Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
یداری دُعا کے پروں پرسوار ہو کر آتی ہے

میری مسیحی زندگی میں وہ لمحات نہایت ہی اہم تھے جن کا میں نے اس سے قبل کبھی تجربہ نہیں کیا۔ اُن دِنوں میں میں نے روزے کے حقیقی معنیٰ سیکھے تھے۔ تاکہ روزے کے حقیقی مفہوم کو سمجھ پاﺅں۔میری کوشش کے باوجود میں نہیں کھا سکتا تھا۔جب صبح کو میں اُٹھتا تو میرا دِل اس بات کا مشتاق ہوتا کہ میں کُچھ وقت اپنے نجات دہندہ کیساتھ گُزاروں۔خدا کی حضوری کا ایسا گہرااحساس ہوتا کہ ہم میں سے اکثر کیلئے دُعائیہ کمرے میں وقت گزارنا محال ہوتا۔یوں لگتا تھا کہ گویا وقت گزر ہی نہیں پا رہا۔وہ ایسے دِن تھے کہ یوں لگتاتھا کہ گویا آسمان زمین پر آگیا ہے۔میری اس نئی مسیحی زندگی میں یہ ایک ایسا وقت تھا جِسے زیادہ تر لوگ بیداری کہتے ہیں۔

جب بیداری آئی تو میری ٹیکس کیساتھ شادی ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ ایک خدا پرست پاسبان نے میں مجھ سے کہا کہ میرے چرچ کے نوجوانوں کیلئے ایک بشارتی پروگرام کا انعقاد کرو۔میں نے اُس چرچ کے نوجوانوں سے مِلنے کی کوشش کی لیکن اُن میں بہت ہی کم دِلچسپی تھی۔تاہم ان نہایت ہی محترم پادری صاحب نے مجھے حوصلہ دیا۔«میں بھی دُعا کرتا رہا»۔پادری صاحب کہتے«خدا کوئی عظیم کام کرنے کو ہے»۔اُس وقت میں یہ آرزو کرتا تھا کہ کاش کہ میرا بھی ایسا ہی ایمان ہو۔

ان پادری صاحب کی کلیسیاءمیں نوجوانوں کی بشارتی عبادت بُدھ شام کو شروع ہوئی لیکن بہت ہی کم نوجوان مِل سکے۔یہ ۱۹۷۰ ءکی بات ہے کہ جب نوجوان کلیسیاﺅں اور عبادات سے دور بھاگ رہے تھے۔ تمام معاشروںمیں نفسیاتی منشیات کا بھر پور استعمال ہو رہا تھا۔ویتنام بھی ٹوٹ رہا تھا۔نسلی تناﺅ بھی بڑھ رہا تھا۔روحانی باتوں میں دِلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔لیکن اُن پادری صاحب کی آنکھ نہ تو اُس معاشرے پر اور نہ ہی حالات پر لگی ہوئی تھی۔اُنہوں نے اپنی نظریں نجات دہندہ پر لگائی ہوئی تھیں۔اُنہوں نے دُعا کی اور دعا کی اور زیادہ دُعا کی اور وہ ہمت نہ ہارے۔وہ مسلسل کہتے رہے کہ «میں دُعا کر رہا ہوں اور خدا کوئی عجیب کام کرنے کو ہے»۔لیکن اُس پہلے بُدھ کی شام کُچھ بھی نہ ہوا۔میں نے ایک چھوٹی سی جماعت میں کلام پیش کیالیکن کِسی نے بھی رَدِّ عمل کا اظہار نہ کیا۔میں نے جمعرات کو بھی اپنی ساری طاقت سے کلام سُنایا۔پھر بھی کُچھ نہ ہوا۔میں نے لوگوں کو توبہ کیلئے موقع دیا لیکن کُچھ بھی نہ ہوا۔

تاہم جب عبادت کا اختتام ہونے کو تھا تو ایک آدمی سامنے آیا اور پادری صاحب کیساتھ مِل کر دُعا کی۔تب اُنہوں نے کھڑے ہو کر لوگوں سے اور خاص کر نوجوانوں سے کہا کہ مجھے معاف کرو۔اُنہوں نے اقرار کیا کہ میں نوجوانوں کیلئے کوئی اچھا نمونہ نہ ہوا۔جس لمحے وہ نیچے بیٹھے تو ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔خدا اُس کلیسیاءسے ملاقات کیلئے اُتر آیا تھا۔میرے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ بتا پاﺅں کہ حقیقت میں کیا تبدیلی رونما ہوئی۔مذبح ایسے مسیحیوں سے بھر گیا جو خدا کے حضور رو رہے ، اپنے گناہوں کا اقرار کررہے اور معافی پا رہے تھے۔

جمعہ کی شام چرچ بھر گیا تھا۔خدا نے بڑی کثرت کیساتھ کام کیا۔ہفتے کی شام بھی چرچ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اتوار کے دِن اتنے لوگ تھے کہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئے۔ان پادری صاحب نے پھر مجھ سے بات کی اور کہا«سیمی! یہ بیداری کا اختتام نہیں بلکہ صرف آغاز ہے۔ہم ایک اور ہفتے تک اِن عبادات کو جاری رکھیں»۔

ہم نے ان عبادات کو جاری رکھا لیکن جگہ کی کمی کے سبب سے ہمیں ایک دوسری عمارت میں منتقل ہونا پڑا۔ہم یونیورسٹی کے کیمپس میں گئے۔اس پہلی عمارت میں لوگ نہ سما پائے۔جس سبب سے ہمیں ایک دوسری عمارت میں منتقل ہونا پڑا۔آخر کار ہم نے سِوک سینٹر میں کئی ہزار لوگوں کے ساتھ مل کر اس عبادتی پروگرام کا اختتام کیا۔شہر کی ایک انتہائی بدنام منشیات فروش تبدیل ہو گئی اور مسیح کو اپنی زندگی دی۔تیس سال بعدبھی آج وہ مسیح میں قائم ہے۔جب نسلی گروہوں کے لیڈرز مسیح کے پاس آئے تو نسلی تصادم بھی ختم ہو گیا۔مقامی اخبار کے صفحہ اوّل اس بیداری کا تذکرہ کیا گیا۔۶ ،بجے سے اس بیداری سے متعلق خبریں سُنائی جاتی تھیں۔آج تیس سال بعد بھی اُن عبادات کے وسیلے سے تبدیل ہونے والے اشخاص کی ای میل مِلتی ہیں۔

میٹنگ کا آغاز مُٹھی بھر لوگوں سے ہوا اور ہزاروں لوگوں سے اس پروگرام کا اختتام ہوا۔لیکن اس بیداری کا آغاز ایک نہایت ہی منکسر المزاج اور فروتن اور مقدس اور دُعائیہ شخصیت کے وسیلے سے ہوا۔بیداری کا آغاز عموماً اِسی طرح ہی ہوتا ہے۔عظیم بیداریوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔آپ دیکھیں گے کہ بغیر کِسی توقع کے اس کا آغاز عموماً دُعاکرنے والے خواتین و حضرات سے ہوتا ہے۔ان کی دُعا کے پروں پر سوار ہو کر بیداری آتی ہے۔کلیسیاءکا آغاز بھی ایک دُعائیہ پروگرام کے وسیلے سے ہوا۔یہ دُعائیہ میٹنگ کے وسیلے سے ہی قائم رہی۔عالمگیرعظیم مِشن کی تحریک کا آغاز بھی ایک دُعائیہ عبادت میں ہی ہوا۔

واہ! خدا کا جلال ہمیشہ دُعا کے پروں پر ہی سوار ہو کر آتا ہے۔

بیداری اور فاتحانہ دُعا

تقریباً ایک سو چالیس سال گزر گئے کہ ایک عظیم برطانوی پاسبان چارلس ہیڈسن سپرجن نے لکھا«کہ خدا کی حضوری سے تازگی پانے کے وقت کا سورج اب ہماری سرزمین سے غروب ہو چُکا ہے۔جدھر دیکھیں بہت پریشانی اور بیتابی کے بڑھنے کے نشان نظر آتے ہیں۔ہماری کلیسیاﺅں کو دُعائیہ روح ملاقات کیلئے آرہی ہے۔بڑی تیزو تُند ہواکا سانس پہلے ہی محسوس کر لیا گیا ہے اور مبشر حضرات کے اُبھرنے کے سبب سے آگ کی زبان نازل ہو چُکی ہے»۔

«دُعا کی روح» جس کا مِسٹر سپرجن نے ذکر کیا ہے وہ ہمیشہ ہر بیدار ہونے والی کلیسیاءکوجگانے کی جڑ رہی ہے۔بات یہ نہیں ہے کہ آپ نئے عہدنامے میں تلاش کریں یا تاریخ دیکھیں بیداری ہمیشہ دُعا کے وسیلہ سے ہی آئی ہے۔اعمال پہلے باب میں کلیسیاءنے ایک دُعا ئیہ میٹنگ میں ہی جنم لیا۔اگلے باب میںتین ہزار لوگ تبدیل ہو گئے۔ساری اعمال کی کِتاب میںکلیسیاءنے دُعاکی اور خدا نے کام کیا۔ پہلی بڑی بشارتی تحریک دُعا کے وسیلے سے ہی شِروع ہوئی۔کلیسیاءنے ایک ایک کر کے قدم آگے بڑھایا اس کی وجہ یہ تھی کہ کِسی نے یا لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نے دُعا کی۔

فاتحانہ دُعا بیداری کی بنیاد ڈالتی ہے۔کئی سالوں سے میں ایک بڑی بشارتی بیداری کا طالب عِلم رہا۔اور مجھے معلوم ہوا کہ سب نے اپنے دِل سے دُعا کی۔کِسی کو بوجھ مِلتا ہے اور دُعا کرنا شِروع کرتا ہے۔وہ خدا کا انتظار کرتے ہیں اور وہ اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت پر اُن کو جواب دیتا ہے۔وہ خدا سے ملاقات کرتے ہیں اور خدا اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کرتا ہے۔

پہلی دفعہ میں نے بیداری کا تجربہ کیا۔ایک ایسی دُعائیہ روح تھی جس نے کلیسیاءاور بیداری کی عِبادات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کا آغاز ایک دعا گو پاسبان سے ہوا۔اُس نے نہ تو ہمّت ہاری اور نہ ہی دُعا کرنا بند کی۔اُس نے نااُمّیدی کے عالم میں بھی مسلسل دُعا کی۔پھر ایک دِن خدا ملاقات کیلئے اُتر آیا اور پاسبان نے اپنے لوگوں کے گھروں میں وِزٹ کیا۔جب خدا آتا ہے تو سب کُچھ بدل جاتا ہے۔وہ بشارتی عبادات جن کو اتوار کے دِن تمام ہو جانا تھا وہ ایک ہفتہ تک مزید جاری رہیں۔گرجا گھر میں لوگ سما نہ پائے۔خبر رسان ایجنسیوں نے اُن عظیم کاموں کا اشتہار دِیا جو خدا کر رہا تھا۔بڑے بڑے منشیات کے عادی نجات پا رہے اور اپنی بُری عادات سے رہائی پا رہے تھے۔جو نسل در نسل ایک دوسرے کے دُشمن تھے وہ مسیح میں بھائی بن گئے۔جب خدا کے لوگ دُعامیں ٹھہرے تو خدا اُتر آیا۔