Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
ایل ایلون (خدا تعالیٰ)۔

۔«پر ابرام نے سدوم کے بادشاہ سے کہا کہ میں نے خداوند خداتعالیٰ آسمان اور زمین کے مالک کی قسم کھائی ہے» (پیدائش ۱۴: ۲۲)۔

ابھی مجھے اور میری بیوی کو شادی ہوئے کُچھ زیادہ سال نہیں ہوئے تھے کہ ہم شکاگو کے ایک انتہائی جرائم پیشہ عِلاقے میں منتقل ہوئے۔ہمیں بوجھ تھا کہ اُن لوگوں تک رسائی کریں جن کا کوئی بھی خیال نہیں رکھتا۔ ہم اُن لوگوں میں خدمت کرتے تھے جو گلیوں میں آوارہ گردی کرتے تھے جیسا کہ کسبیاں، گھروں سے بھاگے ہوئے اور منشیات کے عادی لوگ۔شکاگومیں ایک ایسا علاقہ تھا جس کا نام اولڈ ٹاﺅن تھا۔کبھی کبھی ہم اولڈ ٹاﺅن میں جانے اورکمزور و نحیف بے گھرہِپّی لوگوں میں خدمت کرتے۔ ۱۹۷۰ ءمیں ان میں سے کئی نوجوان عام معمول کے مطابق زندگی بسر کرنے لگے۔وہ ہفتہ کے آخر پر«اولڈ ٹاﺅن»میں آتے اور ذرا ٹھنڈے سانس لیتے تھے۔

اُن ایّام میں اولڈ ٹاﺅن میں تقریبًا سب کُچھ ہوتا تھا۔وہاں ہِپّی لوگ، کسبیاں، نائٹ کلب اور اور طرح کی بدعات پائی جاتی تھیں۔ شکاگو کے علاقے میںایک ایسا کلب بھی تھا جس کا مالک دعوٰی کرتا تھا کہ میں «چرچ آف شیطان»کا رہنما ہوں۔ایک رات جب میں اور میری بیوی کُچھ پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے تو اُس آدمی نے مجھے چیلنج پیش کیا۔وہ زور سے پکار پکار کر کہنے لگا کہ «میری اس چھوٹی اُنگلی میں اتنی طاقت ہے جتنی شکاگو کے سارے مسیحیوں میں نہیں ہے»۔

میں نے ایک دم اُس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا اور کہا« میںصرف ایک ہی مسیحی کافی ہوں تُوجو کہہ رہا ہے مجھے اس کا ثبوت دے اور تُومجھے ذرا بھی گھبرا نہ سکے گا۔اب ثابت کر کہ تُجھ میں کِتنی طاقت ہے۔میں یسوع کے نام میں تمہیں چیلنج پیش کرتا ہوں»۔

وہ پیچھے ہٹ گیااور ہنس کر کہنے لگا«تُم دیکھو گے۔فکر نہ کرو،جلد ہی تُم سمجھ جاﺅ گے کہ میرے پاس کیسی قوّت ہے»۔

میں نے ا ور میری بیوی نے باقی شام ان ہی سڑکوں پر چلتے اور دُعا کرتے گُزاری۔ہم نے روح القدس کی قدرت کو مانگا۔ہم نے خدا تعالیٰ کے حضورمِنّت کی کہ وہ ان سڑکوں پر اپنے آپ کو ظاہر کرے اور یہاں کے رہنے والوں کو تبدیل کرے۔جب ہم اگلی شام اولڈ ٹاﺅن واپس آئے تو چرچ آف شیطان کے اس رہنما کا کوئی پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔بلکہ ہم نے اُس کے بعد اُسے کبھی بھی نہیں دیکھا۔ساتھ ہی اس رہنما کے پڑوس میںاس شیطانی بدعتی جماعت کے وسیلے سے چلنے والی کافی شاپ بھی دو ہفتوں کے اندر جل کر راکھ ہو گئی۔اور میری باتوں کا یقین کیجئے کہ ہم نے ایسا کُچھ نہیں کیا بلکہ خدا نے اپنی قدرت دِکھائی کہ میں تمام معبودوں سے بڑھ کر ہوں۔

وہ ایل ایلون یعنی خدا تعالیٰ ہے۔ایل ایلون کا نام پیدائش ۱۴: ۲۲ میں پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے۔اس نام سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ تمام کائنات میں ممتاز ہے۔اُس کی مانند اور کوئی نہیں ہے۔وہی حاکمِ اعلیٰ ہے۔ آدمی شاید آدمیوں کو بڑا مقام دیں۔جبکہ دوسرے لوگ شاید پتھر کے بنے ہوئے دیوتاﺅں کی عبادت کریں۔کُچھ اور لوگ شاید ابلیسی تاثیروں کے ذریعے معجزات بھی کریں۔لیکن ان میں سے کوئی بھی ہمارے خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔وہ ایل ایلون ہے جو نہایت ہی عظیم خدا تعالیٰ ہے۔وہ دُنیا کے تمام معبودوں سے بڑھ کر ہے۔

جب ہم سمجھ جائیں کہ ہمارا خدا ایل ایلون کہلاتا ہے تو پھر ہم شاہراہِ فتحمندی پر رواں ہو گے۔ہمارے خدا کے مقابلے میں نہ تو زمین پر اور نہ ہی آسمان پر کوئی چیز ہے۔جب ہم خدا کو ایل ایلون کے طور پر جان جاتے ہیں تو پھر ہم محفوظ مقام پر ہوتے ہیں۔شیطان خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔کوئی بھی سیاستدان خدا کے نام کی منادی سے روک نہیں سکتا۔ہمارے خدا سے بڑھ کر کوئی بھی حکومت نہیں ہے۔وہ خدائے عظیم ہے۔کوئی بھی دیوتا جو لکڑی یا پتھر کا گھڑ کر بنایا گیا ہو وہ ایل ایلون کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اُس پر بھروسہ کریں تو آپ فتح پائیںگے۔یہ فتح خداتعالیٰ کی طرف سے ہو گی۔