی نہ تھا۔خدا روح ہے اور اُس کی روح میری زندگی میں حاضر نہیں تھی۔لیکن جب میں مسیح پر ایما ن لے آیا تو میں جن شکوک میں مبتلا تھا وہ محض سطحی سے تھے۔ا نسان کے باطن کا انتہائی عمیق حصہ اُس کی روح ہے۔اب میں اُس طرح کے شکوک میں مبتلا نہیں تھا کیونکہ خدا کی روح میری روح کیساتھ مل کر گواہی دیتی ہے کہ میں خدا کا فرزند ہوں (رومیوں ۸:۱۶)۔بہ الفاظِ دیگر میں اپنے باطن میں انتہائی گہرے طور پر سمجھتا ہوں کہ میں خدا کا فرزند ہوں اور خدا کا روح میرے باطن یعنی میرے دِل میں رہتا ہے۔

خدا کا روح مسلسل مجھے بتاتا رہتا ہے کہ میں خدا کا فرزند ہوں اور یسوع کا لہو مجھے تمام گناہوں سے پاک کرنے کیلئے کافی ہے۔یہ کوئی صرف علمِ الٰہی کی تعلیم نہیں بلکہ یہ تجربے پر مبنی حقیقت ہے۔ہالیلویاہ۔خدا کا روح میرے دِل میں سکونت کرتا ہے اور مجھے مسلسل بتا تا ہے کہ میں یسوع کا ہوں اور وہ میرا ہے۔میں بس اتنا جانتا ہوں کہ جو میں جانتا ہوں وہ جانتا ہوں۔یہ میرے دِل کی بات ہے اور میں اسے سمجھتا ہوں۔یہ کوئی جزباتی احساسات یا علمی باتیں نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں ۔یہ میرے دِل میں اُس کی حضوری ہے۔

پھر شکوک کا کیا ہے؟یہ کہاں سے آئے ہیں؟اگرچہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یسوع میرا ہے پھر بھی مجھے سطحی قسم کے شکوک کیساتھ دو دو ہاتھ کرنے پڑتے ہیں۔یہ شکوک میری زندگی کے اُن حصص میں پیدا ہوتے ہیں جن کا تعلق میرے دماغ اور جزبات سے ہوتا ہے۔مثلاً جب میں خدا کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس سے ہمیشہ میری باطنی انسانیت پر خوف طاری ہو جاتا ہے جو میرے دماغ اور جزبات پر اثر انداز ہوتا ہے۔پھر میں یہ سوال پوچھنا شروع کردیتا ہوں کہ کیا میں خدا کا فرزند ہوں کہ نہیں ۔اگرچہ میرے دِل میں یہ ایمان ہوتا ہے کہ صلیب پر مسیح کی موت میری معافی کیلئے کافی ہے تو بھی جب میں اس پر سوچتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں۔ میں ذہنی طور پر یہ سوچنا شروع کر دیتاہوں کہ میں خدا کا بیٹا ہوں یا ہو سکتا ہے کہ جزباتی طور پر میں اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کروں کہ پتہ نہیں میرے پاس ابدی زندگی ہے بھی یا کہ نہیں ۔جب کسی گناہ کا واقعی اقرار کیا جاتا اور میں حقیقی توبہ کر لیتا ہوں تو پھر دوبارہ سے میں اپنی نجات کے یقین پر بھروسہ کرتا ہوں۔یہ شکوک محض سطحی نوعیت کے اور عارضی تھے۔

ذہنی طور پر شکوک عموماً اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب خدا سے متعلق ہمارا نظریہ اتنا زیادہ واضح نہ ہو جبکہ جزباتی شکوک ہمارے کسی غلط کام اور رویے کی سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ہم بجائے اس کہ کہ وہ مانیں جو بائبل مقدّس خدا سے متعلق اور ہمارے متعلق کہتی ہے ہم اکثر اُن باتوں کا یقین کرتے ہیں جو ہمارا معاشرہ ہمیں اُس سے متعلق کہتا ہے۔اس کے نتیجے میں ہم شکست خوردہ ہو جاتے ہیں۔مسیح میں ہم جو بھی فتح پاتے ہیں وہ ایمان ہی کے وسیلے سے پاتے ہیں۔ایمان وہ بنیادہے جس پر مسیحی زندگی کی فتح کی عمارت قائم ہے۔لیکن ایمان کی بنیاد ماسوا خدا کے کلام کی سچائی کے کسی اور چیز پر قائم نہیں ہو سکتی۔اگر ہم اپنے شکوک پر عملی طور پر فتح پانا چاہتے ہیں تو ضرو رہے کہ ہم بائبل مقدس کے وعدوں پرڈٹ جائیں

ذہنی طور پر شکوک اُس وقت پیدا ہوتے ہیں کہ جب ہمارے پاس بائبل مقدّس کے عِلم کی کمی ہو لیکن جزباتی شکوک ہمیشہ خدا کے کلام کی نافرمانی سے پیدا ہوتے ہیں۔مسیح پر ایمان ہی کے سبب سے ہم خدا کے ساتھ رِشتے میں باندھے جاتے ہیں۔ہم اُس کے فرزند بن جاتے ہیں۔تاہم جب ہم گناہ کو اپنی زندگیوں میں موقع دیتے ہیںتوخدا کیساتھ ہمارا رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔پھر ہمیں عملی طور پر مزید خدا کی محبّت کی لمبائی، چوڑائی، گہرائی اور اونچائی کا تجربہ نہیں ہوپاتا۔ہمارے ساتھ اُس کی محبت تبدیل نہیں ہوتی۔ہم ابھی بھی خدا کے فرزند ہی ہوتے ہیں لیکن خدا کیساتھ ہماری رفاقت ٹوٹ جاتی ہے۔یہ رفاقت صرف اُسی وقت بحال ہو سکتی ہے کہ جب ہم اپنے گناہ کا اقرار کریں اوراُن سے توبہ کریں۔یہ ایسے ہی ہے کہ پاکیزگی کی راہ پر سفر کرتے ہوئے ہم اُس خدا کے ساتھ ہم رفاقت ہوں جو مکمل طور پر پاک ہے۔

خدا جو کُچھ ہماری بابت کہتا ہے جب ہم اُس پر ایمان لاتے اور اِن سچائیوں کے مطابق زندگی گزارتے اور عمل کرتے ہیں تو پھر ہم تجربے سے جانیں گے کہ ہم اُس کے فرزند ہیں۔شکوک غائب ہو جائینگے۔ایمان بڑھے گااور جنگ میں ہم فتح یابی سے ہمکنار ہونگے۔تب ہم جانیں گے کہ فاتح ہونے کا کیا مطلب ہے۔