Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ کی خدا سے ملاقات

ہر عظیم رہنما کی زندگی کا ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جو قابلِ بیاں ہوتا ہے۔جب تک اس لمحے کا بیان نہ کیا جائے اُس وقت تک ایسے رہنما کی پیروی کرنا لوگوں کیلئے دُشوار ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کو سمجھ نہیں رہے ہوتے۔ایسے لوگوں کیلئے یہ جاننا محال ہو جاتا ہے کہ جو کُچھ یہ رہنما کرتا ہے وہ کیوں کرتا ہے اور وہ کونسی بات ہے جو کِسی رہنما کو درست قرار دیتی ہے ۔وہ لمحہ ایسا وقت ہوتا ہے جو کِسی کی قیادت کو صحیح سِمت پر ڈالتا ہے۔وہ ایسا وقت ہوتا ہے جب کِسی شخص کا بوجھ نظر آتاہے۔

کئی سال پہلے ڈانکولے نے جو امریکہ کا وائس پریذیڈنٹ تھا اپنی داستانِ حیات تحریر کی۔اُس نے بتایا کہ میڈیا کِس طرح سے اُسے مسلسل غلط سمجھتا رہا۔مِڈیا نے اکثر ایسا تاثر دیا جس سے یوں لگے کہ وائس پریذیڈنٹ احمق ہے۔تاہم جو وائس پریذیڈنٹ کو جانتے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنے زمانے کے لحاظ سے انتہائی سمجھدار اور ذہین رہنما ﺅں میں سے ایک ہے۔وائس پریذیڈنٹ نے کہا کہ جس وجہ سے مِیڈیا مجھے غلط سمجھتا ہے وہ یہ ہے کہ مُجھے کبھی پریس کے سامنے اپنا موقف بیان کرنے کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔

کِسی رہنما کی کامیابی یا ناکامی کا دارو مدار لوگوں کی مقبولیت پرہے۔اپنے زمانے کے لحاظ سے عظیم ترین رہنما موسیٰکیساتھ بھی ایسا ہی تھا۔اُس نے بنی اسرائیل کے غلامی سے نکلنے میں رہنمائی کی۔تاریخ کے اس نازک لمحے میں وہ خدا کے ہاتھ میں اوزار کی حیثیت سے تھا۔تاہم موسیٰ کی خدا کیساتھ ملاقات ہوئی جو اُس کیلئے ایک اہم ترین تجربہ بن گیا۔وہ صحرائے مدیان میں ایک غریب چرواہے کی حیثیت سے تھا جب پہاڑ پرخدا اُس پر ظاہرہوا۔ یہ ایسا نظارہ تھا کہ جھاڑی جلتی تو تھی مگر بھسم نہیں ہوتی تھی۔ اُس جھاڑی میں خدا تھا۔جب خدا نے موسیٰ کی توجہ گرفت کر لی تب خدا نے موسیٰ کو نام لے کر پکارا۔اس سے پہلے موسیٰ کو خدا کیساتھ اس طرح کا کبھی کوئی تجربہ نہیں ہوا۔یہ ایسا تجربہ تھا جس کی وجہ سے اُس کی زندگی اور خدمت کو مزید واضح ہو جانا تھا۔

خدا نے اپنا کردار اور فطرت اُس پر آشکارا کی۔اُس نے موسیٰ کو بتایا«تب اُس نے کہا ادھر پاس مت آ۔اپنے پاﺅں سے جوتا اُتار کیونکہ جس جگہ تو کھڑا ہے وہ مقدّس زمین ہے»(خروج ۳: ۵)۔ خدا کی وہ پہلے صفت جسے موسی نے جانا وہ یہ تھی کہ خدا پاک ہے۔وہ اس حقیقت کو نہیں جانتا تھا۔جب خدا آتا ہے تو پاکیزگی آتی ہے۔جب ہم خدا کی حضوری میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہم وہاں کھڑے ہوتے ہیں جہاں پر سراپا پاکیزگی بسی ہوتی ہے۔خدا میں کوئی بھی بات ایسی نہیں جو کامل نہ ہو یا پاک نہ ہو۔جب ہم خدا سے ملاقات کرتے ہیں تو ہمیں بھی موسیٰ کی طرح ہی کرنا ہو گا۔ہمیں اپنی زندگی سے ہر ایسی بات کو دور کرنا ہے جو ہمارے پاﺅں کو اُس مقدّس سرزمین میں ٹِکنے نہیں دیتی کہ ہم اُس مقدس سر زمین میں رہیں۔

لیکن خدا کی ایک اور بھی خصوصیت تھی جو موسیٰ کی زندگی سے ظاہر ہوتی ہے اور وہ خدا کی ابدی قدرت ہے۔جب خدا نے اپنے آپ کو موسیٰ پر ظاہر کیا تو کہا «....میں تیرے باپ کا خدا یعنی ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔موسیٰ نے اپنا منہ چھپا لیا کیونکہ وہ خدا پر نظر کرنے سے ڈرتا تھا»(خروج ۳: ۶)۔جب موسیٰ اپنے لڑکپن میں بڑا ہو رہا تھا تو اُس نے ابرہام ، اضحاق اور یعقوبکی کہانیاں سُنی ہوں گی۔اور اب وہی خدا جس نے بڑی قدرت کیساتھ کام کیااپنے آپ کو موسی پر ظاہر کر رہا تھا۔کبھی کبھار موسی بھی خوف وہراس میں مبتلا ہو جاتا تھا۔وہ نہایت ہی عظیم، ازلی و ابدی اور قدرت والے خدا کے حضور کھڑا تھا۔اس ملاقات کے بعد موسیٰ بالکل بدل گیا تھا۔

لیکن موسی پر یہ بھید بھی کھلا کہ یہ قادرِ مطلق اور مقدّس خدا رحم و ترس کا بھی خدا ہے۔«اورخدا نے کہا میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیںخوب دیکھی اور اُن کی فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سُنی اور میں اُن کے دُکھوں کو جانتا ہوں»(خروج۳: ۷)۔لوگوں نے یقینا سوچاہو گا کہ خدا ہمیں بھول گیایا وہ ہمارے دُکھوں کی پرواہ ہی نہیں کرتا۔ لیکن خدا نے موسیٰ پر اپنے آپ کو مختلف طور پر ظاہر کیا۔اُس نے خدا کواپنے لوگوں پر ترس کھانے والے خدا کے طور پر دیکھا۔اسی ترس کی وجہ سے موسیٰ بنی اسرائیل کو غلامی سے رہائی دلانے والا ہوا۔خدا کے ساتھ شرفِ ملاقات کے بعد موسیٰ کی زندگی، خدمت اورقیادت پہلے جیسی کبھی نہیں ہونے کو تھی۔وہ خدا سے ملا اور پھروہ پہلے جیسا کبھی نہیں رہا۔اُس کی زندگی اور قیادت میں یہ بہت زبردست لمحہ تھا۔

کسی بھی مردیا عورت کی زندگی میں اہم ترین لمحہ وہ ہو گا جس میں کوئی شخص خدا سے شرفِ ملاقات حاصل کریگا۔جب ہماری خداکیساتھ ملاقات ہو جائے تو پھر یہ سوال نہیں رہیگا کہ ہماری زندگی کیسی ہے۔یہ واضح ہو جائیگا۔ آپ کون ہیں اوراپنی قیادت میں کس طرف جا رہے ہیں اس کا دارومدار اس پر ہے کہ آپ کی ملاقات کس سے ہوئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ جو آپ جانتے ہیں وہ نہیں بلکہ جسے آپ جانتے ہیں اُسی کی وجہ سے ہماری پہچان ہوتی ہے۔