Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ - جب مردِ خدا گِرتا ہے

یہ ایک سادہ سا حکم لیکن ناممکن کام تھا۔«اورخدا وندنے موسیٰ سے کہا کہ اُس لاٹھی کو لے اور تُو اور تیرا بھائی ہارون تُم دونوں جماعت کو اِکھٹا کرو اور اُن کی آنکھوں کے سامنے اُس چٹان سے کہوکہ وہ اپنا پانی دے اور تُو اُن کیلئے چٹان ہی سے پانی نکالنا۔یوں جماعت کو اور اُن کے چوپایوں کو پِلانا»(خروج ۲۰: ۷- ۸)۔موسیٰ کو بس چٹان سے کلام کرنا تھا۔بہت سادہ سی بات تھی۔لیکن کیا بنی اسرائیل کی اس اہم ضرورت کے وقت اس چٹان نے پانی دیا؟۔ایسا کرنے کیلئے خدا کی طرف سے معجزانہ مدد کی ضرورت تھی۔

تاہم موسیٰ نے خدا کو اس سے بھی بڑے معجزات کرتے ہوئے دیکھا۔جب اُس نے اپنا عصا بلند کیا تو بحرِ قلزم دو حصص میں منتقل ہو گیا تھا۔خدا نے اپنے آپ کو یہوّاہ یری کے طور پر ظاہر کیا۔تو پھر موسیٰ نے کیوں خدا کی نافرمانی کی؟بجائے اس کے کہ وہ چٹان سے کلام کرتا اُس نے اُسے مارا۔موسیٰ اسی بات کی وجہ سے اُس سرزمین میں داخل نہ ہو پایا جس کا اُس کے باپ دادا سے وعدہ ہوا تھا۔بائبل مقدّس فرماتی ہے «چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے حضور سے اُسی کے حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسیٰ اور ہارون نے اُس چٹان کے سامنے جماعت کو اکٹھا کیا اور اُس نے اُن سے کہا ! سُنو اے باغیو! کیا ہم تمہارے لئے اسی چٹان سے پانی نِکالیں۔تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اُس چٹان پر دو بار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نکلا اور جماعت نے اور اُن کے چوپایوں نے پیا۔پر موسیٰ اور ہارون سے خداوند نے کہا چونکہ تُم نے میرا یقین نہ کیا کہ بنی اسرائیل کے سامنے تُم میری تقدیس کرتے اس لئے تُم اس جماعت کو اُس ملک میں جو میں نے اُن کو دیا ہے نہیں پہنچانے پاﺅ گے»(گنتی۲۰: ۹- ۱۲)۔

اس حوالے پر نگاہ ڈالنے سے شاید کوئی یہ پوچھ سکتا ہے«یہ کونسا بڑا جُرم ہو گیا ہے؟۔ موسیٰ نے اس چٹان سے کلام کرنے کی بجائے اسے مارا اور چٹان نے پانی دے دیا۔تو پھر خدا موسیٰ کیساتھ اس قدر سختی سے کیوں پیش آتا تھا۔

ان سوالات کا جواب اُسی حوالے میں پایا جاتا ہے جس میں خدا نے موسیٰ سے کلام کیا۔«اور سب نے ایک ہی روحانی پانی پیا کیونکہ وہ اُس روحانی چٹان میں سے پانی پیتے تھے جو اُن کیساتھ ساتھ چلتی تھی اور وہ چٹان مسیح تھا»(۱-کرنتھیوں ۱۰: ۴)۔لہٰذا موسیٰ نے اُسے مارا جو پاک تھا۔وہ جن لوگوں کی قیادت کرتا تھا اُن کے سامنے اُس نے اس طرح کی توہین کی۔اب اُس کی قیادت مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی۔دوسرے لوگ موسیٰ کی طرح اس لائق نہیں تھے۔یعنی جو کُچھ موسیٰ نے دیکھا تھا وہ دوسروں نے دیکھا بھی نہیں تھا۔وہ صحرائے مِدیان کے پہاڑ پر خدا سے ملا اور خدا کی سب سے پہلی جو صفت موسیٰ پر ظاہر ہوئی یہ تھی کہ وہ« قدوس» ہے۔موسیٰ نے یہ بڑا سخت سبق سیکھا کہ ایک رہنما کو مسیح کے سے کردار کا مالک ہونا چاہئے۔

موسیٰ کاگناہ دوہرا تھا۔اُس نے نہ تو خدا کی تعظیم کی اور نہ ہی اُس پر بھروسہ کیا۔موسیٰ کی اس ناکامی سے ہم بہت ہی اہم اسباق سیکھ سکتے ہیں۔پہلا سبق یہ کہ ہم بے اعتقادی کی طرف مائل نہ ہوں۔قیادت ایمان کا تقاضا کرتی ہے۔خدا ہمارے سامنے مسلسل ناممکن حالات پیدا کریگا۔اگر ہم آگے بڑھ کر کسی سرزمینِ موعودکو فتح کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ایمان اور فتح کا ایک دوسرے کیساتھ گہرا تعلق ہے۔

دوسرا سبق یہ کہ ہم تعظیماًمسیح میں فروتن دِل ہو کر لوگوں کی قیادت کریں۔مسیح کے شاگرد بڑے سادہ سے خواتین و حضرات تھے جواُس کے ساتھ رہے۔یسوع سے متعلق جتنا اُن کے پاس علم تھا اور اُسے خداوند کے طور پر جاننے کی وجہ سے ہی اُنہوں نے اس دُنیا پر اُس کے جلال کیلئے اثر چھوڑا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس دُنیا کو مسیح کیلئے متاثر کریں تو پھر ہمیں دِل سے تعظیم کیساتھ خدا کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔جب جنگ گھمسان کی ہو توہم عموماً تعظیمی سوچ کھو بیٹھتے ہیں۔ہم غصے اور کڑواہٹ سے کام کرتے ہیں۔موسیٰ کیساتھ بھی کُچھ اِسی طرح تھا۔اور اُسے اس کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ہمیں اپنے دِلوں پر ہر اُس بات کے برخلاف پہرے بٹھانے کی ضرورت ہے جو مسیح کے تقدس اوراُس کی سپردگی میں رکاوٹ کا سبب ہے۔

فتحمندخواتین و حضرات نے سیکھا ہے کہ ایمان اور تقدس کی کمی کے سبب سے وہ اُس سب کُچھ سے محروم رہ جائینگے جس کا خدا نے اُنہیں دینے کا ارادہ کیا ہے۔موسیٰ ابھی بھی مردِ خدا تھا۔اسرائیل میں آنے والے تمام رہنماﺅں میں وہ سب سے بڑا تھا۔اُس نے وہ کُچھ دیکھا جس کے دیکھنے کا اکثر لوگوں نے خواب بھی نہیں دیکھا۔تاہم خدا کا اُس کی زندگی میں جو مقصد تھا اُس سے محروم ہو گیا۔یہ سب کُچھ ان دو چھوٹے چھوٹے گناہوں کے سبب سے ہوا جوبعد میںاتنے چھوٹے نہیں لگتے۔کم اعتقادی اور تقدّس کانہ ہونا دو چور ہیں۔انہوں نے خواتین و حضرات کی مثالی زندگی پر ڈاکہ ڈالا اور وہ بہت سی برکات سے محروم ہو گئے۔لہذا بھروسے کیساتھ فرمانبرداری کریں۔یسوع میں خوش رہنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔«بس اُس پر بھروسہ کریں اور اُس کی فرمانبرداری کریں»۔