Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
ایل شیدائی (قادرِ مطلق خدا)۔

جب ابرہام ننانوے برس کا تھا تو خداوند اُس پر ظاہر ہوا اورکہا «اور اُس سے کہا میں خدائے قادرِ ہوں تو میرے حضور چل اور کامل ہو» (پیدائش ۱۷: ۱)۔

میری زندگی اور خدمت میں ایک نہایت ہی اہم واقعہ ۱۹۹۹ ءمیں ایتھوپیا میں پیش آیا۔کلیسیاﺅں کیلئے یہ انتہائی مشکل وقت تھا کیونکہ ۱۹، سال سے یہ ملک اشتراکیت کے تسلّط میں تھا۔جب اشتراکیت کا زور ٹوٹا تو پھر کلیسیاءکئی سالوں تک بہت مشکلات سے دوچار رہی۔تب خدا نے میرے لئے دروازہ کھولا کہ میں ادیس ابابا میں ایک بشارتی پروگرام کروں جو ایتھوپیا کا بڑا شہر ہے ۔

سارے شہر میں نہ صرف ان توقعات کی لہر دوڑ رہی تھی کہ شہر میں اس طرح کے کئی پروگرام ہوں گے بلکہ میں بھی محسوس کرتا تھا کہ خدا کُچھ عظیم کام کرنے کو ہے۔جب میں ادیس ابابا کی طرف جہاز میں سفر کر رہا تھا تو خدا نے مجھ سے کلام کیا اور کہا«میرے بیٹے میں نے تجھے اس دوڑ میں دوڑنے کیلئے بلایا ہے۔اب تُو جیتنے والے کی طرح دوڑ»۔

پہلے دِن میری تمام توقعات اور خوابوں سے بڑھ کر کام ہوا۔اسٹیڈیم میں ۴۵ ہزار سے زائد لوگوں کا جمّ غفیر تھا۔کلام سُن کر ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے توبہ کی۔دوسرے دِن اس سے بھی زیادہ لوگ آئے اور کلام کو قبول کیا۔تیسرے دِن ۷۰ ہزار سے زائد لوگ اس اسٹیڈیم میں تھے۔اُس صبح جب میں اُٹھا تو میں نے اپنی بیوی کو سلام کہنے کی کوشش کی لیکن میں اونچی آواز میں کچھ نہ کہہ پایا۔میں یقین نہ کر پایا۔میں نے پروگرام بنایا تھا کہ آج میں اپنی زندگی اور خدمت میں لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے کلام کروں گا جبکہ میری آوازبند ہو گئی تھی۔

میں نے چُپکے سے اپنا دِل خداوند کے حضور اُنڈیلا اور کہا«اے خدا تُو نے میرے دِل میںیہ بات ڈالی کہ میں جیتنے والے کے طور پر دوڑوں جبکہ میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کر سکتا۔ایسا کیوں ہے؟ خداوندیہ کیا ہو رہا ہے؟»۔خدا نے جواب میں کہا«بیٹے! میری بادشاہی میں دوڑنے والے اسی طرح ہی دوڑا کرتے ہیں»۔اُس دِن میں نے خدا کا «ایل شیدائی»یعنی خدائے قادر کے طور پر تجربہ کیا۔جب ہم اپنے آپ کو چھوٹا بنا لیںاور جس کام کیلئے خدا نے ہمیں بلایا ہے وہ نہ کر سکیں تو ہم اپنا بوجھ خداوند پر ڈال دیں وہ ہمیں پیار کرتا اور ہمارا خیال رکھتا ہے اور پھر وہ ہماری طرف سے «ایل شیدائی» خدائے قادر کے طور پر کام کرتا ہے۔

ایمانداروں کے باپ ابرام سے بھی ایسا ہی تھا۔ پیدائش ۱۷ ،باب میںخدا ابرام کو« ایل شیدائی» کے طور پر مِلالیکن ابرام خدا کو پہلے پیدائش ۱۵ باب میں رویا میں ملا۔خدا اس پر یہوّاہ خداوند کے طور پر ظاہر ہوا۔یہوّاہ کیساتھ اس پہلی ملاقات میں خدا نے اُس سے وعدہ کیا کہ وہ اُسے ایک اُمت اور سرزمین بخشے گا۔«اور وہ اُس کو باہر لے گیا اور کہا کہ اب آسمان کی طرف نِگاہ کراور اگر تُو ستاروں کو گِن سکتا ہے تو گِن اور اُس سے کہا تیری اولاد ایسی ہی ہو گی» (پیدائش ۱۵: ۵)۔

لیکن ابرام کے اس وعدے کے پورا ہونے سے پہلے کِسی واقعے کا ہونا ضروری تھا۔ابرام کو اپنے آپ کے اعتبار سے خالی ہونا تھا۔اُس کو زندگی کے اس سفر میں ایسی عمر تک پہنچنا تھا جہاں ابرام اور اُس کی اہلیہ سے اولاد کا ہونا ناممکن ہو جائے۔جب وہ ننانوے سال کا ہو گیا تو خدا ایک مرتبہ پھر ابرام پر ظاہر ہوا۔اب کی بار خدا نے اپنے آپ کو« ایل شیدائی» کے طور پر ظاہر کیا۔جب ابرام اپنی قوّت میں کُچھ نہ کر پایا تو خدا نے اپنے آپ کو محبت کرنے والے، خیال رکھنے والے اور قادرِ مطلق کے طور پرظاہر کیا۔ اب خدا کو وہ کرنا تھا جو ابرام نہیں کر سکتا تھا۔

ابرام کو خدا کے ساتھ جو «ایل شیدائی» ہے مِلنے کے بعدویسا نہیں رہنا تھا۔بلکہ اسی ملاقات میں ہی اس کے نام کو بھی تبدیل ہوکر ابرہام ہوجانا تھا۔اس سے قبل ابرام نے اپنے زور سے بہت کُچھ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بُری طرح ناکام ہوا اور آخرکار اُس نے اپنی بیوی کی کنیز سے رِشتہ جوڑا اور یوں اُس سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔لیکن جب وہ خدا کی ذات اور اُس کی قدرت کو جان گیا اور اُس پر مکمل طور پر بھروسہ کر لیا تو پھرہی اُس نے اُس وعدے کی تکمیل دیکھی جو خدا نے اُس سے کیا تھا۔

یہی وہ سبق تھا جو خدا ایتھوپیا میں مجھے سکھانے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ میں اُسے ایل شیدائی کے طور پر جانوں۔ لیکن پہلے میری میں کا خاتمہ ضروری تھا۔میری آواز کا بند ہوجانا ضروری تھا۔جب میں اُس اسٹیڈیم میں کھڑا ہو ااور کلام کرنے لگا تو میں صرف پیغام کو بمشکل اپنے منہ سے ادا کر پا رہا تھا۔لیکن میرا مترجم سُن سکتا تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوںاور اُس پیغام کے وسیلے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے توبہ کی۔خدا نے اس پروگرام کے آخری دِن بڑی قدرت کیساتھ کام کیا۔یہ ایتھوپیا کے لوگوں کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ تھا کہ خدا نے خود آ کر اُن کی زندگیوں میں کام کیا۔

ہم نے خدا کو ایل شیدائی کے طور پر جانا ہے۔جب ہم اپنے آپ میں ختم ہو جاتے ہیںاورجب وہ ناممکن ہو جائے جس کے کرنے کیلئے اُس نے بلایا ہے تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حالات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا اور خود کام کرتا ہے۔تب ہی وہ ہمیں اپنی قدرت اور محبت دکھاتا ہے۔تب ہی وہ اپنے آپ کو ہم پر «قادرِ مطلق» خدا کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔کیا آپ اپنے آپ میں ختم ہو گئے ہیں؟۔کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ جس کام کے کرنے کیلئے اُس نے آپ کو بلایا ہے اُسے کرنا ناممکن ہے؟اگر ایسا ہی ہے تو میں آپ کو «شاباش » دوں گا۔کیونکہ آپ اُسی راہ پر ہیں کہ خدا کو« ایل شیدائی »کے طور پر جانیں۔