Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
ایمان اور فتح

ہم جو مسیح کی طرف ہیں ہمیں ہارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔امیر سے غریب تک، بچے سے بوڑھے تک، پڑھے لکھے سے اَن پڑھ تک سب کا فتح پانے کا وسیلہ ایک ہی ہے۔یہ ہمارا مال و متاع نہیں نہ ہی ہماری انسانی حکمت اور نہ ہی ہمارا کوئی سرٹیفیکیٹ ہے۔مسیح نے جو کُچھ ہمارے لئے کر دیا ہے اُس کی وجہ سے ہم میں سے ہر ایک کیلئے فتح میسّر ہے۔یہ اُس کی تاریخ ہے۔اُس نے اس جنگ کو جیتا ہے۔ہماری فتح صرف اُسی وقت ہوتی ہے جب ہم اُس کی فتح میں داخل ہوتے ہیںاور وہ فتح صرف ایمان ہی کے وسیلے سے حاصل کرنا ممکن ہے۔

اگر ہم ایمان کے عظیم سورماﺅں سے متعلق پڑھیں خواہ وہ بائبل مقدّس سے ہوں یا موجودہ تاریخ سے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اُن میں سے ہر ایک ایمان کے وسیلے سے ہی فاتح ٹھہرا۔ہابل نے ایمان کے ذریعے عبادت کی۔نوح نے ایمان کے ذریعے کام کیا۔حنوک ایمان ہی کے ذریعے چلا۔ابرہام نے ایمان کے ذریعے سفر کیا۔موسیٰ نے قوم کو ایمان ہی کے ذریعے رہا کیا۔داﺅد نے ایمان ہی کے ذریعے سورما گِرا دیا۔پولس نے ایمان کے ذریعے ہی خوشخبری سُنائی۔لوتھر نے ایمان کے ذریعے ہی اصلاحی تحریک چلائی۔وائٹ فیلڈ نے ایمان کے ذریعے بیداری کا تجربہ کیا۔موڈی نے ایک برّاعظم کو ایمان ہی کے ذریعے ہِلا ڈالا۔ ایمان ہی ہمیشہ سے فتح کے حصول کا ذریعہ رہا۔ہماری شخصی بیداری کا سارا دار و مدار ایمان ہی کاپہلوہے۔

لہٰذا یہ اہم بات ہے کہ ہم ایمان کی حقیقت کو سمجھیں۔جب ہم کسی اعلیٰ تقریر کو سُنتے ہیں تو جو جذبات ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں کیا وہ ایمان ہے؟یا کیا ایمان کسی نفسیاتی حالت کا نام ہے جو ہماری مثبت سوچ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے؟کیا ایمان ہی ہمارے تمام طرح کے مسائل کا حل ہے؟کیا ہم اس کا نام لیں اور اس کا دعویٰ کریں؟کیا یہ ممکن ہے کہ بس ایمان رکھیں تو پھر کبھی بیمار نہیں ہو نگے؟ایمان کیا ہے اور کہاں سے آتا ہے؟اس سوال کا جواب ہی فتح مند مسیحی زندگی بسر کرنے کا راز ہے۔تاہم مجھے افسوس ہے کہ ہم نے ایمان سے متعلق بائبل مقدّس کی تعلیمات کو ایسے توڑ موڑ کر پیش کیا ہے کہ ہمیں کسی ایسے مکاشفے کی ضرورت ہے جو فتح پانے کیلئے ہماری روحوں کو بیدار کرے اور کلیسیاﺅں کو ایک بار پھر دُنیا کا نور بننے کا موقع مِل جائے۔

ایمان کا آغاز خدا سے ہوتا ہے ہم سے نہیں۔ایمان ایسی بات نہیں کہ ہم اپنے آپ کو ذہنی طور پر یقین کرنے کے مقام پر لے آئیں۔یہ کوئی عجیب قسم کے احساسات نہیں ہیں۔بائبل مقدس فرماتی ہے کہ «ایمان سُننے سے پیدا ہوتا ہے اورسُننا مسیح کے کلام سے»۔ایمان ہمارے اندر سے نہیںبلکہ خدا سے شِروع ہوتاہے۔ایمان کے بغیر خدا کو پسند آنا نا ممکن ہے۔لیکن خدا کے بغیر بھی ایمان کا ہونانا ممکن ہے۔ایمان ایک ایسے مقصدکا نام ہے جس آ غاز ہمارے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے ہوتا ہے۔اس کا آغاز خدا کے کلام کرنے سے ہوتا ہے۔اس کا آغاز خدا کے کلام سے ہوتا ہے۔یہ ہمارے دِلوں میں ایسی گارنٹی ہے جس کا آغاز خدا کے کلام کے سُننے سے ہوتا ہے

ایمان کا آغاز خدا سے ہوتا ہے جب وہ اپنے کلام کے وسیلے سے ہمارے دِلوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔تب یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں ایک نئی راہ پر ڈالتا ہے۔بائبل مقدّس کوبنیاد بناتے ہوئے جو حقیقی ایمان ہے وہ ہمیشہ یسوع مسیح کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ عبرانیوں ۱۲: ۲ میں مرقوم ہے «ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کی طرف تکتے رہو»۔یسوع مسیح ہی ہمارے ایمان کی بنیاد رکھنے والا اور اِسے قائم رکھنے والاہے۔وہ راہ حق اور زندگی ہے۔یوحنا کی معرفت لکھی گئی انجیل میں یسوع مسیح کو خدا کے کلام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان جو نہ تو اُس سے شروع ہوتا اور نہ ہی اُس کے وسیلے سے قائم رہتا ہے وہ درست ایمان نہیں ۔

بہت سے مسیحی اپنے آپ کو شکست خوردہ پاتے ہیں کیونکہ اُن کا بھروسہ اور یقین خدا وند یسوع مسیح کے بجائے اپنے آپ پر، اپنی قابلیت پراور اپنے روپئے پیسے پر اور اپنے تجربہ پرہے۔اکثر خدا ہم میں کوئی نہ کوئی کمزوری چھوڑدیتا ہے تاکہ وہ ہمیں اپنی قوّت دِکھا ئے۔ہو سکتا ہے کہ خدا ہمیں مالی بحران سے گزرنے دے تاکہ وہ ہماری ہر ایک ضرورت کو مسیح یسوع میں اپنے جلا ل کی قدرت سے پورا کرے(فلپیوں ۱۹:۴)۔ہمارے اپنے تجربات ہمیں دھوکہ دے سکتے ہیںلیکن یسوع مسیح سراپا سچائی ہے۔فتح صرف یسوع کے وسیلے سے ممکن ہو تی ہے۔

ایمان کا آغاز خدا کا ہمارے دِلوں میں اپنے کلام کے وسیلے بات کرنے سے ہوتا ہے اور ہماری ہر ضرورت کیلئے یسوع مسیح کی طرف دیکھتے رہنے سے ہی جاری رہتا ہے۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایمان کام کرتا ہے۔ہمارے کاموں سے ایمان پیدانہیںہوتا بلکہ جو اس کے برعکس ہے وہی سچ ہے۔ایمان سے عمل پیدا ہوتا ہے ۔یہ عمل ہماری زندگیوں میں خدا کے کام ہیں۔لہٰذا ہم اپنی کسی بھی قابلیت، وسائل یا کامیابیوں پرفخر نہیں کر سکتے۔ ہم صرف مسیح پر ہی فخر کر سکتے ہیں۔وہی ہماری فتح اورکامیابیوں کا واحدذریعہ ہے۔اگر ہمارا مسیح پر واقعی ایمان ہے تو پھر ہم اُس کی فتح کو جانیں گے۔

کبھی کبھی مجھے اس بیان پر چیلنج کیا جاتا ہے۔لوگ مجھے کہتے ہیںکہ «سیمی میں مسیح پر ایمان لا یا مگر اس سے کوئی بات بن نہیں رہی»۔ جب میں ایسے لوگوں کیساتھ بات کرتا ہوں تو اس نتیجے پرپہنچتا ہوں کہ ان کا بھروسہ بجائے مسیح کی بیش بہا قدرت کے اپنی کاوشوں اور اپنے تجربے پر مبنی ہے۔مجھے یسوع کیساتھ اس سفر میں تیس سے زیادہ سال ہو چکے ہیں۔لیکن میں ایک بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ« میں نے کئی مرتبہ یسوع کیساتھ بے وفائی کی مگر یسوع نے کبھی نہیں کی»۔

میں نے اس حقیقت کو جانا ہے کہ مسیحی زندگی میں فتح صرف ایمان ہی کے وسیلے سے مِلتی ہے۔ ایمان کا آغاز یسوع کے وسیلہ سے جو کلمئہ خدا ہے یعنی خدا کے ہم سے بات کرنے سے ہوتا ہے اور مسلسل یسوع کی طرف دیکھتے رہنے سے جاری رہتا ہے اور اس کا اختتام اُس فتح سے ہوتا ہے جو ہماری نہیں بلکہ یسوع کی ہے۔ہم بس اُس فتح میں داخل ہوتے ہیں جواُس نے پہلے ہی حاصل کر لی ہے۔یہ اس لئے نہیں ہے کہ ابرہام، نوح، موسیٰ، داﺅد، پولس، لوتھر اور وائٹ فیلڈعظیم لوگ تھے بلکہ اس لئے کہ اُنہوں نے ایک عظیم اور قدرت والے خدا پر بھروسہ کیا۔اُنہوں نے یسوع کی طرف دیکھا۔اس بات کو واضع کرنا نہایت ہی اہم ہے کہ وہ خدا جو ابرہام، نوح، موسیٰ، داﺅد، پولس، لوتھر، موڈی اور وائٹ فیلڈ کا ہے وہی ہمارا خدا بھی ہے۔یہ ہماری کوئی قابلیت نہیں ہے کہ ہم اس فتح میں شریک ہوں گے بلکہ یہ خدا ئے قادرِ مطلق پر سادہ سا ایمان ہے جس کے وسیلے سے ہمیں فتح میسّر آتی ہے۔