Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
خدا کے کلامِ کو دِل میں بسانا

جب زبور نویس نے یہ لکھا کہ«میں نے تیرے کلام کو اپنے دِل میں رکھ لیا ہے تاکہ میں تیرے خلاف گناہ نہ کروں» (زبور ۱۱۹: ۱۱) تو وہ کامیاب مسیحی زندگی بسر کرنے کابھید ظاہر کرتا ہے۔ جب یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ «انسان صرف روٹی ہی سے زندہ نہیںرہتا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے»(متی۴:۴) تو وہ بھی اسی بات کوواضح کر رہا تھا۔ہم میں سے ہر ایک میں ایک باطنی بھوک ہے جو زندگی کی روٹی کیلئے پکار اُٹھتی ہے۔وہ بھوک اور پیاس صرف اسی صورت میں مِٹ سکتی ہے جب خدا کی طرف سے مہیّا کی جانے والی باتیں ہمارے دِلوں میں جڑ پکڑیں۔ورنہ ہم روحانی طورپر کمزور ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم گر جاتے اورشکست خوردہ ہو جاتے ہیں۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسیح کیساتھ چلنے میں اور روزمرّہ کی زندگی میں ہمیں فتح یابی حاصل ہو تو پھر کلامِ خدا کو اپنے دِلوں میں ضرور جگہ دیں۔

لیکن عملی طور پر ہم یہ کیسے کرتے ہیں۔کئی سالوں سے مسیح کیساتھ چلنے کے بعدمیں نے پانچ ایسے طریقے سیکھے جن کے ذریعے ہم کلامِ خدا کو اپنے دِل میں رکھ سکتے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں کلامِ خدا کے پڑھنے کی ضرورت ہے۔یسوع نے کہا کہ « جو کلام میں نے تُم سے کیا ہے اُس کے سبب سے تُم پاک ہو» (یوحنا۱۵: ۳)۔جب ہم خدا کا کلام پڑھتے ہیں تو اس میں پاک کرنے والے اثرات پائے جاتے ہیں۔یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ہم خدا کے کلام کو سلسلہ وار، بلاناغہ اور عبادت کے ایک اہم حصہ کے طور پر پڑھیں۔ جب ہم اس کو کسی خاص طریقے کے مطابق پڑھیں گے تو ہم اس میں خدا کی ذات کا مظہر دیکھنا شِروع کریں گے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ اُس کے دِل پر کیا ہے؟۔ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ وہ کون ہے اور وہ کیسے کام کرتا ہے؟۔لیکن ضرورت ہے کہ ہم اسے بلاناغہ پڑھیں۔اگر ہم معمول کے مطابق جسمانی کھانا نہ کھائیں تو زندہ نہیں رہ سکتے۔اسی طرح ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم روحانی خوراک جو خدا کا کلام ہے نہیں کھائیں گے تو روحانی طور پر بھی مَر جائینگے۔

ساتھ ہی ساتھ ہمیں بائبل مقدّس پڑھتے وقت اپنے آپ کو وقف کر دینا چاہیئے۔گویا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خدا کے کلام پر غور و خوض کرنے کے ذریعے ہم اُسے اپنی زندگی میں اپنائیں۔جب ہم کلام پڑھیں تو اُس پر سوچنا بھی ضروری ہے۔بائبل مقدّس کسی دوسری کتاب کی طرح نہیں پڑھی جا سکتی۔بائبل مقدّس کلامِ اِلٰہی ہے جس کے ذریعے خدا ہمارے دِلوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ جو کُچھ پڑھیں اُسے ہم اپنے ذہن ، احساسات اور اعمال و افعال میں جگہ دیں۔جو کُچھ پڑھا ہے ہمیں اُس پر سوچنے اور پھر اُسے اپنی زندگی میں اپنانے کی ضرورت ہے۔اگر ہم اپنے دِن کا آغاز کلام ِ خداکے پڑھنے سے کریں تو اس سے ہماری مدد ہو گی۔پھر جب ہم گاڑی چلاتے ہوں کام کرتے ہوں پیدل چلتے ہوں اور پورا دِن مطالعہ کرتے ہوں تو جو کُچھ خدا نے ہم سے کہا ہم اُس پر غور و خوض کرسکتے ہیں۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم سُننے کے ذریعے کلامِ خدا کو اپنے دِل میں جگہ دے سکتے ہیں۔پولس رسول کہتا ہے کہ« ایمان سُننے سے پیدا ہوتا ہے اور سُننا مسیح کے کلام سے» (رومیوں ۱۰: ۱۷)۔یہ ایک حیران کر دینے والا بیان ہے۔کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کس طرح اپنے ایمان کو بڑھا سکتے اور اُسے ترقی دے سکتے ہیں؟ پولس بڑے واضح طور پر یہ بیان دیتا ہے کہ ایسی ترقی مسیح کا کلام سُننے سے ہی ہوتی ہے۔

کئی برس پیشتر میں پیرو کے دو شہروں میں کلام سُنا رہا تھا۔ایک شہر کے سٹیڈیم میں تقریباًدو تہائی لوگ تھے۔میں نے بڑے سادہ انداز میں بیان کیا کہ خدا کا ہماری زندگی کیلئے نجات کا کیا منصوبہ ہے۔دوسرے شہر میں بھی تقریباً اِتنی ہی تعداد میں لوگ تھے تاہم ایک بڑا فرق بھی تھا۔دوسرے شہر میں زیادہ لوگوں نے پیغام سُن کر ردِّ عمل کا اظہار کیا اور اپنی زندگی یسوع کو دی۔میں حیران تھا کہ ایسا کیوں ہوا۔دونوں جگہوں پر لوگوں نے دُعا کی۔دونوں مقامات پر غیر مسیحی شرکاءکی تعداد بھی برابر تھی۔تب مجھے یاد آیا کہ پہلے شہر میں ہمیں ساﺅنڈ سِسٹم کا مسئلہ تھا۔دوسرے شہر کی نسبت پہلے شہر میں لوگ قریب سے اور واضح طور پر کلامِ خدا نہیں سُن پائے۔دوسرے شہر میں ساﺅنڈ سِسٹم بہت ہی صاف اور واضح تھا۔اُس لمحے ایک بڑی سچائی مجھ پر ظاہر ہوئی۔ایمان اُس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم واضح طور پر خدا کے کلام کو سُن پائیں۔ہم خدا کے کلام کو کیسے سُنتے ہیںاُس کا اظہار ہم ایمان کے ذریعے کرتے ہیں۔

چوتھا طریقہ کلامِ خدا کو اپنے دِلوں میں جگہ دینا یعنی اُسے زبانی یاد کرنا ہے۔اس سے ہم کئی پہلووں کے اعتبار سے ترقی کرتے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ جب ہم خدا کے کلام کو زبانی یاد کرتے ہیں تو اس سے ہم اور زیادہ اس لائق ہو جاتے ہیں کہ کلامِ خدا کا بوقتِ ضرورت اپنی زندگی پر اطلاق کریں۔یوں ہم کلامِ خدا کو اپنی روح میں بسا لیتے ہیں۔جب ایسا لمحہ آتا ہے کہ ہمیں کسی وعدے کسی حکم یا کسی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہمارے دل میں جو خدا کا کلام ہو تا ہے وہ ہمارے ذہن میں آتا ہے تا کہ ہم اپنی سوچوں کو نیا بنائیں۔یوں ہماری ضرورت کے وقت خدا کی طرف سے ہمارے مدد ہوتی ہے۔ہم اپنے ہر خیال کو اسیر کر کے مسیح کے پاس لا سکتے ہیں(۲- کرنتھیوں ۱۰: ۵)۔دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ایمان سے متعلق جب بھی کوئی سوال ہو تو ہم جواب دے سکیں۔اس کے نتیجے میں ہم اپنے ایمان کا دوسروں کے سامنے اظہار کرنے میں زیادہ دلیر ہو جائینگے۔

آخری بات یہ کہ ہمیں کلامِ خدا کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔پولس رسول نے نوجوان تیمتھیس سے کہا«اپنے آپ کو خدا کے سامنے مقبول اور ایسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشش کرجس کو شرمندہ نہ ہونا پڑے اور جو حق کے کلام کو درُستی سے کام میں لاتا ہے»(۲-تیمتھیس ۲: ۲۵)۔ بائبل مقدّس کے مطالعہ کرنے کے کئی طریقے ہیں۔خواہ ہم کیسے ہی کلامِ مقدّس کا مطالعہ کیوں نہ کریںضروری ہے کہ اس مطالعہ میں ہم خدا کے تخت کے سامنے آئیں۔مطالعہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہم ذہنی طور پر کلام کو سمجھیں بلکہ مطالعہ کے ذریعے خدا کو بہتر طور پر جانیں۔میری اپنی روحانی زندگی اور ترقی میں مطالعے کے لحاظ سے وہ وقت نہایت عظیم تھا جب میں نے موسیٰ کی زندگی یعنی اُس کے کردار پر مبنی مطالعہ کیا۔اس مطالعے کے دوران میں خدا سے مِلا اور اس نے میری زندگی کی سِمت کو بدل دیا۔

کئی اور قِسم کے بھی مطالعہ جات ہیں جو آپ کر سکتے ہیں۔آپ تفسیری مطالعہ بھی کر سکتے ہیں یعنی آیت بہ آیت یا بائبل مقدس کی کتابوں کا سلسلسہ وار مطالعہ کرسکتے ہیں یا بائبل مقدّس میں سے کئی اہم مضامین مثلاً خدا کا فضل، دُعا یا کُچھ دیگر مضامین کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ایک اور طریقہ جس کے ذریعے آپ بائبل مقدّس کا مطالعہ کر سکتے ہیں وہ لفظی مطالعہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل مقدّس میں جواصل زبان میں الفاظ استعمال ہوئے ہیں اُ نکا مطالعہ کرنا۔بہرحال آپ کیسے ہی مطالعہ کیوںنہ کریں اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ایسے دِل کیساتھ مطالعہ کر رہے ہیں جو خدا اور اُس کے کلام کا بھوکا ہے۔

بائبل مقدّس میں آیا ہے کہ خدا موسی ٰ سے ہمکلام ہوا«اور جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خدا روبرو ہو کر موسیٰ سے باتیں کرتا تھا»(خروج ۳۳: ۱۱)۔خدا آپ سے بھی ویسے ہی کلام کرنا چاہتا ہے جیسے وہ شخصی طور پر موسیٰ سے ہمکلام ہوا۔خدا اپنے کلام کے ذریعے ایسا کرتا ہے۔اگر آپ یہ جانناچاہتے ہیں کہ خدا کے دِل پر کیا ہے تو پھر ضرور ہے کہ آپ خدا کے کلام کو اپنے دِل میں جگہ دیں۔جب خدا کلام کرے گا تو آپ پاک ہو جائیں گے اور آپ فاتحانہ زندگی میں چلیں گے۔