Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ - ایماندار والدین

یہ بات اکثر تجربہ میں آئی ہے کہ جب کوئی مردِ خدا کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرتا ہے تو اُس کے پیچھے اُس کے والدین کا ایمان ہوتا ہے۔موسیٰ کیساتھ ایسا ہی تھا۔موسیٰ کو تاریخ ِ انسانی میں عظیم مردانِ خدا میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔تاہم اگر خدا پرست والدین کی دُعائیں اور ایمان اُس کیساتھ نہ ہوتا توجو کُچھ وہ تھا ویسا کبھی نہیں بن سکتا تھا ۔بائبل مقدّس میں آیا ہے«ایمان ہی سے موسیٰ کے ماں باپ نے اُس کے پیدا ہونے کے بعد تین مہینے تک اُسے چھپائے رکھا کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ بچہ خوبصورت ہے اور وہ بادشاہ کے حکم سے نہ ڈرے»(عبرانیوں ۱۱: ۲۳)۔

یہ بہت ہی عجیب اور خوفناک نظارہ تھا۔جب سے موسیٰ کی والدہ اُمید سے ہوئیں اُس وقت سے اب تک جتنے بھی نر بچے پیدا ہوئے تھے فرعونِ مصر نے اُنہیں مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا۔سارے مصر سے عبرانی والدین خدا کے حضور آ ہ و نالہ کرنے لگے۔بڑی بے رحمی سے معصوم بچوں کا لہو بہایا گیا۔لیکن موسیٰ کے والدین کو کوئی خوف نہ تھا بلکہ اُنہوں نے اس بچے کو تین ماہ تک چھپایا اور پھرایک ٹوکری میں رکھا جس کے نیچے رال لگی ہوئی تھی۔تب اُنہوں نے اس بچے کو مگر مچھوں سے بھرے ہوئے دریائے نیل میں رکھ دیا۔باقی تاریخ ہے۔موسیٰ کو عبرانیوں کی تاریخ میں ایک عظیم رہنما بننے کیلئے ترقی کرنا تھا ۔اُسے ایسا مردِ خدا بننا تھا جسے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے رہائی دلانی تھی۔تاہم خدا نے موسیٰ کو استعمال کیا مگر اُس کے والدین کے ایمان کو اکثربھلا دیا جاتا ہے۔

موسیٰ نے اپنے والدین کے ایمان کے وسیلے سے عظمت پائی۔اُن کا «خدا پر ایمان» تھا۔اُن ہی کے ایمان کے سبب سے موسیٰ نے اپنی منزل کی طرف پہلا قدم اُٹھایا۔موسیٰ کے والدین کے ایمان کی کئی خصوصیات ہیں۔پہلے تو اُنہوں نے موسیٰ کی زندگی میں خدا کا منصوبہ دیکھا۔جن حالات سے وہ گھرے ہوئے تھے اُنہوں نے اُن پر نگاہ کرنے سے انکار کیا۔اس کے بجائے بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ اُنہوں نے دیکھا کہ« یہ بچہ کوئی عام بچہ نہیں ہے»۔وہ ایک نِرالا بچہ تھا اور وہ اُس سے متعلق جانتے تھے۔اُنہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ وہ دُنیا جو اُن کے چوگرد ہے اُس کو تباہ کر دیگی۔اس کے بجائے وہ ایمان پر قائم رہے کہ خدا کا اُن کے بیٹے کی زندگی میں خاص منصوبہ ہے۔یہ سب کُچھ اُنہوں نے ایمان سے دیکھا۔

ہمیں آنکھوں دیکھے پر نہیں چلنا چاہئے۔مسیح کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایسی زندگی گزاریں جس کا دارومدار ایمان پر ہو۔ایمان کے ذریعے ہم وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے۔ہم اپنے بچوں کیلئے خدا کے منصوبہ کو دیکھتے ہیں اور اُن کیلئے دُعا میں ٹھہر سکتے ہیں جیسا کہ موسیٰ کے والدین ایمان کیساتھ دُعا میں ٹھہرے تھے۔ایمان ہمیں اس لائق کرتا ہے کہ حالات کو بالائے تاک رکھتے ہوئے اپنے بچوں کیلئے خدا کے دِل کی بات کو سمجھ سکیں۔

لیکن موسیٰ کے والدین نے اپنے گردونواح کے حالات کی وجہ سے خوف نہیں کھایا۔بائبل مقدّس فرماتی ہے«وہ بادشاہ کے فرمان سے خوف زدہ نہیں ہوئے»۔ہم ایسے زمانے میں رہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہت سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔مِیڈیا اُن کی زندگی پر منفی پہلو کے اعتبار سے بہت بُرا ا ثر ڈال رہا ہے۔منشیات کی ریل پیل ہے۔کم عُمری میں حاملہ ہو نے کی شرح آسمانوں کو چھو رہی ہے۔جیسا کہ فرعون کے سپاہی عبرانی بچوں کو قتل کر رہے تھے اسی طرح HIV ایچ آئی وی کا وائرس ہمارے نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اُتار رہا ہے۔لیکن مسیحی والدین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم آسمان کی طرف دیکھ کر اپنے بچوں کیلئے اِلٰہی منصوبے کو دیکھ سکتے ہیں۔ہم حالات کے خوف میں نہیں بلکہ خدائے قادر پر ایمان رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔

ہم دونوں میاں بیوی نے اپنے دونوں بچوں کو ماں کے پیٹ ہی میں خدا کیلئے مخصوص کیا۔اُن دونوں نے کم عُمری میں ہی مسیح کو قبول کر لیا۔عمرِ شباب میں دونوں ہی بغاوت کا شکار ہوئے۔ایسا بھی وقت تھا کہ میں اور میری بیوی اپنے بچوں کے گناہوں پر روتے تھے۔لیکن ہم نے دیکھا کہ خدا وفادار ہے۔خدا کا روح جو ہمارے دِلوں میں ہے وہ اس دُنیا کی کِسی بھی بڑی سے بڑی فوج سے جو ہمارے بچوں کے مستقبل کو تباہ کر سکتی تھی بڑا ہے۔میں نے یہ بات سیکھی ہے کہ والدین کو خوف میں نہیں رہنا ہے۔وہ ایمان کے مطابق زندگی بسر کر سکتے ہیں اور خدا نے جو کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ اُس کے مطابق کریگا۔

نتیجةً موسیٰ کے والدین نے ایمان کا قدم لیا۔بہت سے لوگوں کی یہ غلط فہمی ہے کہ ایمان ہماری فطرت میں کندہ ہے۔ہمیں بس خدا پر بھروسہ کرنا ہے اور مزید کُچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔مجھے یہ اُصول کلامِ مقدّس کے منافی نظر آتا ہے۔جب ہم عبرانیوں ۱۱، باب(ایمان کا بہت بڑا ہال) پڑھتے ہیں۔ ہم ایسے حضرات و خواتین کو دیکھتے ہیں جنہوں نے صرف ایمان پر کام کیا اور واقعی کام کیا۔ ایمان کام کرتا ہے۔ایمان اور کاموں میں کِسی طرح کا کوئی تضاد نہیں ہے۔ بلکہ بائبل مقدّس کہتی ہے «اسی طرح ایمان بھی اگراُس کے ساتھ اعمال نہ ہوں تو اپنی ذات سے مُردہ ہے»(یعقوب ۲: ۱۷)۔

موسیٰ کے والدین بس ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ «اے خدا ہمارا تُجھ پر بھروسہ ہے۔ہمارے بچے کو بچا لے» نہیں! بلکہ اُنہوں نے ایک چھوٹی سی ٹوکری بنائی اور اس پر رال لگائی۔یوں اُنہوں نے اس بچتے اور ٹوکری کو خدا کی حفاظت میں دے دیا۔اُنہوں نے اپنا کام کیا اور خدا نے اپنا کام کیا۔خدا کا کام بڑا معجزانہ تھا۔اُن کا کام محنت کا تھا۔اُنہوں نے اُس کی جان خطرے میں ڈالی اور اُسے خدا کے سپرد کیا۔خدا نے اس بچے کو لیا اور اُسے بادشاہی میں لے گیا۔اُنہوں نے اُسے دریا میں رکھ دیا جبکہ خدا نے اُسے فرعون کے محل میں پہنچا دیا۔اُنہوں نے خدا کو پکارا اور اس نے اُنہیں جواب دیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم آسمان پر جائیں گے تو بہت سی حیران کُن باتیں ہونگی۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن میں سے ایک بات یہ دیکھنے میں آئیگی کہ دُعا گو والدین کی دُعا ﺅں کے سبب سے کِتنے خواتین و حضرات عظیم لوگ بنے۔خدا کے لوگ بننے کا آغاز اکثر ایسی ماﺅں سے ہوتا ہے جو علیحدگی میں اپنے بچوں کیلئے دُعا میں آنسو بہاتی ہیں۔آج بہت سے حضرات و خواتین جس مقام پر ہیں وہ اس لئے کہ کہ کل اُن کیلئے مقدّس خواتین نے دُعا کی ہے۔