Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
فاتح خواتین و حضرات

جب ہم نئے سال کا آغاز کرتے ہیں تو دُنیا بیتابی سے ایسے لوگ دیکھنا چاہتی ہے جو خُدا کے لوگ ہوں۔ تاریخ کے اِس دور میں یوں لگتاہے کہ جیسے تاریکی نسلِ انسانی کو اَپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ لہٰذا ایسے خواتین و حضرات جو خُدا کے ہاتھ میں ایک اوزار کی مانند ہیں وُہی اَس نیم شب کی تاریکی میں چمکتے ہوئے نظر آئیں گے۔یہی سبب ہے کہ اِس سال ہم ایسے خواتین و حضرات کی زِندگی پر بڑی سنجیدگی سے وقف ہوتے ہوئے غور کریں گے جو ہمارے لیئے بطورِنمونہ ہیں۔

پولس نےنوجوان تیمتھیس کو لکھتے ہوئے کہا‘‘کیونکہ زَرکی د وستی ہر قِسم کی بُرائی کی جڑ ہے جِس کی آرزُومیں بعض نے گُمراہ ہو کر اَپنے دِلوں کو طرح طرح کے غموں سے چھلنی کر لیا‘‘١تیمتھیس ١٠:٦ ۔اگرچہ تیمتھیس پولس سے بہت چھوٹا تھا تو بھی وُہ اُس کر ‘‘مردِ خُدا’’ کہتاہے۔ مردِ خُدا ہونے کیلئے عُمر کی کوئی قید نہیں ہے۔بلکہ یہ دِل سے خُدا کیساتھ چلنے، اَپنے آپ کو حلیم و فروتن بنانے اور اُس کی محبت کو اِس گناہ بھری دُنیا میں لے جا کر سُنانے کی ضرورت ہے جو گُناہ میں مَر رہی ہے۔

پولس نے مردِ خُدا ہونے کیلئے کئی ایک شرائط بیان کی ہیں۔سب سے پہلے وُہ اِس نوجوان تیمتھیس کو یہ کہتاہے کہ اہم باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھے۔اُس کی توجہ کِسی دُوسری طرف نہ جائے۔اہم باتوں کو اہم باتیں جانتے ہوئے فوقیت دے۔تیرے سامنے جو اہم باتیں ہیں اُن کے کرنے کیلئے دولت یا مال و متاع آڑے نہ آئے۔اُس نے کہا کہ کئی ایسے تھے جنہوں نے ایسا کیا اور اُنہوں نے اَپنا مقصد کھو دیا اور دُکھ میں مُبتلا ہو گئے۔کئی ایسی مادی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔اَچھی چیزوں کا ہونا کوئی بُری بات نہیں۔خُدا نے اُنہیں ہماری خوشی کیلئے خلق کیاہے۔لیکن بجائے اِس کے کہ ہم اُنہیں یوں دیکھیں کہ خُدا نے ہماری ضرورت کیلئے اِنہیں پید اکیا ہم اُن میں مست ہو جائیں تو پھر ہم ایسی راہ پر گامزن ہوتے ہیں جو ہمیں تنزلی کی راہ پر لے جاتی ہے۔

ہمارا پہلا مقصد مسیح کی پیروی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرنا ہونا چاہیئے۔فاتح خواتین و حضرات کو ایسی چھ خصوصیات ہیں جنہیں اَپنی زِندگی میں پیدا کر نا ضروری ہے۔ہمیں راستبازی کا طالب ہونا چاہیئے یعنی وُہ راستبازی جو خُدا کی ہے۔ہمارے لیئے سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ خُدا کیساتھ ایک درست رِشتہ میں قائم رہیں۔اِس سال ایسی باتوں کے طالب ہوں جو خُدا کیساتھ آپ کے تعلق کو برباد نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوط کریں۔جب آپ ایسا کریں گے تو اَپنے آپ کو فاتح پائیں گے۔

مسیح کی مانند بننے کے طالب ہوں۔اَپنی زِندگی کا شعار بنا لیں کہ میں مسیح کی مانند بنوں گا۔ یہ آپ کی زِندگی کا مقصد ہو نا چاہئے۔اِس سے غم پیدا نہیں ہوتا۔ایسا مقصد خوشی اور فتح سے ہمکنار کرتا ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ ناممکن کام بھی ہے۔آپ ایک ہی دِن میں یہ فیصلہ کر کے کہ میں مسیح کی مانند بنوں گا اور پھر ایک دَم آپ مسیح میں عظیم اور فاتح سورما بن جائیں۔آپ میں ایسا کرنے کی اہلیت نہیں۔ضروری ہے کہ آپ ایمان میں چلیں، پھریں اور زِندگی گُزاریں۔آپ مسیح پر اعتقاد رکھیں کہ وُہ آپ کو ایسا شخص بنائے جیسا وُہ چاہتا ہے کہ آپ بنیں۔اضافی طور پر یہ ہے کہ جب آپ راستبازی اور بھلائی ظاہر کریں گے تو ضروری ہے کہ آپ ایمان پر بھی قائم رہیں۔لیکن آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟بائبل مقدس فرماتی ہے کہ ‘‘ایمان سُننے سے پیدا ہوتاہے اور سُننا خُداکے کلام سے’’۔خُدا کے کلام میں بس رَس جانے سے اِیمان کے طالب ہوں۔تب ایمان آپ کی باطنی اِنسانیت سے زِندگی کے پانی کے چشمہ کی طرح بہہ نِکلے گا۔

لیکن اَپنے اِیمان میں محبت اور شرافت کو بھی شامل کریں۔میں نے دریافت کیا کہ ایسے دو طرح کے مسیحی ہیں جو خُدا کے بڑے پُر زور طریقہ سے طالب ہوتے ہیں۔ایک قسم ایسی ہے جِسے میں ‘‘انبیا’’ کہتاہوں اور دُوسری قسم ‘‘رحم کرنے والوں’’ کی ہے۔انبیا ایمان، حلیمی اور راستبازی کے طالب ہوتے ہیں۔لیکن جو رحم کرنے والے ہیں وُہ محبت و حلیمی کے طالب ہو تےہیں۔تاہم پولس یہ نہیں کہتا کہ ایک یا دُوسری کے طالب ہوبلکہ وُہ دونوں کا طالب ہونے کو کہتاہے۔ہماری پاکیزگی کے معیار کیساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم محبت، حلیمی اور فروتنی کے طالب بھی ہوں۔ضروری ہے کہ ہم اُن سے پیار کریں جو ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ہم اُن لوگوں کا خیال رکھیں جن کو ہماری ضرورت ہے اور جو ہمارے اِرد گرد ہیں اُن کے ساتھ ہم حلیمی سے پیش آئیں۔ہم ایسے لوگ ہوں جو دوسروں پر رحم کرتے اور مہربان ہوتے ہیں۔

خُد اکا بندہ یا بندی تا عُمر مسیح کی اور اُس کی راستبازی کا طالب ہو گا۔ اُس میں برداشت ہو گی۔بہت سے لوگ بڑے جوش و جذبے سے آغاز کرتے ہیں لیکن اختتام بڑا بھیانک ہوتاہے۔لیکن جو خُدا کاہو گا وُہ اِس دوڑ کو مکمل کرے گا۔ وُہ اَپنی نظریں آخری حد پر لگائے گا جہاں مسیح کھڑا اُس کی انتظار کر رہا ہے۔وُہ عام دوڑ نہیں بلکہ ایک لمبی دوڑ دوڑ رہا ہے۔یہی سبب ہے کہ عبرانیوں کا مصنف کہتاہے ‘‘ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کی طرف تکتے رہو’’۔میں آپ کو نصیحیت کرتا ہوں کہ اِس سال مسیح کو اَپنامرکزِ نگاہ بنائیں۔فتمندی کی مسیحی زندگی گُزارنے کا آغاز و اختتام وُہی ہے۔دورانِ سال یسوع کی طرف دیکھیں اور فاتح خواتین و حضرات بنیں۔