Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ - انکسار

بائبل مقدّس میں ایک مرتبہ ایک سوال پوچھا گیا «اور خدا آپ سے کیا چاہتا ہے؟»۔یہ سوال کسی بھی ایسے شخص کیلئے اچھا ہے جو خدا کا بندہ بننا چاہتا ہے ۔خدا ہم سے کِس بات کا تقاضہ کرتا ہے جس کے سبب سے ہم خدا کے لوگ بن سکتے ہیں؟ اس کا جواب فوراً میکاہ ۶: ۸ میں دیا جاتا ہے۔«....تُو انصاف کرے اور رحم دِلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے»۔اس حوالے میں یہ ایک آخری شرط ہے جو ہمیں اس لائق کرتی ہے کہ ہم وہ بن سکیں جو خدا ہم سے توقع کرتا ہے۔

بائبل مقدّس فرماتی ہے«اور موسیٰ تو رُویِ زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا»(گنتی ۱۲: ۳)۔یہ ایک ایسا بیان ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا موسیٰ کو اس طرح زبردست طریقے سے کیسے استعمال کرتا تھا۔نوجوان ہونے کی حیثیت سے موسیٰ کافی مضبوط ، طاقتور اور انا پرست تھا۔لیکن جب اُس نے صحرائے مدیان میں اُس پہاڑ پر خدا سے ملاقات کر لی تو پھر اُس کا دل پہلے والا دِل نہ رہا۔وہ اس خیال کے بھنور سے نکل گیا کہ میں ہی نہایت طاقتور شخص ہوں اور یوں وہ اس کُرّہِ ارض پرانتہائی حلیم شخص بن گیا۔جب موسیٰ صحرائے مدیان سے نکل کر باہر آتا ہے تو وہ انکساری کے اسکول سے ڈگری حاصل کر لیتا ہے۔

کسی بھی خدا کے بندے کی زندگی میں انکساری ایک اہم خاصہ ہوتا ہے۔ایک مرتبہ آگسٹین نے کہا کہ «انکساری تمام خوبیوں کی ماں ہے»۔یہ سچ ہے کیونکہ باقی تمام خوبیاں منکسر المزاج دِل سے ہی نکلتی ہیں۔تو پھر خدا کے لوگ ہونے کیلئے انکساری کیوں اس قدر اہم ہے؟۔اس کی چند وجوہ ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مسیح کی زندگی میں بھی انکساری کواہم مقام حاصل تھا۔یسوع خدا تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا تو بھی اُس نے اپنے آپ کو اس قدرمنکسر بنا دیا کہ موت بلکہ صلیبی موت تک فرمانبردار رہا۔اُس نے اپنا آسمانی تخت چھوڑا اور انسانی لبادہ اوڑھ کر اس دُنیا میں آ گیا۔یسوع کی ذات ِ اقدس اُس کی اس زمین پر انکساری کے وسیلے سے نظر آتی ہے کہ وہ خدا ہے جو انسان بن گیا۔ہر وہ شخص جو مردِ خدا بننا چاہتا ہے اُس کیلئے ضروری ہے کہ وہ یسوع مسیح کی مانند بنے۔اور یسوع کی مانند بننے سے مراد«اپنے خدا کے ساتھ فروتنی سے چلنا ہے»۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہم انکساری کے بغیرخدا کے فضل میں ترقی بھی نہیں کر سکتے۔کلامِ مقدّس میں آ یا ہے«خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے لیکن فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے»(یعقوب ۴: ۶)۔یہ بہت سادہ سی مگر بہت اہم سچائی ہے۔مغرور دِل خدا کیساتھ جنگ کریگا۔لیکن جو منکسر المزاج دِل کا مالک ہے اُسے خدا کی طرف سے برکت مِلے گی۔بہت سے لوگ خدا کیلئے سورمہ بننا چاہتے ہیں لیکن وہ اس بات کو سمجھنے سے محروم ہیں کہ پہلے اُنہیں خدا کیساتھ انکسار ی سے چلنے کی ضرورت ہے۔ہم خدا کے فضل سے وہ سب کُچھ ہو سکتے ہیں جو ہونا ممکن ہے۔ہم فضل ہی سے نجات پائے، فضل ہی سے معافی پائے اور فضل ہی سے بڑھتے ہیں۔

اگر انکساری اس قدر اہم ہے تو پھر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہے۔انکساری کوئی ایسی چیز نہیںہے جو ہم اپنی شرٹ کی آستین پر پہن سکیں۔یہ ہمارا باطنی رویّہ ہے جس سے متعلق یسوع مسیح نے یوں کہا«مجھ سے جُدا ہو کر تُم کُچھ نہیں کر سکتے»(یوحنا ۱۵: ۵)۔انکساری خدا کودیکھنے ، اُس کی عظمت ، قدرت اور پاکیزگی کے وسیلے سے حاصل ہوتی ہے۔جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ وہ کسقدر عظیم اور قدرت والا ہے تو پھر ہم بڑی انکساری کیساتھ اُس کے حضور سجدہ ریز ہوں گے۔ ہم یہ پکار اُٹھیں گے«میں نہیں لیکن تُو اے خدا کر سکتا ہے۔میں اپنی قابلیت پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتا ہوں بلکہ تیری قدرت پر بھروسہ کرتا ہوں»۔

جب ہم خدا کو اُس کی قدوسیت میں دیکھتے ہیں تو اس سے انکساری پیدا ہوتی ہے۔موسیٰ پاک زمین پر کھڑا تھا۔اس کے بعد خدا نے کہا کہ« وہ رویِ زمین پر سب لوگوں سے زیادہ حلیم تھا»۔آپ کو خدا کو اُس کی قدّوسیت میں دیکھے ہوئے کِتنا عرصہ ہو گیا؟۔مقدّس سرزمین میں غرور کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔وہاں پر صرف منکسر المزاج لوگوں کو ہی اجازت ہے۔