Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
دُعا- بیدار کلیسیا کا نمونہ

عہدِ جدید کی کلیسیا نے دُعا ئیہ عبادت میں جنم لیا اور یہ مردانِ دُعا اور خواتینِ دُعا کیساتھ ہی قائم رہی۔ تاہم آج کے ایمانداروں کے تجربے کے مطابق دُعا ادھوری سی لگتی ہے جبکہ پہلی صدی کے ایمانداروں کا اُٹھنابیٹھنا دُعا ہی تھا۔اعمال پہلے باب میں ہم کلیسیاءکو خدا کے حضور پکارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ دوسرے باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ پطرس اور یوحناعبادت کیلئے جا رہے تھے کہ خدا نے اُن کے ذریعے ایک لنگڑے آدمی کو شِفا دی۔اعمال ۴ باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ کلیسیاءخدا کے چہرے کے دیدار کی طالب ہے۔ساری اعمال کی کِتاب میں ہم کلیسیاءکو مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

کلیسیاءنے نہ صرف تاریخ کے اُن ابتدائی ایّام میں دُعا کی بلکہ بڑھتی بھی گئی۔کلیسیاءاس قدر تیزی سے بڑھی کہ کلام کہتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ کلیسیاءمیں شامل ہو تے جاتے تھے۔یہ بات بہت غور طلب ہے کہ دُعا ہمیشہ سے کلیسیاءکی ترقی کیلئے بڑی زبردست تحریک کا سبب بنی۔تاریخ میں جِتنی بھی عظیم بیداریاں آئی ہیں اُن کے پیچھے ہمیشہ پوشیدہ دُعائیہ ہیرو رہے ہیں۔کلیسیائی بیداری کیلئے دُعا ایک غیر متنازعہ حقیقت ہے۔

دُنیا تک انجیل کے وسیلے سے رسائی کیلئے بوجھ کلیسیائی بیداری میں ہی جنم لیتا ہے۔اس کا نمونہ کُچھ یوں ہے۔کلیسیاءکُچھ غیر موثر ہو رہی ہے۔اس سے ہمیشہ اخلاقی بدحالی اور روحانی تنزلی جنم لیتی ہے۔کلیساءکا سو جانا تو ممکن ہے لیکن روح القدس نہیں سوتا۔وہ وفادار بقیہ کے دِلوں کو گرمانے سے آغاز کرتا ہے اور وہ خدا کے حضور بیداری اور تازگی کیلئے پکارنا شِروع کر دیتے ہیں۔خدا اُن کی آواز کو سُن کر انبیاءکا سا بوجھ بخشتا ہے۔تب وہ ایک نئے اختیار اور قوّت کیساتھ خدا کا کلام سُنانا شروع کر دیتے ہیں۔سوئی ہوئی کلیسیاءاب جاگنا شروع کر دیتی ہے۔گناہوں کا اقرار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔خدا کے لوگوں کے دِلوں کو توبہ کے ذریعے موہ لیا جاتا ہے اوراُن لوگوں کو جنہوں نے مسیح کی معافی کا تجربہ کیاہوتا ہے اُنہیں کھوئی ہوئی دنیا کیلئے ایک نیا بوجھ ملنا شروع ہو جاتا ہے۔حرفِ آخر کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بے شمار لوگ خدا کی بادشاہی میں نیا جنم لینا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ ایک تاریخی نمونہ ہے جو بار بار دُہرایا جاتا رہا۔دُعا ہمیشہ سے عظیم بیداریوں کی بنیاد ٹھہری۔یہ منکسر دِل کا اظہار ہے۔دُعا یہ کہتی ہے کہ «اے خدا مجھے تیری ضرورت ہے۔تیرے بغیر میں کُچھ بھی نہیںکر سکتا»۔یہ مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرنا ہے۔

بیداری خدا کے فضل کا اُس کے لوگوں پر ظہور ہے۔یہ فضل ہمیشہ منکسرا لمزاج شخص کو ہی ملتا ہے۔بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ «وہ تو زیادہ توفیق بخشتا ہے اسی لئے یہ آیا ہے کہ خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے»(یعقوب ۴: ۶)۔خدا مغرور کا مقابلہ کرتا ہے لیکن وہ جو دِل کے فروتن ہیں اُن پر مہربان ہے۔دُعا کرنے والی کلیسیاءہمیشہ بیدار کلیسیاءکا معیار بناتی ہے۔

۱۹۷۸ میں مجھے جرمنی کی ایک کلیسیاءمیں خدمت کرنے کا اتفاق ہوا۔اس کلیسیا کا نام ہان بیپٹسٹ چرچ تھا۔«ہان»جرمنی زبان کے ایک لفظ«ہانچن» سے مشتق ہے جس کے معنی مُرغی کے ہیں۔اس اعتبار سے آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میں جرمنی میںمُرغیوں کا مُرغی بیپٹسٹ چرچ میں پاسبان بن گیا۔یہ ایک چھوٹی سی کلیسیاءتھی جوزیادہ تر امریکی فوج کے خاندانوں سے مِل کر بنی تھی۔۱۹۷۸ میں جو میں نے روحانی مُردگی دیکھی اُس کے سبب سے میرا دِل ٹوٹ گیا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے چوگرد لوگوں کی ایک جماعت جمع کی جائے اور اُنہیں دُعا کرناسِکھایا جائے۔یوں ہفتہ وار ۱۵ تا۲۰، لوگ میرے ساتھ مِلنا شروع ہو گئے۔جب وہ خدا کے حضوردُعا میں مسلسل وقت گزارتے تھے توخدا نے اُن کے دِ ل میں گہرے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ہمارے بشارتی کام میں دُعا ایک اہم ترین طریقہ کار ٹھہری۔جب خدا نے ان لوگوں اور اُن کے خاندانوں کے دِلوں میں گہرے طور پر کام شروع کردیا تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے کلیسیائی ممبران کی تعداد بڑھ گئی۔چند ہی ہفتوں میں ہمیں تمام بینچ ہٹانے پڑے اور اُن کی جگہ کُرسیاں رکھ دیں تاکہ آنے والے تمام لوگ عبادت میں بیٹھ سکیں۔ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ہمیں ایک دِن میں کئی عبادات کرنا پڑیں۔ایسا کرتے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا تھا کہ ہمیں قریب ہی ایک مقامی ہائی اسکول میں اتوار کی شام کو عبادت کرنا پڑی۔ہم نے دعا کی اور خدا نے کام کیا۔جب خدا نے کام کیا تو پھر ہم خدا کے کلام کے بھوکے پیاسوں کی کلام کے ذریعے مدد کرتے رہے۔

پھر کیا ہوا؟۔ خواتین و حضرات دُعا کرنا شروع ہو گئے اور خدا کا روح کام کرنا شروع ہو گیا۔اس نے ابتدائی کلیسیاءکو بدل کر رکھ دیا۔خدا تبدیل نہیں ہوا ہے۔ہو سکتا ہے کہ اُس کے طریقے مختلف ہوںلیکن اُس کے اُصول جوں کے تُوں ہی رہتے ہیں۔دُعا گو کلیسیاءسے بیدار کلیسیاءجنم لے گی۔