Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
الوہیم - خدا ہمارا خالق و حاکم ہے

۔«خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا» (پیدائش ۱: ۱)۔

یہ ایک ایسا لمحہ تھا کہ میں تصوّر بھی نہیںکر سکتا کہ میں اِسے دیکھوں گا۔شاید میں اسے بیسویں صدی کی تاریخ میں روح القدس کی ایک عظیم تحریک کہوں گا۔ایسا بھی وقت تھا کہ ساری قوم بیدار ہو کر اس بات کو یاد کر رہی تھی کہ ایک خدا ہے جو انسانی تاریخ کے معاملات میں حکمرانی کرتاہے۔وہ ایک ایسا لمحہ تھا جب دہریہ پن کی روح کا خاتمہ ہو رہا تھا۔

یہ لمحہ رومانیہ میں انقلاب کے قریب تھا۔یکم جنوری ۱۹۹۰ئمیں اس انقلاب کے ختم ہو نے کے دِنوں میں مجھے رومانیہ میں داخل ہونے کا اتفاق ہوا۔اس سے ٹھیک ایک ہفتہ پیشتر«نکولا سیو سسکو» جورومانیہ میں خدا سے نفرت کرنے والوں کا ڈائریکٹر تھا قتل ہو گیا۔اس نے مسیحیوں کو بُری طرح سے ستایا تھا۔سکول جانے سے پہلے سے یونیورسٹی تک یہی تعلیم دی جاتی تھی کہ کوئی خدا نہیں ہے۔جب میں اس انقلاب کے آخری ایّام میں رومانیہ کی گلیوں میں چہل قدمی کر رہا تھا تو لوگ میرے چوگرد جمع ہو جاتے اور زور سے کہتے«("!خدا موجودہے، خدا موجودہے)۔

سارے ملک میں ایمان گردش کرنے لگا۔یہ ملک ابھی تک مسیح کیلئے جیتا نہیں گیا تھا۔(آج کلیسیاءکا یہی کام ہے)۔لیکن ایک اِلٰہی لمحے میں سارا ملک بیدار ہو کریہ کہنا شروع ہو گیا کہ خدا ہے اورو ہی خدا انسانی معاملات میں حکمرانی کرتا ہے اور وہی ہمارا خالق اور حاکم ہے۔مسیح میں ایمان کے ذریعے خدا کو جاننے کیلئے یہ پہلا قدم ہے۔ہماری شخصی زندگی، خاندان اور ملکوں میں فتح پانے کا یہ پہلا قدم ہے۔

کلامِ مقدّس میں خدا کا جو پہلا نام مستعمل ہے وہ «الوہیم‘‘ ہے۔پیدائش ۱: ۱«ابتدا میں الوہیم نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا»۔اگر کوئی شخص خدا کو الوہیم کے طور پر نہیں جانتا تو پھر وہ اپنی زندگی میں فتح کا تجربہ بھی کبھی نہیں کریگا۔ایسی قوم جو الوہیم کو نہیں جانتی وہ اُن برکات کو کبھی نہیں جان سکتی جو خدا نے اُس کیلئے محفوظ رکھی ہوئی ہیں۔

پیدائش کے پہلے باب میں «الوہیم» کا نام ۳۰ سے زائد مرتبہ مستعمل ہے جبکہ پرانے عہدنامے میں دو ہزار ۲۰۰۰سے زائد مرتبہ مذکور ہے۔اس کے بنیادی طور پر معنیٰ یہ ہیں کہ یہ ہی خدا ہے جِس نے ہمیں خلق کیا ہے۔وہی ساری تخلیق پرمملکت اور حکمرانی کرتا ہے۔اُس سے متعلق بطورِ خالق اور حاکم کے جو عِلم ہے وہی ہماری فتح کی بنیاد ہے۔اسی ابتدائی علم کے سبب سے حمد و ستاش کی ندیاں بہتی ہیں۔یہ وہ علم ہے۔یہی وہ بنیادی علم ہے جِس کے وسیلے سے ہم اپنی زندگی کے معنیٰ اور مقصد کو سمجھنے کے لائق ہوتے ہیں۔

اس «الوہیم»نام کے پیچھے تثلیث کا بھی ایک بڑا بھید ہے۔بہت سے لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ بائبل مقدّس میں تثلیث کہاں پائی جاتی ہے۔«الوہیم» ایسے اسم کاصیغہ جمع ہے جس کے صیغہ واحد میں اسمِ صفت اور فعل بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً پیدائش ۱: ۱ میں لفظ «الوہیم»(خدا)صیغہ جمع میں ہے۔لیکن فعل«پیدا کیا»وہ واحد فعل ہے جو اسم کےساتھ صیغہ واحد میں آیا ہے۔یسعیاہ ۴۵: ۵ میں بائبل مقدّس فرماتی ہے«میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں۔میرے سوا کوئی خدا نہیں»۔خداوند کیلئے صیغہ واحد استعمال ہوا ہے۔تو بھی کلام کہتا ہے«میرے سوا کوئی(الوہیم) خدا نہیں ہے»۔

ہم پیدائش پہلے باب میں جب خدا کوبطورِ «الوہیم» دیکھتے ہیں تو اُس کی معموری اور کاملیت کو دیکھتے ہیں۔وہاں ہم باپ بیٹے اور روح القدس کے ایک بڑے بھید کو بطورِ خالق دیکھتے ہیں جو بلندیوں پر حکمرانی کرتا ہے۔خدا ئے عظیم سے متعلق یہی وہ علم ہے«ایک میں تین» جو ہمیں پُر اعتماد زندگی گزارنے کے لائق بناتا ہے۔جب ہم «الوہیم» کو جانتے ہوں تو پھر ہم اُسے بھی جانتے ہیں جو انسان کی مملکت میں بادشاہی اور حکمرانی کرتا ہے۔اس کو اور زیادہ شخصی طور پر لیا جائے تو یہ کہ ہم اس کے ذریعے اپنی زندگی میں مقصد اور معنیٰ پاتے ہیں۔

یہاں تک کہ جیسے ۱۹۹۰ ئمیں رومانیہ کے لوگ پکار اُٹھے کہ«خدا موجود ہے، خدا موجود ہے»اسی طرح ہماری کلیسیاءبھی اپنی پرستش میں یہ کہنا شروع کر دے کہ« کائنات میں ایک ہی خالق اور حاکم ہے، کائنات کا ایک ہی خالق ہے»اور اُس کا نام الوہیم ہے۔