Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
دُعا کے ذریعے خدا کو جاننا

مسیحی زندگی میں فتح کے بہاﺅ کے پیچھے جو راز ہے وہ عِرفانِ الٰہی ہے۔اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ میں کب پہلی مرتبہ اپنی بیوی سے مِلایا یہ کہ کیا آپ دیبی «ٹیکس»سے جو اُن کا خاندانی نام ہے مِلے ہیں۔تو میرا یہ جواب ہوتا کہ جی ہاں میں اُسے جانتا ہوں۔میں کل ہی اُسے مِلا تھا۔تاہم جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں اُسے جانتا ہوں تو اس سے کیا مراد ہے اورپھرجب یہ کہتا ہوں کہ آج میں اُس کو جانتا ہوں تو یہ دو منفرد باتیں ہیں۔اس وقت میرا اس کیساتھ ایسا تعلق ہے جو کہ پہلے نہیں تھا۔میں جانتا ہوں کہ وہ کیا پسند کرتی اور کیا پسند نہیں کرتی۔میں اُس کے دُکھ اور سُکھ اُس کی کمزوری اور مضبوطی کو جانتا ہوں۔

جب ہم نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا شِروع کیا تو میں جانتا تھا کہ میں اُسے پیار کرتا ہوں۔تاہم جو محبت آج مجھے اُس سے ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ گہری اور مضبوط ہے کیونکہ ہم دونوں مختلف حالات و واقعات سے دوچار ہوئے جس کی وجہ سے ہماری محبت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔خدا کی ذات کیلئے بھی یہ بات اسی طرح سے سچ ہے یعنی جتنا زیادہ آپ اُس کوجانیں گے اُتنی ہی زیادہ آپ اُس سے محبت بھی کریںگے۔جب ہم پہاڑوں اور وادیوں میں اُس کیساتھ ہو چلتے ہیں تو ہماری محبت اُس کیلئے بڑھتی جاتی ہے لیکن اُسے جاننے کیلئے وقت لگتا ہے۔

پولُس رسول لکھتا ہے کہ یہ اُس کی دِلی آرزو رہے کہ وہ مسیح کو اور اُس کے جی اُٹھنے کی قدرت کوجانے اور اُس کے دُکھوں میں شریک ہو اور اُس کی موت سے مشابہت پیدا کرے (فلپیوں ۳ :۱۰)۔پولس چاہتا تھا کہ وہ مسیح کو پہاڑوں کی چوٹیوں اور وادیوں میں بھی جانے ۔وہ مشکل حالات میں اور خوشگوار حالات میں بھی مسیح کے ساتھ چلنا چاہتاتھا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مسیح کیساتھ اُس کا رِشتہ صرف اسی صورت میں زیادہ مضبوط ہو گا کہ وہ مسیح کیساتھ طویل رفاقت میں رہے۔

لیکن عملی پہلو کے اعتبار سے ہم کیسے خدا کو جان سکتے ہیں؟۔ہم کِس طرح اُس کی محبت اور فِکر کا تجربہ کرسکتے ہیں؟۔خدا روح ہے اور جس خدا کو نہ تو ہم چھو سکتے اور نہ دیکھ سکتے ہیں اُس کیساتھ ہمارا گہرا تعلق کیسے قائم ہو سکتا ہے۔مسیح کیساتھ اس تعلق کے قائم کرنے کا ایک طریقہ دُعا ہے۔

بہت سے لوگ دُعا کو اس طور پر لیتے ہیں کہ اس کے ذریعے خدا سے کُچھ حاصل کیا جاتا ہے۔یہ بات تو یقینی ہے کہ خدا ہماری دُعا کے جواب میںاپنے بچوں کو کثرت سے دیتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہمارے خیالوں اور ارادوں سے بڑھ کر ہمیں دے سکتا ہے۔لیکن جو کُچھ ہم خدا سے حاصل کرنا چاہتے ہیں دُعا اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔دُعا دو دِلوں کا ایک دوسرے سے تعلق قائم کرنا ہے۔یہ خدا کیساتھ ہمارا تعلق ہے اور اُس کیساتھ اپنی تن بیتیوںاور دِلوں کی گہری باتوں کا بیان کرنا ہے۔

ہم میں سے بُہتیرے ایسے ہیں جو مسیحی زندگی میں شکست خوردہ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دُعا کے حقیقی معنیٰ بھولے ہوئے ہیں کہ اصل میںدُعا کیا ہے۔ہم دُعا کو ایسے دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم آسمان پر کسی کرسمس بابے کے پاس جا رہے ہوں اور جو بھی ہمیں درکار ہو ہم اس سے وہ مانگ رہے ہوں۔دُعا کوایسے سطحی طور پر سمجھنا شکست خوردہ ہو نے سے خالی نہیں۔جس طرح ہم خرید و فروخت کیلئے ایک فہرست بنا کر کسی بڑے اسٹور پرجاتے ہیں خدا کیساتھ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔

کِسی بھی خوشگوار رِشتے کے قیام کیلئے وقت لگتا ہے۔گزشتہ سالوں میںمیرے اور میری بیوی کے درمیان بہت مستحکم تعلق قائم ہوا کیونکہ جو کُچھ ہمارے دِلوں میں تھا اُس کے تعلق سے ہم نے ایک دوسرے سے گفت و شنید کرنے کیلئے وقت نِکالا۔ہم نے ہر ہفتے کسی ایسی جگہ جانے اور ایسا وقت نِکالنے کی کوشش کی جہاں پرہم ٹیلی فون اور دفتر سے اور دیگر مصروفیات سے دوررہیں۔ہم نے ایک دوسرے سے اپنے دِل کی بات بیان کرنے کیلئے وقت نکالا۔ہم نے ایک دوسرے سے اپنے مسائل، اپنے دُکھ مشکلات اور دورانِ ہفتہ جو ہمیں فتوحات حاصل ہوئیں اُنہیں بھی ایک دوسرے سے بیان کیا۔ہمارے رِشتے میں نہایت ہی مشکل لمحات اُس وقت پیدا ہوتے جب ہم ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کیلئے وقت نہیں نِکالتے تھے۔

دُ عا کیساتھ بھی ایسا ہی ہے۔خدا کیساتھ بات چیت کرنے اور اُسے اپنے دِل کی بات ہم سے کہنے کیلئے وقت لگتا ہے۔شاید یہی سبب ہے کہ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ جب وہ دُعا کریں تو اپنی کوٹھڑی میں جائیں اور دورازہ بند کر کے دُعا کریں اور وہ خدا جو پوشیدگی میں سُنتا ہے وہ تمہیں اجر بخشے گا (متی ۶:۶)....؟دُعا کوئی مذہبی دِکھاوا نہیں کہ ہم دوسروں کو دکھائیں اور اُنہیں متاثر کریں کہ ہم کتنے روحانی ہیں۔یہ کوئی مذہبی فرض نہیں ہے۔دُعا سب سے پہلے ہے اور ایسا وقت نِکالنا ہے کہ جہاں پر ہم دنیاوی پیچ و خم سے ذرا دور ہٹ کر اپنے دِل کی بات اپنے روحانی باپ سے کرتے ہیں۔خدا کی آواز سُننے کیلئے وقت لگتا ہے۔خالقِ کائنات سے رابطہ کرنا ہے۔

مجھے اکثر اس اُصول پر بڑے چیلنج مِلتے ہیں۔شاید کُچھ لوگ یہ کہیں«کہ ہمیں ہمیشہ دُعائیہ روح میں ہو نا چاہیئے جس کی وجہ سے ہمیں کوئی الگ سے وقت نِکالنے کی ضرورت نہیں کہ خدا کیساتھ بات کی جائے۔یہ بات سچ ہے کہ ہمیں بلاناغہ دُعا کرنا چاہیئے اور ہمیں اپنی روزمرّہ کی زندگی میں بھی دُعائیہ روح میں ہونا چاہیے۔تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم مسلسل خدا کے ساتھ الگ ہو کر بات کرنے میں کُچھ وقت نہ گزاریں۔یسوع نے اپنے شاگردوں کو ایسا کرنے کی تعلیم دی ہے۔اگر اُنہیں وقت نِکالنے کی ضرورت تھی کہ جہاں پر وہ دُنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر خدا سے بات کریں تو پھر ہمیں ایسی جگہ کا تعیّن کرنے اور ایسا وقت نِکالنے کی کتنی زیادہ ضرورت ہے؟۔

اگر آپ اپنی مسیحی زندگی میں واقعی فتح چاہتے ہیںتو پھر یہ آپ کیلئے نقطئہ آغاز ہو سکتاہے۔فتح کیلئے واقعی یہی سب کچھ نہیں لیکن شروع کرنے کیلئے یہ نہایت ہی عظیم مقام ہے۔کیوں نہ آپ بھی کسی جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے مناسب وقت کا تعیّن کریں جہاں پر آپ خدا کیساتھ ملاقات کر سکیں۔اُسے بتائیں کہ آپ کے دِل میں کیا ہے۔اُس کا کلام پڑھیں اور اُس کی آواز سُنیں۔اس بات کو ٹھان لیںکہ جو کُچھ وہ آپ سے کہے گا آپ وہ کریںگے۔وہاں ہی آپ فتحیابی سے ہمکنار ہوں گے۔