Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
یہوّاہ - خداوندہمارا خدا

میرے لئے یہ پہلا اتفاق تھا کہ میں برّاعظم افریقہ جاﺅں۔ افریقہ میرے لئے ایک بڑا بھید تھااور اس طرف میرا سفر ایک نئی دریافت تھی۔جب میں جنوبی افریقہ کی طرف روانہ ہوا۔میں نہیں جانتا تھا کہ میں خدا کو بطورِ یہوّاہ اپنے خداوند کے طور پرتجربہ سے جانوں گا۔میں ہر شام کو کیپ ٹاﺅن میں منادی کرتا تھا۔اس کے بعد کُچھ وقت اپنے ہوٹل کے قریب دُعا میں گزارتا تھا۔یہ ہوٹل ساحلِ سمندر پر واقع تھا۔میں سمندر کے کنارے جا کر پتھروں پر بیٹھ جاتا اور دیکھتا کہ کِس طرح لہریں آ کراُن کیساتھ ٹکراتی ہیں۔میں خدا کی عظمت اور قدرت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔

خدا کیساتھ گزرے ہوئے اُن لمحات کے دوران میں نے خدا کی ذات اور اُس کے کردار پر غور کیا۔میں نے جاناکہ وہ ہے ، وہ تھا اور وہ ہمیشہ رہے گا۔اُن دُعائیہ لمحات کا بیان کرنا مشکل ہے۔میرے پاس کوئی خاص عظیم تجربہ تو تھا نہیں۔نہ میں نے کبھی کوئی رویا دیکھی اور نہ ہی کبھی کوئی آواز سُنی۔میں وہاں پر اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔میں اپنے دِل کے اندر جذبات میں محسوس کر رہا تھا کہ یہاں ابدی خدا کی حضوری ہے ۔میں صرف یہ جانتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ہے اور ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔

کیپ ٹاﺅن میں ہونے والی عبادات کا جب اختتام ہوا تو میں جانتا تھا کہ خدا کےساتھ ایک نئے اور تازہ سفرمیں اس شہر کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی کہ خدا نے میرے دِل میں کوئی خاص یا نیا کام کیا تھا۔میں جانتا تھا کہ خدا سے میری ملاقات ہوئی ہے۔میرے دِل میں بھی ایک نئی تازگی سے موجزن تھی۔میں جانتا تھا کہ وہ خدا ہے اور وہ میری ساری زندگی کا مالک اور خداوند ہے۔میراایک مبشردوست جس کانام مائک گِل کرِسٹ ہے سارے ملک میں پاسبانوں کی بیداری اور تازگی کیلئے سیمینارز کرتا تھا۔اُس نے مجھ سے کہا کہ ایک میٹنگ میں اُس کی مدد کروں۔

جب ایک دوپہر کو میں بولنے کیلئے کھڑا ہوا تو ایک عجیب واقع رونما ہوا۔جب میٹنگ کا اختتام ہو رہا تھا تو پاسبانوں کی ایک جماعت کھڑی ہو کر خدا کی حمد و ستائش میں گیت گانے لگی۔جب اُن کی پرستش خدا کے تخت کے پاس پہنچی تو روح القدس اس جماعت پر آن ٹھہرا۔پاسبان خدا کی حضوری میں ٹوٹ گئے۔کُچھ منہ کے بل گِر کر اپنے گناہوں کا اقرار کرنے لگے۔کُچھ دوسرے پاسبانوں کے پاس جا کرکہنے لگے کہ ہم نے آپ بھائیوں کو ٹھوکر کھِلائی ہے ہمیں معاف کیجئے۔کافی وقت گزرنے کے بعد میٹنگ چلانے والے نے میٹنگ کا اختتام کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

وہ پاسبان قدّوس خدا سے مِلے تھے اور وہ اب مزید ویسے نہ رہینگے۔میں جانتا تھا کہ کیپ ٹاﺅن میںمیرا دعائیہ وقت پاسبانوں کی اس کانفرنس سے تھا۔جب ہم خدا کو ابدی خدا کی حیثیت سے جان لیتے ہیں تو پھر ہماری اُس سے اور روح القدس سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ ابدی خدا قدّوس خدا ہے۔جب ہم اُس کو اُس کی قدرت کے وسیلے سے جان لیتے ہیں تو ہمیں بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ خدا اخلاقیات کا خدا ہے۔وہ سراپا پاکیزگی ہے۔

پیدائش کی کتاب بہت واضح طور پر خدا کی ذات کے دونوں پہلووں پر روشنی ڈالتی ہے۔بائبل مقدّس میں خدا کیلئے استعمال ہونے والا پہلا نام«الوہیم» ہی ہے۔یہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ خدا خالق ہے۔کلام میں خدا کا دوسرا نام یہوّاہ ہے۔یہ دکھاتا ہے کائنات کا خالق قدوس خدا ہے۔پیدائش ۲: ۴ میں ہم یہوّاہ نام کے استعمال کا ذکر بھی پڑھتے ہیں جہاں لکھا ہے«یہ ہے آسمان اور زمین کی پیدائش جب وہ خلق ہوئے جِس دِن خدا وند خدا نے زمین اور آسمان کو بنایا»۔اس حوالے میں خدا کیلئے مستعمل عبرانی لفظ «الوہیم» ہے۔لیکن «خداوند» کا لفظ عبرانی لفظ یہوّاہ کیلئے نِکلا ہے۔لہٰذا خدا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا وہ خداوند ہے اور ابدی ہے۔وہ قدّوس ہے۔

ہم اس لقب یہوّاہ کو خدا کیلئے پیدائش ۲: ۴ کے بعد بھی استعمال ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔پیدائش ۲ باب بھی ہمیں انسان کے بنائے جانے سے متعلق بتاتا ہے اور یہ بھی کہ خدا نے کیسے انسان کو مختارِ اعلیٰ کے طور پر مقرّر کیا ۔ہم یہوّاہ نام کا مسلسل استعمال دیکھتے ہیں۔بائبل مقدّس واضح طور پر ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ خدا(الوہیم) جس نے ہمیں بنایاہے وہ (یہواہ) بھی ہے جس میں سراپا پاکیزگی پائی جاتی ہے۔

آدم و حوا باغِ عدن میں«یہوّاہ الوہیم »(خداوند خدا)سے مِلے ہیں۔وہ خدا جس نے اُنہیں بنایا اُس نے اُنہیںبھی اپنے اختیار تلے رکھا۔جب ہم خدا کی حضوری میں آتے ہیں تو ہم بھی «یہوّاہ- الوہیم » سے مِلتے ہیں۔آج بہت سے لوگ خدا کو قدرت والے خدا کے طور پر جاننا چاہتے ہیںلیکن اُن کے دِل میں خدا کو قدّوس خدا کے طور پر جاننے کی کوئی آرزو نہیں ہے۔تاہم یہ ناممکن ہے کہ اُس کے اختیار میں آئے بغیر اُس کی قدرت کا مظاہرہ کر سکیں۔کیونکہ الوہیم یہوّاہ ہے۔

بیداری اُس وقت آتی ہے جب ہم خدا کو الوہیم کے طور پر جانیں۔جب ایسا ہوتا ہے تو پھر ہم اپنی زندگیوںپر یہوّاہ کا نشان چھوڑینگے۔وہ ہمارے خالق کے طور پر ہی نہیں ہو گا بلکہ ہم اُسے خداوند کے طور پر بھی جانینگے۔یہوّاہ الوہیم ہے۔اُس کو قریب سے جانیں تو آپ کی زندگی پہلے کی طرح کبھی نہیں رہے گی۔