Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
دُعا اور فتح

دُعائیہ زندگی اور فاتحانہ مسیحی زندگی میںایک ایسا تعلق ہے جس کا کسی بھی صورت میں انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگرکوئی کلیسائی تاریخ کا سفر کرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ جو عظیم مردِ ایمان اور خواتینِ ایمان تھیں اُن کی زندگیاںدُعائیہ تھیں۔اگر ہم نئے عہدنامے کی کلیساءکی طرف سفر کریںتو ہم ماہی گیروں، محصول لینے والوں ،قرضداروں اور عام سے یہودی لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت دیکھیں گے جو مسیح کی پیروی میں ہو چلی اور اُنہوں نے رومی دُنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اُنہوں نے دُنیا کو اسی لئے ہلا کر رکھ دیا کیونکہ وہ بڑی تعظیم کیساتھ خدا وند کے حضور ٹھہرے رہے۔وہ دُعا گو لوگ تھے۔اعمال کی کتاب میں پائی جانے والی کلیسیاءکی سب سے بڑی خصوصیت یہی تھی۔

لیکن یہ ایسا نہیں کہ صرف پہلی صدی کے ایمانداروں یا زمانئہ حال کے ایمانداروں نے دُعا کے ذریعے اپنی فتح حاصل کی بلکہ پرانے عِبرانی رہنما بھی تو دُعا کے ذریعے سے اُٹھ کھڑے ہوئے یادُعا نہ کرنے کے سبب سے گِر گئے۔اس تعلق سے ایک روشن مثال عُزیاہ کی ہے۔جب وہ بادشاہ بنا تو صرف ۱۶، برس کا تھا(۲-تواریخ ۲۶: ۱)۔ایک سولہ سالہ نوجوان سے کس طرح سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ بادشاہی ذمہ داریاں سر انجام دے پائے گا۔اُسے اقتصادی اعتبار سے، ذرائع آمدو رفت، رہائش اور یہوداہ کی عام فلاح و بہبود کے کام کرنے کے لحاظ سے ایک اہم قائد ہونا تھا۔اس طرح کے نوجوان کیلئے لگتا ہے کہ یہ ایک ناممکن کام تھا۔

تاہم عُزیاہ بڑا دانا تھا۔وہ ایک ایسی سچائی سے واقف تھا جو اُسے ایک کامیاب رہنما بنانے کیلئے کافی تھی۔ایک نوجوان ہونے کی حیثیت سے وہ زیادہ نہیں جانتا تھا لیکن وہ اُسے جانتا تھا جو سب کُچھ جانتا ہے۔اس لئے اُس نے اپنے آپ کو خدا کے فضل اور رحم کے سپرد کر دیا۔بائبل مقدّس کہتی ہے«اور وہ زکریاہ کے دِنوں میں جو خداوند کی رویتوں میں ماہر تھاخدا کا طالب رہا اور جب تک وہ خدا کا طالب رہاخدا نے اُس کو کامیاب رکھا» (۲-تواریخ ۲۶: ۵)۔اُس کی فتح کا دارو مدار اُس کی انکساری پر تھا۔اگرچہ وہ جانتا تھا کہ مجھ میں لوگوں کی قیادت کرنے کی قابلیت تو نہیں تاہم وہ یہ جانتا تھا کہ خدا کیلئے کُچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

جب عُزیاہ فتحیابی سے ہمکنار ہوا تو کُچھ ہوا۔وہ امتیاز کی روح کھو بیٹھا اور مہلک خطرے سے دوچار ہو گیا۔بائبل مقدّس اُس شکست کا ذکر کرتی ہے جو عُزیا کو دیکھنا پڑی ۔بائبل مقدس فرماتی ہے کہ «لیکن جب وہ زور آور ہو گیا تو اُس کا دِل اس قدر پھول گیاکہ وہ خراب ہو گیا اور خداوند اپنے خدا کی نافرمانی کرنے لگا....»۔جب عُزیاہ نوجوان تھا اور کُچھ بھی نہ جانتا تھا اس وقت اُس نے مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کیا لیکن جب وہ مضبوط ہو گیا تو اُس نے دُعا کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔وہ سمجھا کہ میں جانتا ہو ں کہ نظامِ سلطنت کیسے چلایا جائے اور یوں اُس کا غروراُس کی شکست کا سبب ہوا۔

عُزیاہ کا تجربہ کوئی نیا نہیں ہے۔میں نے اپنی زندگی میں بھی ایساتجربہ کیا کہ جب مجھے عظیم فتوحات میسّر آئیں تو وہی وقت میرے لئے نہایت پُر خطر ٹھہرا۔ہماری زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ جب ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب سب کُچھ میرے بَس میں ہے۔جب کہ سچائی یہ ہے کہ میں نے یہ سب کُچھ اپنے قابو میں نہیں بلکہ خدا نے اسے اپنے قابو میں رکھا ہے اور ضرور ہے کہ میں جو کُچھ بھی کروں اُس میں خداکے چہرے کے دیدار کا مسلسل طالب رہوں اور اُسی کی قیادت میں ہو چلوں۔دُعا ایک فروتن دِل کا ظاہری اظہار ہے۔دُعا یہ کہتی ہے کہ «اے خدا مجھے تیری ضرورت ہے اور تیرے بغیر میں کُچھ بھی نہیں کر سکتا»۔تاہم جو زندگی دُعائیہ نہیں وہ کہتی ہے کہ «میں اپنے زور سے ایسا کر سکتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ کیسے کروں۔اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کامیاب ہو چُکا ہوں۔میں بذاتِ خود ایسا کر سکتا ہوں»۔

جب ہم خداوند میں اتنے بالغ نہیں ہوتے تواُس وقت ہم ذہنی طور پر یہ جانتے ہیں کہ مجھے خدا کی ضرورت ہے۔ہم اُس پر بھروسہ کرتے ہیں اور وہ ہمیں فتح بخشتا ہے۔ہم دُعا میں خدا کے طالب ہوتے ہیں۔ہمارے دِل خدا کے پیاسے ہوتے ہیں جیسے کہ ہرنی پانی کیلئے ترستی رہتی ہے۔ہم فتح میں چلنے اور اُسے جاننے کے بھوکے پیاسے ہوتے ہیں۔لیکن فتح یابی سے ہمکنار ہونے کے بعد ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اب میں اپنے زور و توانائی سے مسیحی زندگی گزار سکتا ہوں۔جب ایک دفعہ اس طرح کا رویّہ ہمارے دِلوں میں جگہ بنا لے تو پھر جیسے عُزیا ہ کیساتھ ہوا ویسے ہی ہم بھی زوال کی طرف قدم بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

اس لئے دُعا ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔یہ کوئی مذہبی فریضہ نہیں ہے کہ خدا ہم سے ایسا کرنے کی توقع کرتا ہے بلکہ خدا کے حضور یہ دِل کی پکار ہے کہ« اے خدا مجھے تیری ضرورت ہے»۔دُعا ایک ایسا وقت نکالنا ہے کہ خدا کیساتھ جوخالقِ کائنات اور اُسے قائم رکھنے والا ہے رابطہ کیا جا سکے۔یہ ہمارے نجات دہندہ کے عرفان سے متعلق ہماری دِلی پکار ہے۔دُعا خدا کو جاننا ہے۔اس عرفان کے بغیر کوئی فتح نہیں ہے۔لیکن میں اس بات کا قائل ہوں کہ جب تک ہم خدا کے طالب رہتے ہیں تو خدا ہمیں کامیابی بخشتا ہے۔اس نے عُزیاہ کیساتھ ایسا ہی توکیا۔عہدِ جدید کی کلیسیاءکیساتھ بھی اُس نے ایسا ہی کیا۔اُس نے صدیوں سے خواتین و مردانِ ایمان کیساتھ ایساہی کیا۔وہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کریگا۔وہ تبدیل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اُس کے طریقے تبدیل ہوئے ہیں۔