Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسی کا ایمان

بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ «بغیر ایمان کے خدا کو پسند آنا نا ممکن» ہے۔ایمان ہی کے سبب سے خدا کے لوگوں کو منزل نصیب ہوتی ہے۔اسی سے زندگی میں اُن کی پہچان اور قدرو قیمت ہوتی ہے۔ہر برکت کا حصول اور ہر رکاوٹ پر غلبہ ایمان ہی کے وسیلے سے پایا جا سکتا ہے۔ساری فتحمند مسیحی زندگی کا دارو مدار ہی ایسے شخص پر ہے جو مکمل طور پر ایمان کی زندگی گزارتا ہے۔

موسیٰ ایمان ہی کی وجہ سے مردِ ایمان ٹھہرا۔خدا نے موسیٰ کو جس کِسی کام کیلئے بھی استعمال کیا وہ ایمان ہی کا کام تھا۔موسیٰ کوجتنے معجزات کا تجربہ ہوا وہ ایمان ہی کے وسیلہ سے ہوا۔ہر فتح مند مسیحی مردو زن میں ایمان کی قدرمشترک ہے۔

بائبل مقدّس تین مختلف عوامل کا ذکر کرتی ہے جن میں موسیٰ نے ایمان کا قدم اُٹھایا۔ پہلا عمل اُس کی نئی شناخت تھا۔پاک نوشتوں میں آیا ہے«ایمان ہی سے موسیٰ نے بڑے ہو کرفرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے انکار کیا»(عبرانیوں ۱۱: ۲۴)۔موسیٰ کو اپنی پہچان کروانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ فرعون کی بیٹی کے بیٹے کے طور پر یا ایک عبرانی غلام کے طور پر کیسے پہچاناجائے؟۔یقیناً موسیٰ نے صحیح فیصلہ کیا۔اُس نے خدا کے لوگوں کیساتھ اپنی شناخت کروائی۔

بہت سے مسیحی شکست خوردہ زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اپنی شناخت کے لحاظ سے غلط فیصلہ کیا۔وہ مسیح اور اُس کے لوگوں کیساتھ اپنی پہچان کروانے سے شرماتے ہیں۔اس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ شکست خوردہ رہتے ہیں۔اگر ہم فتحمند زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو پھر نہ تو نجات دہندہ سے اور نہ ہی اُس کے لوگوں سے شرما ئیں۔

موسیٰ کی زندگی میں جو نہایت ضروری تھا اُس نے اُس کا بھی انتخاب کیا۔اُس کا ایمان اُسے بہت ہی اعلیٰ اقدار کی طرف لے گیا۔وہ چیزیں جو ہمارے لئے اہم ہیں اُن ہی کی قدر ہوتی ہے۔جب تک وہ مصر میں رہا اُس کی اقدار بھی غلط قسم کی تھیں۔خدا اُسے اُس کی زندگی میں ایسے مقام پرلے کر آیا جہاں پر اُسے عِزت شہرت یا ایذا رسانی اور رُسوائی کی زندگی بسر کرنے کاچُناﺅ کرنا تھا۔موسیٰ نے اس دوسری بات کا انتخاب کیا اوریوں وہ نسلِ انسانی کی تاریخ میں ایک عظیم اور انتہائی معروف شخص بن گیا۔شہرت اور عزت کی تلاش میں عموماً ظاہری طور پر انسان بھلا لگتا ہے لیکن اگر باطن کی بات کی جائے تو وہ گلے سڑے ہوتے ہیں اور یوں وہ شکست کھا جاتے ہیں۔دوسری طرف خدا کی فرمانبرداری کرنا خواہ اُس کیلئے کیسی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے اکثر بڑی خطرناک اور مشکل لگتی ہے لیکن یہ فتح اور زندگی کی طرف لے جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس شہرت کے حصول کا ہم نے انکار کیا تھا اب وہ بھی مل جائے۔بائبل مقدّس فرماتی ہے «اس لئے کہ اُس نے گناہ کا چند روزہ لطف اُٹھانے کی نسبت خدا کی اُمّت کیساتھ بدسلوکی برداشت کرنا زیادہ پسند کیا۔اور مسیح کیلئے لعن طعن اُٹھانے کو مصر کے خزانوں سے بڑی دولت جانا کیونکہ اُس کی نگاہ اجر پانے پر تھی»(عبرانیوں ۱۱: ۲۵- ۲۶)۔

آخر پر موسیٰ نے خوف پر ایمان کے ذریعے فتح پائی۔اُس نے اُس پر بھروسہ کرنے کا انتخاب کیا جسے اُس نے دیکھا بھی نہیں تھا تو بھی اُس نے ہر روز اُس پر بھروسہ کیا۔شیطان ایسا کر سکتا تھا کہ موسیٰ بادشاہ کا ہی محتاج رہے لیکن اس کے جائے اُس نے بادشاہوں کے بادشاہ پر اپنی نظریں لگا رکھیں تھیں۔«ایمان ہی سے اُس نے بادشاہ کے قہر کا خوف نہ کر کے مصر کو چھوڑ دیا اس لئے کہ وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم رہا»(عبرانیوں ۱۱: ۲۷)۔

بہت سے مسیحی خدا کے ساتھ اپنے سفر میں اچھا آ غاز کرتے ہیں لیکن دوڑ کا اختتام نہایت کمزوری کے عالم میں کیا۔خوف اُن کو لنگڑا کر دیتا ہے۔ایمان ہی کے وسیلے سے قوتِ برداشت ملتی ہے۔ ایمان اور خوف ایک ہی گھر میں نہیں رہ سکتے۔ایمان کے وسیلے سے ہم زندگی میں فتح پاتے رہتے ہیں۔یہ چُناﺅ کا معاملہ ہے۔موسیٰ نے خد کی طرف دیکھنے کا انتخاب کیا۔آپ کس کا انتخاب کرتے ہیں؟۔