Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
فاتحانہ مسیحی دُعا کیا ہے؟

اکثر مسیحی یہ چاہتے ہیں کہ اُن کی دُعائیہ زندگی بڑی موثر اور زبردست قسم کا انقلاب لانے والی ہو۔لیکن جب خدا کیساتھ رابطے کی بات آتی ہے تو بہت سے مسیحی اپنے آپ کو شکست خوردہ پاتے ہیں۔اگر عام کلیسیائی ممبران سے پوچھا جائے کہ وہ دُعا میں کِتنا وقت گزارتے ہیں تو اُن میں سے اکثر اس سوال کا جواب دینے میں انتہائی شرمندگی محسوس کرینگے۔یہ تنقید نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک حقیت ہے۔تاہم دُعا ایک ایسی چابی ہے جس کے ذریعے خدا کیساتھ ہمارا رِشتہ اور زیادہ پروان چڑھتا ہے اور یوں ہم خدا کیساتھ وفاداری سے چلتے ہیں۔

فاتحانہ مسیحی دُعا کیا ہے اور ہم اس طرح کے شفاعت کنند گان کیسے بنتے ہیں؟۔اس سوال کے تین حصص ہیں۔دُعا کیا ہے؟ مسیحی دُعا کیا ہے اور فاتحانہ دُعا کیا ہے؟۔اپنی دُعا میں فاتح ہونے کیلئے ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دُعا کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔دُعا کوئی مذہبی فریضہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی رِسم ہے۔یہ خدا کو ایسے ڈھونڈناہرگِز نہیں جیسے وہ کرسمس بابا کی طرح کہیںبلندی پر ہے۔

نہایت ہی سادہ الفاظ میں دُعا خدا باپ کیساتھ باتیں کرنا ہے۔وہ لوگ جو خدا کو جانتے ہیں دُعا کے ذریعے وہ اُسے اور بہتر طور پرجان سکتے ہیں۔یہ ایک ایسا رِشتہ ہے جِس کے ذریعے ہم اُس خدا سے محبت کر سکتے اور اُس کی بات سُن سکتے جس نے ہمیں بنایا اور خلق کیا ہے۔اس طرح کی سمجھ کے ذریعے دُعا سے متعلق انسان کی سوچ بدل جائیگی اور اُس کو اس لائق کریگی کہ وہ فاتحانہ مسیحی دُعا کر پائے۔اس کے بغیر دُعا صرف ایک فریضہ اور رِسم بن جاتی ہے۔یوں پھر نہ توفتح ہوتی ہے اور نہ ہی نئے بھید کُھلتے ہیں۔خدا ہم میں سے ہر ایک کیلئے جس بات کا آرزومند ہے وہ اچھا ئی ہے۔

میر اایک ایسے انقلاب سے واسطہ پڑا کہ ایک ایسا ملک جس میںجنگ و جدل کبھی بھی بند نہ ہوااور اُس کے بعد نسل کُشی کا عمل شروع ہوگیا۔مجھے وہاں کی ممبرانِ پارلیمنٹ، عدالتِ عُظمیٰ کے منصفین سے، ممبرانِ اسمبلی اور وزیرِ اعظم سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا۔لیکن میں دیانتداری سے یہ کہوں گا کہ اُن میں سے ایک نے بھی اس طرح سے خداوندوں کے خداوند اور بادشاہوں کے بادشاہ کے حضور آنے کا تجربہ پہلے کبھی نہیں کیا۔

خالقِ کائنات کے ساتھ پُر معنیٰ گفت و شنید میں وقت گزارنے میں جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ کِسی اور طرح سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔اس سے متعلق ذرا سوچئے کہ وہ خدا جس نے اس دُنیا کوفضا میں معلّق کیا ہے اور وہ جس نے خلامیں اجرامِ فلک کو سجایا ہے، وہی خدا ہمارے ساتھ بات کرنا اور دِل سے ہمارے دِل سے بات کرنا چاہتا ہے۔واہ! اس کا موازنہ کِسی بھی اور چیز سے نہیں کیا جا سکتا۔

دُعا دو دِلوں کی ایک دوسرے سے بات چیت ہے۔یہی سبب ہے کہ دُعا کرنے اور مسیحی دُعاکرنے میں بہت فرق ہے۔آج بہت سی دُعائیں بس مذہبی فرض سمجھ کر کی جاتی ہیں اور یہ حقیقی مسیحی دُعائیں نہیں ہوتیں۔مسلمان دُعا کرتے ہیں۔ یہودی دُعا کرتے ہیں ، ہندو دُعا کرتے ہیں۔کلیسیائی ممبران دُعاکرتے ہیں تو پھر مذہبی دُعا اور مسیحی دُعا میں کیا فرق ہے؟۔مذہبی دُعا خدا تک رسائی کی انسانی کوشش ہے۔تاہم حقیقی مسیحی دُعا خدا کاہمارے لئے ایک ایسی راہ بنانا ہے کہ ہم اُس کی حضوری میں داخل ہوں اور اُس کیساتھ رفاقت رکھیں۔

خدا مکمل طور پر پاک ہے۔اُس منبعِ پاکیزگی کے حضور کِسی ناپاک چیز یا شخص کا آنا نا ممکن ہو گا۔یہی تو وجہ ہے کہ دو ہزار سال پہلے یسوع صلیب پر مَر گیا۔بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ جب یسوع صلیب پر مﺅا«اور مقدس کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا»(متی ۲۷: ۵۱)۔یہ وہ پردہ تھا جو پاک مقام کو پاکترین مقام سے جُدا کرتا تھا۔اس پاکترین مقام میں صرف سردار کاہن کو ہی داخل ہونے کی اجازت تھی کیونکہ پاک ترین مقام وہ تھا جہاں خدا کی حضوری ہوتی تھی اور پاک خدا کی حضوری میں گنہگار شخص داخل نہیںہو سکتا۔لیکن جب یسوع موا تو اُس نے ہمارے گناہوں کی معافی کا انتظام کیا اور ہر وہ شخص جو اُس پر ایمان لاتا ہے اُسے گناہوں کی معافی بخشی۔

لہذا خدا کے فضل کے وسیلہ سے ہمیں خدائے قادرِ مطلق تک رسائی حاصل ہے۔اس پر سوچئے۔یسوع کے خون کے وسیلہ سے جو صلیب پر بہایا گیا ہے اب میری اور آپ کی کائنات کے خالق کی حضوری تک رسائی ممکن ہے۔یہ مسیحی دُعا ہے۔خدا کے حضورمیں اپنے راستبازی کے کاموں کے سبب سے نہیں بلکہ اُس کے فضل کے وسیلے سے آنا۔دُعا کے سارے تصور کو یہ بات یکسر بدل دیتی ہے۔اب یہ محض فرض نہیں رہتا اورنہ ہی مذہب رہتا ہے۔یہ خوشی و مسرّت ہے۔فاتحانہ مسیحی دُعا کرنا شکست نہیں بلکہ فتح ہے۔