Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ - خدا کا دوست

جب زندگی کا چراغ گُل ہو جائے گا تو اُس کے بعد آپ کیا چاہتے ہیں کہ کیسے پہچانے جائیں؟ آپ کیسا نمونہ چھوڑ نا چاہیں گے؟اگر چاہتے ہیں کہ آپ کی قبر کی تختی پر ایک ایسا جملہ لکھا ہوا ہو جو آپ کی زندگی کا بیان کرے توآپ کون سا جملہ پسند کرینگے؟۔ ان سوالات کے جوابات آپ کو بتائیں گے کہ آپ کون ہیں۔

موسیٰ کو بائبل مقدّس میں کئی طرح سے بیان کیا گیا ہے۔اُسے« مردِ خدا، اسرائیل میں پیدا ہونے والا عظیم نبی اور خداوند کا خادم بھی کہا گیا ہے»۔لیکن موسی ٰکے متعلق ایک نہایت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ اُسے خدا کا دوست کہا گیا ہے۔بائبل مقدّس میں آیا ہے «اور جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خداوند روبرو ہو کرموسیٰ سے باتیں کرتا تھا....»(خروج ۳۳: ۱۱)۔موسیٰ نے خدا کیساتھ ایسا رشتہ قائم رکھاجس کی وجہ سے اُسے ہمیشہ خدا کا دوست کہا جائیگا۔بہت سے لوگوں نے مجھے کہا کہ خدا اُنکا دوست ہے لیکن میں نے شاید ہی کسی کو یہ کہتے ہوئے سُنا ہو«میں خدا کا دوست بننا چاہتا ہوں»۔خدا کا دوست وہ ہے جو خدا کی آواز سُنتا اور اُس کی فرمانبرداری کرتا ہے۔خدا کیساتھ موسیٰ کے رشتے میں صرف موسیٰ ہی نہیں بولتا تھا بلکہ وہ خدا کی آواز سُنتا تھا۔

کئی سال پہلے جب مجھے اسرائیل جانے کا اتفاق ہوا تو ایک یہودی ایماندار نے مجھ سے کہا«میرے ملک میں بہت لوگ آتے ہیں اور اُن کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔وہ یا تو سیرو تفریح کیلئے یا بائبل مقدّس سے متعلق مزید جاننے کیلئے آتے ہیں۔لیکن ایسے لوگ بہت ہی کم آتے ہیں جو خدا کو بہتر طور پر جاننے کے خواہاں ہوں»۔اُس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا«میں ایسا شخص بننا چاہتا ہوں جو خدا کے دِل کو جانتا ہو۔میں خدا کا دوست بننا چاہتا ہوں»۔فتحمند خواتین و حضرات وہ ہیں جو خدا کے دوست ہیں۔وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خدا کی آواز سُننا اور اُس سے مسلسل بات چیت کرنا سیکھا ہے۔خدا کیساتھ اس رشتے کو چُرانے والا جو سب سے بڑا چور ہے وہ بہت زیادہ ذمہ داریاں اور جلدی جلدی سب کُچھ کرتا ہے۔اس طرح کی مصروفیت کی وجہ سے خدا کیساتھ ہمارا رابطہ دَب جاتا ہے۔تاہم موسیٰ نے اسے جگہ دینے سے انکار کیا۔وہ بہت ہی مصروف شخص تھا۔اُس پر تقریباً3000,000لوگوں کی ذمہ داری تھی۔اُس پر اُن کی خوراک، لباس، گھر، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی ذمہ داری کا بوجھ تھا۔

موسیٰ ان تمام تر ذمہ داریوں کو کیسے سر انجام دیتا ہو گا اور پھراتنا وقت اُس کے پاس کہاں تھاکہ اُسے« خدا کا دوست» بھی کہا گیا۔بات سادہ سی ہے۔اُس کے پاس ایک خیمہ تھا اور وہ اِسے بنی اسرائیل کی آبادی سے باہر گاڑتا تھا۔وہ وہاں جاتا اور خدا سے ہمکلام ہوا کرتا تھا۔یہ ایک ایسا الگ مقام تھا جہاں وہ جا کر اُس خداسے ملاقات کیا کرتا تھا جِسے وہ پیار کرتا تھا۔جو خدا کا دوست ہے وہ ایسا مقام اور ایسا وقت ڈھونڈے گا جہاں پر وہ اکیلے میں خدا کے دِل کی آواز سُن پائے۔وہ بائبل مقدّس اپنے ہاتھ میں لئے اور سُننے والے رُوحانی کان لئے خدا کے حضور آئیگا تاکہ خدا کی آواز سُن پائے اور خدا اپنے دِل کے گہرے بھید اُس پر آشکارہ فرمائے۔

خدا کا دوست وہ نہیں جو اُس کے حضور بس چکرلگاتا رہتا ہے۔ خدا سے بات کرنے کیلئے وقت لگتا ہے۔ماٹن لوتھر عموماً یہ کہا کرتے تھے کہ میں جتنا زیادہ مصروف ہو جاتا ہوں اُتنا ہی زیادہ مجھے دُعا کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔انتہائی بڑی ذمہ داریوں کے سبب سے اور مصروف ترین ہونے کے سبب سے ہم مارٹن لوتھر کے بیان کے برعکس کام کر رہے ہیں۔پہلا کام جو ہمیں کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم خدا کےساتھ وقت نہیں گزارتے۔لیکن اگر ہم واقعی خدا کے لوگ بننا چاہتے ہیں توجانیں گے کہ خداباپ کے ساتھ کافی زیادہ وقت گزارے بغیرہم ایسا نہیں کر سکتے۔ہمیں پھر سے اپنی ترجیحات کو سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خدا کیساتھ دوستی ہماری زندگی میں پہلا مقام لے گی۔

ہمارے بچے اورپھر اُن کے بچے کِس طرح کا نمونہ چھوڑیں گے؟۔اس کا دارومدار اس پر ہے کہ کیا اہم ہے۔یہ کتنی اہم بات ہے کہ آپ خدا کے دوست بن جائیں؟