Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
ادونائی (خداوند)۔

۔«جِس سال میں عُزیاہ بادشاہ نے وفات پائی میں نے خداوند کو ایک بڑی بلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا اور اُس کے لباس کے دامن سے ہیکل معمور ہو گئی» (یسعیاہ ۶: ۱)۔

وہ میری زندگی کا نہایت ہی اہم لمحہ تھا۔ اُس وقت میں اٹھارہ برس کا تھا جب میں نے مسیح کو قبول کیا اور کہا کہ میرے گناہوں کو معاف کر اور میرا نجات دہندہ اور خداوند بن۔وہ رات میں کبھی نہیں بھول پاﺅں گا۔یوں لگتا تھا کہ ٹنّوں کے حساب سے میرے کندھوں پر سے بوجھ اُتر گیا۔میرا دِل خوشی کیساتھ بھر گیا تھا اور مسیح میں اس نئے رِشتے کی وجہ سے چھوا گیا تھا۔

میں نے اُس شام جیمس رابنسن سے بات کی۔یہ وہ مبشر تھا جس نے اُس رات کلام سُنایا تھا۔میں نے اُسے بتایا کہ میں کیا تجربہ کر رہا تھا۔میں نے اُس سے یہ بھی بیان کیا کہ میں محسوس کر رہا ہوں کہ خدا مجھ سے کوئی خدمت لینا چاہتا ہے۔جواب میں اُس نے جوبات کی اُس نے میرے مستقبل کی سمت کا تعیّن کر دیا۔اُس نے کہا سیمی!کیا آپ جانتے ہیں کہ آج شب آپ کو نجات دینے کیلئے یسوع کو کیا کرنا پڑا؟۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے گناہوں کی معافی کیلئے اُسے کیا قیمت ادا کرنا پڑی؟۔

میں نے اس سے متعلق سوچا ہی نہیں تھا۔ میں نے جواب میں کہا «نہیں»۔میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں؟۔

جیمس نے اپنی بات کو جاری رکھا اور کہا«سیمی! یسوع ہمیشہ سے خدا تھا، ہے اور ہمیشہ تک رہے گا۔لیکن ایک دِن اُس نے اپنا جلالی تخت چھوڑا اور اس زمین پر آ گیا۔اُس نے انسانی جامہ پہنا اور بے گناہی کی کامل زندگی گزاری۔لیکن انسان نے اُسے رَد ّ کیا۔اُس کے اپنے دوست بھی اُسے چھوڑ گئے۔اُس کاتمسخر اُڑا یا گیا، پیٹا گیا اور اُس کا مضحکہ اُ ڑا یا گیا۔اُس پر جھوٹا الزام لگایا گیااور کیلیں لگا کر رومی صلیب پر گاڑ دیا گیا۔اب یاد کریں کہ یہ خدا کا بیٹا بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہے۔اور اُس نے یہ سب کُچھ اس لئے کیا کیونکہ وہ آپ سے پیار کرتا ہے۔

«اگر یسوع نے جو سب کا خداوند ہے اپنا آپ تمہارے لئے دے دیا تو پھر آپ کو بھی اپنا سب کُچھ اُس کو دے دینے کیلئے تیار ہو جانا چاہیئے۔اُس نے اپنی بات جاری رکھی۔اگر اس کے معنی رد کیا جانا، اُس پر ہنسنا، گرفتار کیا جانا اور یہاں تک کہ مارا جانا ہے تو پھر آپ کو کسی بھی جگہ جا نے اور اُس کیلئے کُچھ بھی کرنے اور اُس کی عظیم محبت کا سب سے بیان کرنے کیلئے تیار ہو جانا چاہیئے»۔

نئے ایماندار ہونے کی حیثیت سے پہلی رات میں نے جانا کہ یسوع جوخداوند ہے وہ یسوع بنا، خادم بنا کیونکہ اُس نے مجھ سے عظیم محبت کی ہے۔میں اپنے آپ کو اُس کی خداوندیت کے تابع کرتا ہوں۔میرے ماضی میں کامیابی کا وسیلہ یہی تجربہ رہا ہے۔وہ خداوند ہے اور میں خادم ہوں۔جب ہم اس طور پر خدا کیساتھ ہو لیتے ہیں تو پھر مسیحی زندگی ایک عظیم دریافت بن جاتی ہے۔

یسعیاہ نے بھی خدا کو اسی طور پر جانا۔بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ یسعیاہ نے رویا دیکھی جس میں اُس نے« خداوند کو دیکھا»۔خداوند کیلئے یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ« ادونائی» ہے۔اس کے آسان معنی« مالک »کے ہیں۔یسعیاہ خدا کوادونائی(خداوند) سمجھ کر مِلا۔یہ خدا کی مرضی کے مطابق تھا کہ وہ مجھے اس خدمت کیلئے مقرّر کرے۔یہ ادونائی تھا جِسے یسعیاہ نے یہ کہتے ہوئے سُنا«میں کِس کو بھیجوں؟ اور ہماری طرف سے کون جائے گا»(یسعیاہ ۶: ۸)۔چونکہ یسعیاہ خدا کو ادونائی سمجھ کر مِلا جس کی وجہ سے اُس نے ایک دم جواب دیا«میں حاضر ہوں مجھے بھیج»۔

جب آپ خدا کو ادونائی کے طور پر جان لیتے ہیں تو آپ بھی یہ کہہ اُٹھیں گے«ادونائی(خداوند)میں حاضر ہوں مجھے بھیج۔جہاں تُو چاہتا ہے کہ میں جاﺅں میں وہاںجاﺅں گا۔میں وہی کروں گا جو تُو چاہے گا کہ میں کروں۔میں وہی کہوں گا جو تُو چاہتا ہے کہ میں کہوں۔میں اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔تُو ادونائی ہے۔میں خادم ہوں۔مجھے بھیج، مجھے بھیج۔