Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
کلامِ خدا

۔«اور وہ خون کی چھڑ کی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے اور اُس کا نام کلامِ خدا کہلاتا ہے» (مکاشفہ ۱۹: ۱۳)۔

میںحال ہی میں مسیحی رہنماﺅں کی ایک کانفرنس میںتھا اور خدا کی طرف سے رہنمائی پر بات کر رہا تھا۔میں نے کئی بار کہا کہ «خدا نے میرے دِل سے کلام کیا» اور «خدا نے یوں میری رہنمائی کی»۔ ہمارے سیشن کے آخر پر ایک رہنما نے مجھ سے بڑا حیران کُن سوال پوچھا۔اُس نے کہا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ«خدا نے مجھ سے کلام کیا تو اس کا کیا مطلب ہے؟»۔«خدا آپ سے کیسے کلام کرتا ہے؟»۔

میں نے جواب میں کہا«اصل میں خدا کئی طریقوں سے کلام کرتا ہے »۔بائبل مقدّس میںایک مرتبہ وہ ایک گدھی کے وسیلے سے بھی ہمکلام ہوا۔وہ جس طرح سے بھی چاہے کلام کر سکتا ہے۔لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ اکثربائبل مقدّس کے ذریعے بات کرتا ہے۔بائبل مقدّس کو ایک اور نام«کلامِ خدا» دیا گیا ہے۔خدا نے قدیم زمانے میں قدیم سچائیوں کے ذریعے لوگوںسے بات کی۔وہ سچائیاں کبھی بھی تبدیل نہیں ہوئیں بلکہ وہ ابدی ہیں۔جب ہم بائبل مقدّس کو کُھلے دِل کیساتھ پڑھیں تو خد ااسی عظیم اور قدیم کتاب کے ذریعے سے ہم سے ہمکلام ہو گا۔وہ ہماری زندگیوں کو ایک نئی سِمت، ہماری سوچوں کیلئے سچائی اور ہمیں دِلی اطمینان بخشے گا۔

ٰیہ بات جاننا دِلچسپی سے خالی نہیں کہ نہ صرف اُسے بائبل مقدّس «کلامِ خدا » کہتی ہے بلکہ یسوع کو بھی یہی نام«کلامِ خدا »دیا گیا ہے۔مسیح کی الوہیت کے تعلق سے ایک بڑا حوالہ یوحنا کی انجیل میں پایا جا تا ہے۔یہاں لکھا ہے«ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کےساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔یہی ابتدا میں خدا کیساتھ تھا۔سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کُچھ پیدا ہوا ہے اُس میں سے کوئی بھی چیزاُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی»(یوحنا۱: ۱- ۳)۔

بائبل مقدّس تحریری« کلام ِخدا»ہے اور یسوع زندہ« کلامِ خد ا»ہے۔بائبل مقدّس میں لکھی ہر ایک چیز یسوع مسیح کی شخصیت کی طرف ہی ہماری توجہ مرکوز کرواتی ہے کیونکہ یسوع زندہ کلامِ خدا ہے جِس نے ہر ایک چیز خلق کی۔اُس کے وسیلے کے بغیر کوئی بھی چیزپیدا نہیںہوئی۔پیدائش کے پہلے باب میں جس کو تخلیق کا باب بھی کہا جا تا ہے بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ «خدا نے کہا» کے الفاظ ۹ مرتبہ آئے ہیں۔جب بھی خدا نے کِسی چیز کو خلق کرنے کی ٹھانی تو اُس نے اس کا آغاز یہ کہنے سے کیا کہ «خدا نے کہا»۔خدا نے کلام کیاا ور یہ دُنیا وجود میں آ گئی۔اُس نے اپنے کلام کے وسیلے سے ستارے فضا میں معلق فرمائے۔اُس نے مجھے اور آپ کو اپنے کلام کے وسیلے سے بنایاہے۔اُس کا نام« کلامِ خدا» ہے۔

لیکن اس کا ہماری فتح کیساتھ کیا تعلق ہے؟ جب بھی وہ کلام کرتا ہے تو کوئی چیز وجود میں آتی ہے۔یہ بات یقینی ہے۔جب لوگ یروشلیم کی ہیکل کی تعریف کر رہے تھے تو اُس نے کہا«وہ دِن آئیں گے کہ اِن چیزوں میں سے جو تُم دیکھتے ہو یہاں کِسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائے»(لوقا۲۱: ۶)۔چار عشرے بعدططس اور اُس کا رومی لشکریروشلیم آئے اورجیسے یسوع نے فرمایا تھا ویسے ہی ہیکل کو گرا دیا۔یسوع حقیقی«کلامِ خدا »ہے۔

عظیم سچائی یہ ہے کہ جب یسوع اپنے کلام کے وسیلے سے ہمارے دِلوں سے کلام کرتا ہے تو ہمیں اس بات کا یقین ہو سکتا ہے کہ جو کُچھ وہ کہتا ہے وہ سچ ہے۔جو کُچھ اس نے کہا کہ میں کروں گا وہ ضرور پورا ہو کر رہیگا۔وہ ہمیں اپنی فتح سے ہمکنار کریگا۔ہم اُس کے کلام کو اُس کے کلام کو طور پر ہی لے سکتے ہیں۔قدیم گیتوں میں سے ایک میں اسی بات کو کُچھ یوں بیان کیا جاتاہے«خدا وند اپنے نجات دہندہ کے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے میں کھڑا ہوں....کھڑا ہوں ، خدا وند اپنے نجات دہندہ کے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے»۔جب آپ خدا کے وعدوں کا یقین کرنا سیکھ لیتے ہیں تو آپ فتحیابی سے ہمکنار ہوں گے۔اُس کے نام میں فتح ہے۔

آج کُچھ وقت نِکالیں اور خدا کو موقع دیں کہ وہ اپنے کلام کے وسیلے سے آپ کے دِل سے ہمکلام ہو۔اُس کے کلام پر سچائی کی مُہر ثبت ہے۔اُس کا کلام آپ کے شکستہ دِل کو شفا بخشے گا اور آپ کو فتح بخشے گا۔اُس کا کلام سچا ہے کیونکہ وہ سچا ہے۔وہ کلامِ خدا ہے۔