Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
آپ کی رویا کیا ہے؟

کرسچن کلاسک «راہِ کلوری»کے مصنف رائے ہیسن سے ایک بار نہایت ہی اہم سوال پوچھا گیا۔اُس وقت وہ مشرقی افریقہ میں مشنری کے طور پر کام کرتا تھا۔یہ سوال بالکل سادہ سا تھا کہ« آپ کی رویا کیا ہے»؟اُس وقت خدا دُنیا کے اُس کونے میں اپنے لوگوں میں ایک عظیم بیداری بھیج رہا تھا۔ مسٹر ہیسن سے جس شخص نے سوال پوچھا وہ اُن کا ہم خدمت مشنری تھا۔مسٹر ہیسن نے اس سوال کا جواب یوں دیا کہ میری رویا سہہ پہلو ہے۔جس میں بیداری، لٹریچر تقسیم کرنا اور بشارتی کام کرنے کی رویا ہے۔اُس مشنری نے مسٹر ہیسن سے کہاکہ «مجھے آپ پر افسوس ہے کہ ابھی تک آپ نے راستہ ہی نہیں دیکھا۔آپ کی رویا بہت چھوٹی ہے۔آپ کی رویا ایسی ہونے چاہئے جیسی خدا کی ہے»۔

مجھے افسوس ہے کہ ہم میں سے کئی ایسے ہیں جن کی رویا اتنی بڑی نہیں ہے۔اگر رویا ایسی نہیں جیسی خدا کی ہے تو یہ کافی نہیں ہے۔مارٹن لائیڈ جونز مرحوم جنہوں نے ویسٹرن چیپل لندن میں پاسبانی کی ایک بار کہا«جب خدا کوا س طور پر جانا جائے جیسا وہ ہے تو یہی بیداری ہے»۔

جب آپ اپنی شخصی زندگی میں خدا کے فضل اور عرفان میںترقی کرتے ہیں تب آپ کی شخصی زندگی میں بیداری آتی ہے۔آپ کی کلیسیاءمیںبیداری اس وقت آتی ہے جب خدا اپنے آپ کو اپنے بندوں پر ظاہر کرے۔تب مسیحی خدا کے فضل میں بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔کِسی بھی علاقے یا ملک میں بیداری اُس وقت آتی ہے جب خدا اُس ملک کے امور میں مداخلت کرتا اور اپنے آپ کو لوگوں کی جماعت پر ظاہر کرتا ہے۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ تاریخ کے اس نازک ترین دور میں جو اہم ترین ضرورت ہے وہ بہت بڑی بیداری کی ہے جس کے نتیجے میں شمالی امریکہ، مغربی یورپ اور ساری دُنیا اخلاقی حالت کے لحاظ سے نئے بن جائیں۔خاندانوں کا مسلسل شیرازہ بکھرتا رہیگا۔ہماری گلیاں پڑوس سے زیادہ محاذِ جنگ کی صورت میں ہونگی۔ہمارے نوجوان منشیات کے عادی ہو جائینگے اور جنسی بے راہروی کی وجہ سے مختلف امراض کے شکار ہو جائینگے اور یہ اُس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک کہ کوئی بڑی بیداری ہمیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے اور ہمیں پاکیزگی کی طرف نہ لے جائے۔لیکن اس سب کُچھ کا آغاز خدا کے تازہ مسح کے وسیلہ سے ہی ہو گا۔

آنے والی رُوحانی بیداری میں آپ کا اپنا شخصی کردار ہے۔یہ بس اپنے آپ کو خدا کے طالب ہونے میں لگا لینے اور اُس کے جاننے کے وسیلہ سے ہی ممکن ہے۔یہی سبب ہے کہ بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ«پس اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں تب میں آسمان پرسے سُن کر اُن کے گناہ معاف کرونگا اور اُن کی سرزمین کو بحال کرونگا»۔لہٰذا میں پھر آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کی رویا کیا ہے؟۔