Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ کا اسکول جانا

خدا کے لوگوں میں سے ہر ایک کو تعلیم کی ضرورت ہے۔لیکن جو تعلیم ہمیں خداوند کا خادم بناتی ہے وہ ہمارے معاشرے کے اسکولوں سے منفرد ہے۔دُنیاوی اسکول لوگوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں جبکہ خدا کا اسکول زندگی کا تجربہ بخشتا ہے۔کوئی دُنیاوی اسکول میں جاتا ہے جو دُنیاوی ادارے اور عمدہ عمارتیں ہیں۔لیکن خدا کے اسکول کے گراﺅنڈ میں اُسے چوٹیں لگتی ہیں اور اُسے فروتن ہونا پڑتا ہے۔دُنیاوی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے والا ڈِگری حاصل کرتا ہے جبکہ خدا کے اسکول کے مکمل کرنے پر اُس کا کردار تعمیر ہوتا ہے۔

موسیٰ خدا کے اسکول میں گیا۔وہ مصر کے اہم ترین اسکولوں میں تعلیم حاصل کر چُکا تھا۔وہ دُخترِ فرعون کے بیٹے کے طور پر پلا بڑھا۔ معاشرے میں اُسے بہترین مواقع فراہم تھے۔لیکن اُن میں سے کِسی نے بھی اُسے زندگی میںخدا کے مقصد کیلئے تیار نہ کیا۔فطرتی علم تو اُس نے بہت حاصل کیا لیکن مسیح کا علم اُس کے پاس نہیں تھا۔لیکن موسیٰ کی تعلیم کیلئے خدا کا اپنا منصوبہ تھا۔ا س سے قبل کہ موسیٰ خدا کے اسکول میں داخلہ لیتا خدا نے موسیٰ کو ناکام ہونے دیا۔

بائبل مقدّس فرماتی ہے«اتنے میں جب موسیٰ بڑا ہوا تو باہر اپنے بھائیوں کے پاس گیااور اُن کی مشقتوں پر اُس کی نظر پڑی اور اُس نے دیکھا کہ ایک مصری اُس کے ایک عبرانی بھائی کو مار رہا ہے۔پھر اُس نے ادھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اُسے ریت میں چھپا دیا۔پھر دوسرے دِن وہ باہر گیا اور دیکھا کہ دو عبرانی آپس میں مار پیٹ کر رہے ہیں۔ تب اُس نے اُسے جس کا قصور تھا کہا کہ تُو اپنے ساتھی کو کیوں مارتا ہے؟۔اُس نے کہا تُجھے کِس نے ہم پر حاکم یا منصف مقرّر کیا ۔کیا جِس طرح تُو نے اُس مِصری کو مار ڈالامجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے؟تب موسیٰ یہ سوچ کر ڈرا کہ بھلا شک یہ راز فاش ہو گیا۔جب فرعون نے یہ سُنا تو چاہا کہ موسیٰ کو قتل کر ے پر موسیٰ فرعون کے حضور سے بھاگ کر ملکِ مدیان میں جا بسا۔ وہاں وہ ایک کنوئیں کے نزدیک بیٹھا تھا۔

اس سے قبل کہ خدا موسیٰ کو اپنی بادشاہی کیلئے استعمال کرتااُس نے اُسے ناکامی کا سامنا کرنے دیا۔خدا نے موسیٰ کو مدیان کے صحرا میں اپنے اسکول میں داخلہ دیا۔یوں اُس نے انکساری کی یونیورسٹی میں پروفیسر روح القدس کے وسیلے تعلیم پائی۔گریجویشن پروہ مردِ خدا بن گیا۔اُس نے ڈگری یعنی «ڈائریکٹریٹ آف انڈیپنڈنس آف گاڈ »حاصل کی۔

مدیان میں فروتنی کی یونیورسٹی میں موسیٰ کو کئی کورسزز کرنا تھے۔پہلا سبق اُسے یہ سیکھنا تھا کہ خدا کا کام خدا کے مقرر کردہ وقت پر ہی ہونا چاہیئے۔موسیٰ نے مصری کو مارا۔اُس نے اپنے لوگوں کے دُکھ کو دیکھا۔وہ چاہتا تھا کہ اُنہیں غلامی سے چھڑائے۔لیکن اس کام کےلئے ابھی چالیس سال باقی تھے یعنی ابھی بہت وقت تھا۔خدا کا اپنا ایک وقت ہے۔مردِ خدا ایک ایسا شخص ہے جو صحیح وقت پر صحیح مقام پردرست پیغام کیساتھ موجود ہو۔موسیٰصحیح مقام پر تو تھا لیکن وقت درست نہ تھا۔موسیٰ کو روح القدس کی رہنمائی میں چلنا اور خدا کے ٹھہرائے ہوئے وقت پر کام کرناسیکھنا تھا۔

لیکن موسیٰ کو یہ بھی سیکھنا تھا کہ خدا کا کام خدا کی قدرت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔موسیٰ نے مصریوں کیساتھ روحانی جنگ کے وسیلے سے تربیت پائی اور مہارت حاصل کی۔لیکن خد اکا کام انسانی زور سے نہیں کیا جا سکتا۔موسیٰ نے دیکھا کہ اُس کے عبرانی بھائیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔وہ اسے درست کرنا چاہتا تھا۔اُس نے ہر ممکن کوشش کی مگر اس کی یہ کوشش ناکام رہی بلکہ اس کے نتیجے میں اُس کے لوگوں پر مزید ظلم ہونے لگا۔اُسے یہ سیکھنا پڑا کہ خدا کا کام« انسانی زور سے نہیں بلکہ خدا وندکے روح سے ہی کیا جا سکتا »ہے۔

موسیٰ کو فروتنی کی یونیورسٹی میں ایک آخری سبق سیکھنا تھا۔اُسے یہ سیکھنا تھا کہ خدا کاکام خدا کے طریقے سے کیا جانا چاہیئے۔خدا کا طریقہ کردار ہے۔دُنیاوی طریقے موت کی طرف لے جاتے ہیں اورہمیںزیادہ غلامی میں ڈال دیتے ہیں۔خدا کا طریقہ ایسا ہے کہ وہ ہمیں مسیح کے کردار کی مانند بنائے گا۔اس سے قبل کہ موسیٰ فروتنی کی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوتا اُسے مدیان کے پہاڑ پرخدا سے ملاقات کرنا ضروری تھی۔اسی ملاقات کے باعث ہی تو اُسے حقیقتاً خدا کو جاننا تھا۔ خدا کی بادشاہی سے فارغ ہونے کے بعد ہی اُس کے کردار کو تعمیر ہونا تھا۔تب ہی موسیٰ کو تیار ہونا تھا کہ وہ خدا کے لوگوں کو غلامی سے نکالے۔

کیا آپ خدا کے لوگ بننا چاہتے ہیں؟۔تو پھر خدا کے اسکول میں داخلہ لے لیں۔