Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ - خدا کا قریبی عرفان

جس رات میں نے مسیح کو قبول کیا وہ رات میں کبھی نہیں بھولوں گا۔میں نے سوچا«اس سے بہتر نہیں ہو سکتا»۔میں نے اُس خدا کو پہچان لیا جس نے ساری کائنات خلق کی۔جب میں نے اُس کی محبّت اور قدرت کا اپنی زندگی میں تجربہ کیا تو میرا دِل ہِل گیا تھا۔میں اُس میں مگن ہو گیا تھا۔میری زندگی پُر معنی ہو گئی۔میں ایک نئی سوچ کیساتھ دیکھنے لگا۔لیکن یہ اُس سفر کا صرف آغاز تھا جس نے مجھے ایک خاص رویا کی طرف لیجانا تھا جونسل کُشی، جنگوں کے سبب سے تباہ شدہ ممالک کیلئے الٰہی محبت، فضل اور معافی کا پیغام تھا۔یہ خدا کیساتھ قریبی تعلق کے سفر کا آغاز تھا۔

کسی بھی مردِ خدا کی پیدائش ایک ہی لمحے میں ہوتی ہے لیکن زندگی بھرموثر ہونے کیلئے اُس کی ترقی ہوتی رہتی ہے۔اکثر اوقات مسیحیوں کا یہ رویّہ ہوتا ہے کہ جب ایک مرتبہ کوئی شخص روحانی پیدائش پا لیتا ہے تو اُس کے بعد وہ «پہنچا ہوا» تصوّرہوتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت سفر کا صرف آ غاز ہوتا ہے۔نجات پا لینا ہی ہماری منزل نہیں بلکہ یہ نقطئہ آغاز ہے۔ہم نجات میں خدا کو پہچان لیتے ہیں لیکن اگر ہم مردانِ خدا بننا چاہتے ہیں تو ضرور ہے کہ ہم اپنی تقدیس میں بڑھتے چلے جائیں۔

موسیٰ خدا سے صحرائے مدیان میں مِلا۔خدا نے اپنے آپ کو موسیٰ پر ظاہر کیالیکن یہ صرف خدا کیساتھ رشتے کا آغاز تھا۔اُسے خدا کو قریب سے جاننا تھا۔جب موسیٰ نے اُس خوبصورت دِن کو خدا سے ملاقات کر لی تو اُس کے دِل میں اس نئے رشتے کے بارے میںمنطقی سے سوالات اُبھرنے لگے۔خدا کے ساتھ قریبی رشتے میں ترقی پانے کیلئے موسیٰ کوتین طریقے اختیار کرنا پڑے۔

پہلے تو اُسے یہ جاننا پڑا کہ خدا ہمہ جا حاضر ہے۔خدا نے موسیٰ سے کہا«میں تمہارے ساتھ ہوں گا»خروج ۳: ۱۲)۔موسیٰ کو یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ خواہ وہ کہیں بھی کیوں نہ چلا جائے خدا وہاں بھی موجود ہو گا۔ جب وہ فرعون کے سامنے اور بحرِ قلزم کے سامنے کھڑا ہو گا تو خدا وہاں اُس کے ساتھ ہو گا۔وہ شہر و بیابان میں اُس کے ساتھ ہو گا۔وہ پہاڑ پر بھی اُس کیساتھ ہو گا اور جب وہ پہاڑ پر سے وادی میں آئے گا تووہ وہاں بھی اُس کے ساتھ ہو گا۔

جب رومانیہ میں انقلاب آیا تو لوگوں کے دِلوں سے ایک آہ نکل رہی تھی۔دہریوں کی تعلیم کے سبب سے اُن کی ساری زندگی ایک خاص طریقئہ کار کے ذریعے اُن کے ذہن صاف کئے جاتے رہے۔ لیکن ایک ایسا الٰہی لمحہ آیا کہ خدا آ گیا اور اپنے آپ کو اُن لوگوں پر ظاہر کیا اور رومانیہ کے دوسرے بڑے شہر کے تقریباً دو لاکھ لوگ یہ نعرہ لگانے لگے جس کے معنی یہ ہیں کہ«خدا ہمارے ساتھ ہے»۔

جب یسوع اس کُرّہ ارض پر آیا تو اُسے جو نام دئے گئے اُن میں سے ایک«عمانوایل» تھا۔جس کے معنیٰ ہیں« خدا ہمارے ساتھ» ہے۔ جب خدا اپنے آپ کو اپنے لوگوں پر ظاہر کرتا ہے اور اُس کی ہمیشہ سے یہ آ رزو رہی کہ لوگ خواہ کہیں کیوں نہ ہوں یقین رکھیں کہ میں اُن کیساتھ ہوں۔لیکن خدا نے ازلی و ابدی ہونے کی حیثیت سے موسیٰ پر بھی ظاہر کیا۔خدا ہر وقت ہرجگہ موجود ہے۔موسیٰ نے خدا سے منطقی سوال پوچھا۔«تیرا نام کیا ہے؟»۔اگر اُسے واپس بنی اسرائیل میں جانا تھا تو کم از کم اُسے اُس شخصیت کا نام جاننا ضروری تھا جو اُسے بھیج رہی تھی۔اس سوال کا خدا نے جو جواب دیا اُس کا تعلق اُس کی اپنی ذات سے تھا۔اُس نے کہا«میں جو ہوں سو میںہوں»(خروج ۳: ۱۴)۔غور فرمائیں کہ اُس نے یہ نہیں کہا«میں جو تھا وہ تھا» یا «میں جو ہوں گا وہ ہوں گا»۔موسیٰ کیساتھ اس لمحے جو خدا تھا وہ «جو ہوں سو ہوں»تھا۔آج وہ «میں ہوں» ہے۔کل بھی وہ «میں ہوں» ہو گا ۔وہ بوڑھا نہیں ہوتا۔وہ «کل آج بلکہ ابد تک یکساں» ہے۔

بالآخر خدا نے موسیٰ کو مکمل طور پر وفادار پایا۔«پھرخدا نے موسیٰ سے یہ بھی کہا کہ تُو بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ خداوند تمہارے باپ دادا کے خدا ابرہام کے خدا اضحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ابد تک یہی میرا نام ہے اور سب نسلوں میں اسی سے میرا ذکر ہو گا»(خروج ۳: ۱۵)۔خدا نے ابرہام، اضحاق اور یعقوب کیساتھ جو کیا وہ موسیٰ کیساتھ بھی ویسا ہی کریگا۔خدا نے اُسکے آبا و اجداد سے جو وعدے کیئے وہ اُن وعدوں کے پورا کرنے میں وفادار رہا اور ایسے ہی موسیٰ کیساتھ بھی کریگا۔

موسیٰ مردِ خدا بن گیا اور یہ اس لئے نہیں کہ وہ ایک عظیم شخص تھا بلکہ اس لئے کہ اُس نے خدائے عظیم کو پہچان لیا تھا جو ہر وقت ہمہ جا حاضر اور مکمل طور پر وفادار ہے۔اور جو خوبصورت خیال یہ ہے کہ موسی کا خدا مسیح یسوع میں ہر ایماندار کا خدا ہے۔خدا کا بندہ ہونا یہ ہمارے اندر کی بات نہیں ہوتی بلکہ خدا اُسے اپنا بندہ بناتا ہے۔یہ ایسا شخص ہو سکتا ہے جس کی روح پر خدا کی ذات کی خصوصیات کا نشان ہو جو نشان خدا کی بادشاہی کیلئے مدد گار ثابت ہوتا ہے۔انسانی دِل پر ایسا نشان صرف ایک ہی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ نجات دہندہ کیساتھ تعلق برقرار رہے۔