Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
اے خداوند! ہمیں دُعا کرنا سِکھا

شاگردوں نے یسوع کو ناقابلِ یقین کام کرتے ہوئے دیکھا۔اُنہوں نے اُس کو پانی کو مے میں تبدیل کرتے ، بیماروں کوشِفا دیتے ، بدروحوں کو نِکالتے، ایک بڑا پیغام پیش کرتے اور یہاں تک کہ مُردے کو بھی زندہ کرتے دیکھا ۔تو بھی اُنہوں نے یسوع سے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہمیں یہ کام سِکھا کہ کیسے کرتے ہیں۔تاہم اُنہوں نے یہ ضرور کہا کہ خداوند ہمیں دُعا کرنا سِکھا (لوقا۱۱: ۱)۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع کے اِن تمام بڑے بڑے کاموں کا راز اُس کی دُعائیہ زندگی تھی۔وہ صبح کے وقت کافی طویل وقت دُعا میں گزارتا ہوا ہو گا۔وہ یسوع کی فتحیابی کا راز جاننا چاہتے تھے۔

ذیل میں دی گئی آیات میں یسوع نے اپنے شاگردوں کو سِکھایا کہ کِس طرح سے دُعا کی جائے۔اس طرح کا ایک اور حوالہ متی ۶: ۹- ۱۳ میں بھی پایا جاتا ہے۔اِس حوالے میں یسوع دُعا کے پانچ اُصول سِکھاتا ہے۔اِن اُصولوں میں سے ہر ایک خدا کی کسی خاص صفت کا مختصر بیان ہو سکتا ہے۔دُعا خدا کو جاننا ہے۔جب ہم خدا کو اُس کے سارے جاہ و جلال اور شان و شوکت میں دیکھتے ہیں تو پھر ہم اپنا دِل اُس کے حضور اُنڈیلنا شِروع کر دیتے ہیں۔تب دُعا ایک ایسا منبعِ برکت بن جاتا ہے کہ ہر کوئی اس تک رسائی کرنے کیلئے کوشاں ہو جاتا ہے۔مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص دُعا کرتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے؟۔لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ پتہ نہیں میں تیس منٹ یا ایک گھنٹے کی دُعا میں کیا کروں گا۔تاہم ان اُصولوں کی مشق شروع کرنے سے اکثر دیکھا گیا کہ لوگوں کو دُعا کیلئے مزید وقت درکار ہوتا ہے۔

تو پھر ہم کِس طرح دُعا کریں اور جو اُصول یسوع نے سِکھائے وہ کیا ہیں؟۔پہلا اُصول تعریف اور شکرگزاری کرنے کا ہے۔یسوع متی ۶: ۹ میں دُعا کا دروازہ خدا کی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتے ہوئے کھولتا ہے۔وہ شاگردوں کو سِکھاتا ہے کہ وہ خدا کی تین صِفات پر نگاہ کریں۔

۔ ۱- ہمارا باپ
۔ ۳- تیرا نام پاک مانا جائے
۔ ۲- جو آسمان پر ہے

خدا کی پِدریت ہمیں خدا کی بھلائی دِکھاتی ہے۔یہ بات خاص اُس وقت کیلئے جاننا ضروری ہے کہ جب ہماری زندگی میں مشکلات جنم لیں۔ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خدا بھلا ہے اور وہ ہماری زندگی کیلئے ہر اعتبار سے بھلائی چاہتا ہے۔جب ہم اُس سے روٹی مانگیں تو وہ ہمیں پتھر نہیں دے گا۔البتہ اس میں مطلق شک نہیں کہ اگر دُنیا یا شیطان ہمیں پتھر دے تو خدا انہیں روٹی میں تبدیل کر دے گا۔ یہ جملہ کہ «تُو جو آسمان پر ہے»ہمیں خدا کی عظمت دِکھاتا ہے۔وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہے۔ارض و سما کا سارا اختیاراُسی کے پاس ہے۔وہ خدائے قادرِ مطلق ہے۔لیکن یسوع اس جُملے میں خدا کی پاکیزگی دِکھاتا ہے «تیرا نام پاک مانا جائے»۔خدا پنے ہی ماحول میں رہتا ہے۔ہم مخلوق ہیں اور وہ خالق ہے۔ہم گنہگار ہیں اور وہ مکمل طور پر پاک ہے۔ساری کائنات میں اُس کا کوئی ثانی نہیںہے۔لہٰذا ہمیں خدا کے حضور بڑی تعظیم کیساتھ جھک جانا چاہیئے۔

ہم خدا کی بھلائی کیلئے اُس کا شکر ادا کرتے ہیں۔اُن سب بھلے کاموں کیلئے جو اُس نے ہمارے لئے کئے ہیں۔ جیسا وہ ہے ہم اُس کیلئے اوراُس کی ذات اور صِفات کیلئے اُس کی تعریف کرتے ہیں۔لہذا جب ہم دُعا کریں تو پہلے کچھ وقت اس بات پر دھیان دیا جائے کہ خدا کون ہے اور اُس نے ہمارے لئے کیا کیا ہے۔اُس کی قدوسیت کی خوبصورتی میں اُس کی پرستش کریں اور ہماری زندگی میں اُس نے جو عظیم کام کئے ہیں اُن کا شکر ادا کریں۔

دعا کا دوسرا اُصول ہمیں متی ۶: ۱۰ میں مِلتا ہے اور وہ خداوند کے حضورشفاعت کرنا ہے۔جب خداوند یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو خدا کی صفات سے متعلق سِکھا چُکاتو پھر وہ اُنہیں دُنیا کی ضروریات دِکھاتا ہے۔اب خدا سے متعلق بات کرنے کے بعد وہ خدا کی بادشاہی اور پھر اس دُنیا کی طرف آ جاتا ہے۔جب ہم خدا سے متعلق جان لیتے ہیں تو پھر یہ بھی جاننا شروع کر دیں گے کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور خدا کے دِل میں کیا ہے؟۔دو ہزار سال سے وہ ابھی تک تبدیل نہیں ہوا۔یہ دُنیا خدا کے دِل پر ہے (یوحنا ۳:۱۶)۔،ہمیں اُن لوگوں کیلئے دُعا کرنا شروع کر دینا چاہیئے جنہیں یسوع کی ضرورت ہے تاکہ اُن کی زندگیوں میں خدا کی بادشاہی آ جائے اور خدا کی مرضی پوری ہو جائے۔میں جانتا ہوں کہ یہ بہت زبردست دُعا ہے کیونکہ یہ براہِ راست خدا کے تخت تک جاتی ہے۔جب ہم خدا کے دِل کی آواز سن کر اُس کی مرضی اور اُس کی بادشاہت کے ساتھ متفق ہو جائیں گے تو پھر خدا عرش سے فرش پر اُتر آئیگا۔

تیسرا اُصول اپنی مناجات خدا کے حضور پیش کرنا ہے (متی۶ :۱۱)۔یسوع نے جب اپنے شاگردوں کو سِکھایا کہ روز کی روٹی مانگیں تو وہ اُنہیں یہ سِکھا رہا تھا کہ اپنی ضروریات خدا وند کے سامنے پیش کریں۔انسانی جِسم کیلئے خوراک بنیادی ضرورت ہے۔یسوع چاہتا تھا کہ اُس کے شاگرد خدا کو یہوّاہ یری کے طور پر جانیں کہ وہی ہے جو مہیّا کرتا ہے۔خدا کی یہ آرزو ہے کہ وہ اپنے فرزندوں کی ضروریات کو پورا کرے۔وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور وہ ہماری فکر بھی کریگا۔ہمیں ہر روز اپنی ضروریات کو خدا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اُس نے ہم سے ایسا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

جس ترتیب سے یسوع نے اپنے شاگردوں کو سِکھایا کہ وہ دُعا کریں ذرا اُس ترتیب کو نگاہ میں رکھیں۔پہلے اُن کی نظریں صرف خدا پر ہیں، پھر اُس کی بادشاہی کے اس دُنیا میں آ جانے کی بات ہو نے لگتی ہے ۔ ہم دوسروں کیلئے دُعا کرتے ہیں۔آخر میں ہم اپنی ذاتی ضروریات خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یسوع نے جو دُعا اپنے شاگردوں کو سکھائی اُس میں ترجیحات پہلے خدا کو پھر دوسرے نمبر پر لوگ آتے ہیں اور پھر تیسرے نمبر پر ہماری اپنی ضروریات ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اس کے برعکس دُعا کرتے ہیں۔جب ہم اپنی ضروریات خداوند کے حضور پیش کرتے ہیں تو پھر یسوع ہمارے دِل کی انتہائی گہری ضروریات کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے اور یہ ہماری روحانی ضروریات ہیں۔چوتھا اُصول معافی کا ہے یہ خدا کی پاکیزگی اور فضل کے اظہار میں ہے۔متی ۶: ۱۲ میں بیان کردہ اُصول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ضرور اپنے گناہوں کی معافی اور فضل کیلئے خدا ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔دوسروں کو معاف کرنے کیلئے ضرور ہے کہ ہم اس گہرے کنویں سے فضل حاصل کریں۔ہمارے دِل کے دو ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہماری دُعائیہ زندگی شکست کی نذر ہوسکتی ہے اور وہ جُرم اور کڑواہٹ ہیں۔اس حوالے میں یسوع ان دونوں کا علاج کرتا ہے۔

آخرمیںیسوع اپنے شاگردوں کو متی ۶: ۱۳ میں سکھاتا ہے کہ ہم کس طرح سے روحانی جنگ میں شامل ہوں۔ہم یسوع کو دیکھتے ہیں جو ہماراعظیم گلّہ بان ہے اور وہ ہماری زندگیوں کی ایک ایسی جگہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو جائے پناہ اور اس دُنیا کی آزمائشوں سے بہت دور ہے۔ہم اُس کو بدی کی قوّتوں اوراختیارات پر اپنی فتح کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔یسوع ہماری فتح ہے۔جب ہم اپنی زندگیوں میں اُس کے دُعائیہ منصوبے کی پیروی کرتے ہوئے اور دُعا کرتے ہیںتو پھر ہم فتح میں رہتے ہیں۔یسوع کی طرف دیکھئے اور آج اُس سے کہیے کہ« اے خداوند مجھے دُعا کرنا سِکھا»۔جب وہ ہمیں سکھاتا ہے تو آپ فتح مندی سے ہمکنار ہوں گے۔