Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
موسیٰ/یشوع نئے قائدین تیار کرتے ہیں

ہر نسل کو آسمان سے تازہ مسح کی ضرورت ہے۔خدا کا مسح اور اُس کا گہرے طور پر کام کرنا خاندانی میراث کے طور پر نسل درنسل منتقل نہیں کیا جا سکتا۔یہ سچ ہے کہ ہم اپنی اولاد کیلئے اچھا نمونہ اور میراث چھوڑ سکتے ہیں۔لیکن خدا کی بادشاہی میں اُنہیں اپنی راہیں خود تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہیں اپنی جنگ خود لڑنے کی ضرورت ہے۔خدا کے فرزند بہت سے ہیں لیکن پوتا ایک بھی نہیں ہے۔اُس کی فوج میں بہت سے جنرل ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اُن کے بچے بھی جنرل ہوں۔جو خدا کے لوگ ہیں وہ دانائی کیساتھ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ خدا کی بادشاہی مجھ سے بڑی ہے اور جب تک میں زندہ ہوں اُ س سے بھی کہیں زیادہ دیر تک قائم رہیگی۔موسیٰ کو خدا نے کثرت سے استعمال کیا۔«اسرائیل میں وہ سب نبیوں سے افضل نبی تھا»۔لیکن وہ جانتا تھا کہ میں جب نہیں بھی ہونگا تو اُس وقت کے بعد بھی خدا کا کام اسی طرح جاری رہے گا۔ان تمام ممکنات میں سے ایک بات یہ ہے کہ اُس نے اپنی آنکھیں ایک نوجوان پر لگائے رکھیں جو خدا کا دلپسند آدمی تھا۔وہ اس لائق تھا کہ بنی اسرائیل کی قیادت کرے۔اُسے وہ نوجوان مل گیا جس کا نام یشوع تھا۔

موسیٰ نے یشوع سے کہاکہ ہماری طرف کے کُچھ آدمی چُن کرلے جا اور عمالیقیوں سے لڑاور میں کل خدا کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہونگا۔سو موسیٰ کے حکم کے مطابق یشوع عمالیقیوں سے لڑنے لگا اور موسیٰ اور حور اور ہارون پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔اور جب تک موسیٰ اپنا ہاتھ اُٹھائے رہتا تھا بنی اسرائیل غالب رہتے تھے اور جب وہ ہاتھ لٹکا دیتا تھا تب عمالیقی غالب ہوتے تھے۔اور جب موسیٰ کے ہاتھ بھر گئے تو اُنہوں نے ایک پتھر لے کرموسیٰ کے نیچے رکھ دیا اور وہ اُس پر بیٹھ گیا۔اور ہارون اور حور ایک ادھر سے اور دوسرا اُدھر سے اُس کے ہاتھوں کو سنبھالے رہے تب اُس کے ہاتھ آفتاب کے غروب ہونے تک مضبوطی سے اُٹھے رہے اور یشوع نے عمالیق اور اُس کے لوگوں کو تلوار کی دھار سے شکست دی»(خروج۱۷: ۹- ۱۳)۔

یہ دیکھنا بڑی دلچسپی کی بات تھی کہ موسیٰ نے نوجوان یشوع کو کیسے جنگ میں بھیجا۔اگرچہ اُس نے یشوع کو اجازت دی کہ وہ بنیادی طور پر جنگ لڑے تو بھی موسیٰ اُس سے دور نہیں تھا۔وہ یشوع کی آنکھوں میں تھا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے وسیلے سے خدا ہمیں فتح بخش سکتا ہے۔موسیٰ نے بڑی حکمت سے یشوع کو اجازت دی کہ وہ جنگ لڑے اور فتح حاصل کرے لیکن آخری فتح کے تحفظ کیلئے موسیٰ نے یشوع کو سمت دِکھائی۔

موسیٰ اور یشوع کے رشتے میںہم ایک ایسا نمونہ دیکھتے ہیں جو اس رشتے میںضم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔پہلے موسیٰ خدا کا کام کرتا ہے۔پھر موسیٰ یشوع کو اجازت دیتا ہے کہ وہ خدا کا کام کرے جبکہ موسیٰ قریب ہی کھڑا ہوتا ہے۔یقیناً موسیٰ کے چلے جانے کے بعد یشوع نے ہی یہ کام کرنا تھا۔رہنماﺅں کی ایک نئی نسل تیار کرنے میں یہ خدا کا منصوبہ ہے۔پہلے ہم کام کرتے ہیں اور پھر وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔حتمی طور پر اُنہیں ہی کام کرنا پڑتا ہے۔

موسیٰ نے یشوع کو صرف خدا کے کام کیلئے ہی تیار نہیں کیا بلکہ اُس نے خدا کیساتھ چلنے میں یشوع کو شاگرد بھی بنایا۔بائبل مقدّس فرماتی ہے«اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ پہاڑ پر میرے پاس آ اور وہیں ٹھہرا رہ اور میں تمہیں پتھر کی لوحیں اور شریعت اور احکام جو میں نے لکھے ہیں دونگا تاکہ تُو اُن کو سکھا اور موسیٰ اور اُس کا خادم یشوع اُٹھے اور موسی خدا کے پہاڑ کے اوپر گیا»(خروج ۲۴: ۱۲- ۱۳)۔جب موسیٰ کی خدا کیساتھ یہ زبردست ملاقات ہوئی تو یشوع کُچھ زیادہ دور نہیں تھا۔

جب موسیٰ خیمے میں خدا سے ملاقات کرتا تھا تووہاں پر خدا کی حضوری کثرت سے تھی اور یشوع خیمہ میں اُس کیساتھ تھا۔یہاں تک کہ جب موسی ٰخیمے سے چلا بھی جاتا تو یشوع وہا ں ہی چپکا رہتا۔وہ خدا کی حضوری کو نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔موسیٰ نے یشوع کو خدا کے کام کیلئے تیار کیا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اُس نے خدا کے ساتھ وفاداری سے چلنا بھی اُس کو سکھایا۔

یہ آسان ہے کہ ایسے خواتین و حضرات کو تیار کیا جائے کہ وہ ظاہری کام کاج کریں۔لیکن خدا کیساتھ فروتنی سے چلنے میں اُن کی تربیت کرنا دوسری بات ہے۔لیکن موسیٰ سمجھتا تھا کہ خدا کا کام روحانی کام ہے۔اور اس کی تکمیل کیلئے بہت روحانی لوگوں کی ضرورت ہے۔موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکالا لیکن یشوع کو اُنہیں سرزمینِ موعود تک لے جانا تھا۔چونکہ موسیٰ نے یشوع کی تربیت کی جس کی وجہ سے موسیٰ کی وفات کے بعدکام رُکا نہیں۔ایک نئی نسل کو تیار کیا گیا جس نے بیٹن کو لے کر اس دوڑ کو دوڑنا تھا۔اگر ہم دانا ہیں تو ہم صرف خدا کا کام ہی نہیں کرینگے بلکہ اگلی نسل کی مدد کریں گے کہ وہ خدا سے محبت کرنا اور اُس کیساتھ چلنا سیکھ پائیں۔