Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
فاتحانہ مسیحی دُعا ایک عام مسیحی دُعا ہے

ایمانداروں کے دِل کی ایک آہ ہے کہ «میں اپنی دُعائیہ زندگی میں بڑی تگ و دو کرتا ہوں»۔بہت سے لوگوں نے مجھے بتایاکہ«یوں لگتا ہے کہ دُعا میرے لئے ایک رِسم بن گئی ہے۔یا«میرے لئے مسلسل دُعائیہ وقت ٹھہرانا مشکل ہو گیا ہے»۔اوسطاً مسیحی پورے دِن میں تین یا چار منٹ دُعا کرتے ہیںاور یہ بھی عام طور پر کھاناکھانے کے وقت ہوتا ہے۔تاہم ایک عام مسیحی کی دُعائیہ زندگی اور ایک مسیحی ایماندار کی دُعا ئیہ زندگی دو مختلف باتیں ہیں۔

میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے مسیحیوں کی آرزو ہے کہ وہ دُعائیہ شخصیت بن جائیں لیکن اُنہیں یہ معلوم نہیں کہ شروع کہا ں سے کریں۔فاتحانہ مسیحی دُعا عام مسیحی دُعا ہے۔اس میں کوئی منفرد قسم کی بات نہیںہے۔ایک بڑا شفاعت کنندہ بننے کیلئے علمِ اِلٰہی کا ماہر ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ دُعا کوئی عقلی رابطہ نہیں بلکہ یہ دو دِلوں کا رابطہ ہے اور وہ دو دِل ایک تو خدا کا اور دوسرا انسان کا ہے۔خدا کوئی بڑے بڑے الفاظ بولنے کی مہارت نہیں چاہتا بلکہ وہ فروتن دِل دیکھنا چاہتا ہے۔کوئی بھی ایسا شخص جس کا دِل خدا کو جاننا اور اُس سے پیار کرنا چاہتا ہے وہ خدا سے شفاعت کرنے والی فوج بننے کے لائق ہو تا ہے۔

اپنی دُعائیہ زندگی میں فاتح ہونے کیلئے ہمیں دُعا کی روح کو سمجھنا ضروری ہے۔فاتحانہ مسیحی دُعا میں پہلا قدم یہ ماننا ہے کہ دُعا خدا کی طرف سے ہم میں سے ہر ایک کو فضل کی دعوت ہے کہ ہم اُس کی حضوری میں داخل ہوں۔بائبل مقدّس خدا کے تخت کو« فضل کا تخت» بیان کرتی ہے(عبرانیوں ۴: ۱۶)۔قدّوّس خدا تک رسائی کی وحد راہ اُس کے فضل کے وسیلے سے ہی ہے۔جب ہم اُس بڑی سچائی کو سمجھ جاتے ہیں تو پھر ہماری دُعابہت زبردست بن جاتی ہے۔اور خدا کے ساتھ وقت گزارنے میں اطمینان اور خوشی کے چشمے بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ہر صبح میں خدا کی حضوری میں بڑی حیرانگی سے کھڑا ہوتا ہوں۔جب میں اُس کی حضور ی میں آتا ہوں تو اس لئے نہیں کہ اُس سے کچھ حاصل کرنا ہے۔اگرچہ وہ مجھے سب کُچھ دےتاہے جو میں اُس سے مانگوں یا مانگنے کیلئے سوچوں۔میں خدا کو دینے کیلئے مجبور نہیں کرتا بلکہ خود اپنا دِل اُس کے حضور اُنڈیلتا ہوں۔خدا کی حضوری میں آنے کا مقصد یہ ہے کہ اُسے شخصی طور پر جانا جائے۔یہ اُس کا تجربہ کرنا ہے۔دُعا ایک عملی طریقہ ہے۔دُعا ہمارے آسمانی باپ کیساتھ جو قادرِ مطلق خدا اور سلامتی کا شہزادہ ہے محبت کے رِشتے کا قیام ہے۔یہ وہ ہے جو کائنات کے تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔اس میںکِسی طرح کی رسوم اور نئی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اُس کو جاننا ہے جو سب کُچھ جانتا اور ہر ایک کو جانتا ہے۔

جب ہم دُعا میں اس طرح کی سوچ پیدا کرتے ہیں تو پھر فرض کے بجائے یہ ہماری خوشی بن جاتی ہے۔مذہب کے بجائے رِشتہ بن جاتا ہے اور شکست کے بجائے فتح مِل جاتی ہے۔شکایت اور بڑ بڑانے کے بجائے حمد اور شکرگزاری کرنا ہماری عادت بن جاتی ہے۔محبت ہی کی وجہ سے فتحمند شفاعت کنندہ ہونا ہماری خوبی اور صِفت بن جاتی ہے۔چونکہ فضل ہی کے وسیلے سے دُعائیہ چشمہ بہتا ہے اور یوں شفاعت کرنے والا خدا کی محبت میں خوشی مناتاہے۔وہ خدا کی طرف سے محبت کا تجربہ کرتا ہے اور اس سے خدا کیلئے محبت پیدا ہوتی ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ دُعا رابطے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔وہ اپنی محبت کے ذریعے ہم سے رابطہ کرتا ہے اور ہم اپنی محبت کا اُس سے اظہار کرتے ہیں۔

دُعا دو دِلوں کا رابطہ ہوتا ہے۔یہ خدا کا دِ ل اور انسان کا دِل ہے۔خدا کا دِل مکمل طور پر پاک اور بے عیب ہے۔اُس کا دِل قدرت والا اور ابدی ہے۔لیکن ہمارے دِل چھوٹے، ناپاک، سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز ہیں۔تو بھی یسوع کے خون کے وسیلے سے ہمیں اُس کی حضوری میں جانے کا حق حاصل ہے۔واہ! یہی فاتحانہ دُعا ہے۔یہ خدا کو اُس کے فضل کے وسیلے سے جاننا ہے۔