Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
دُعا ، بیداری، اور تاریخ

دُعا کے ذریعے نہ صرف بائبل کے زمانے میں ہی بیداری آئی بلکہ یہ کلیسیائی تاریخ کی کِسی بھی بڑی سے بڑی بیداری کا بنیادی سبب بھی بنی۔سترہویں صدی میںخدا کا ہاتھ جان ویسلی اور جارج وائٹ فیلڈ پر تھا۔خدا نے اُنہیں استعمال کیا اور اُن کے وسیلے سے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم مسیح کے پاس آیا۔خدا نے وائٹ فیلڈ کو استعمال کیا اور اُس کے وسیلے سے امریکہ کی ابتدائی تاریخ میں بیداری کی ایک چنگاری چھوڑی۔

آرنلڈ ڈالیمور جو کہ وائٹ فیلڈ کی زندگی سے متعلق لکھنے والا بھی تھالکھا کہ یوں ہوا۔مسٹر وائٹ فیلڈ نے کہا«علی الصبح، دوپہر اور نیم شب بلکہ سارا دِن مبارک یسوع آتا رہا اور میرے دِل کو تازگی بخشتا رہا۔پتھر کے بنے ہوئے گھروں کے قریب کچھ ایسے درخت بھی ہیں جو بولتے ہیں۔وہ آپ کو بتائیں گے کہ میں اور کُچھ اور لوگ خدا وند کے ساتھ رفاقت میں یہاںکس قدر لطف اندوز ہوئے۔میں خدا کی عظیم قدرت و حشمت کے وسیلے سے اس قدر قوّت پاﺅں گا کہ میں اپنے آپ کو زمین پر گِرنے سے تو بچاﺅں گا اور اپنی جان کو خدا کے سپُرد کر دوں گاتاکہ جو کُچھ وہ چاہتا ہے وہ لکھے»۔

اور اس طرح کی دُعا کا نتیجہ کیا تھا؟۔وائٹ فیلڈ بتاتے ہیں کہ خدا نے کِس طرح سے لوگوں کے دِلوں کو اپنا اسیر بنایا ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ« میں ہفتے میں تقریباً پانچ بار واعظ کرتا ہوں»۔لیکن کیا جماعت بڑی ہوتی چلی گئی؟میں یہ سب دیکھ کر بڑا خوش تھا کہ لوگ کِس طرح سے آرگن کی آ واز پرہِلتے ہیں۔اُن کی آوازیں اس قدر بلند ہوتی ہیں کہ لگتا ہے کہ اُن کے سانسوں سے چرچ کی چھت اس قدر گرم ہو جائے گی کہ جیسے بھاپ بن کر بارش کے قطروں کی طرح برسنا شروع ہو جائیگی۔عام طور پر جتنے چلے جاتے ہیں وہ آتے ہی سمجھتے ہیں کہ ہمیں جگہ مِلنی چاہیئے۔

سترہویں صدی میں عظیم بیداری کا راز یہ تھاکہ خدا کے ایسے لوگ مِل گئے جو دُعا کرنے والے تھے لیکن خدا تبدیل نہیں ہوا۔اُس نے جو کُچھ اُس وقت کیا وہ آج اس سے بڑھ کر کرنا چاہتا ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم بھی تبدیل ہوئے ہیں کہ نہیں؟۔ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ ہماری انسانی نعمتیں ہیں جن کے وسیلے سے ہم دُنیا تک رسائی کرینگے اور اُس وقت ہم خدا کی قدرت کا یقین نہیں کرتے۔تاہم دُنیا میں وہ کلیسائیں جو بڑی ہیں اور ترقی کر رہی ہیں وہ ایسی کلیسیائیں ہیں جو دُ عا کرنے والی ہیں۔

ابھی گزرے ہفتے کی بات ہے کہ میں قائرہ ، مِصر میں ایک بڑے پریسبیٹیرین چرچ میں تھا۔اس کلیسیاءکی بڑے عجیب طریقے سے ترقی ہوئی۔دورانِ ہفتہ سات ہزار کے قریب لوگ عبادات میں شریک ہوتے ہیں۔مختلف دِنوں میں مختلف عبادات ہوتی ہیں۔میںنے پادری صاحب سے پوچھا کہ کلیسیاءنے جس طور پر ترقی پائی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟پہلی بات جو اُنہوں نے مجھ سے کہی وہ یہ تھی کہ اس کلیسیاءکے جو پہلے پادری صاحب تھے وہ عظیم مردِ دُعا تھے۔

یہ بات صرف مصر میں ہی سچ نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں بھی اسی طرح ہی ہے۔حیدر آباد ہندوستان کی بیپٹسٹ کلیسیاءکے ممبران کی تعداد دس ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔یہ ایک مسلمان شہر میں واقع ہے۔لیکن جس پاسبان نے اس کلیسیاءکا آغاز کیا اُس نے دُعاکی بنیاد پر ہی اِسے شروع کیا۔جب آپ چرچ میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں پر ایک دُعائیہ کمرہ ہے۔اس دُعائیہ کمرے میں بندگانِ خدا دِن اور رات خدا کے چہرے کے دیدار کے طلبگار نظر آئیں گے۔

خدا آج بھی اپنے تخت پر ہے۔وہ تبدیل نہیں ہوا۔جب خدا کے لوگ دُعا کرتے اور اُس کے چہرے کے دیدار کے طالب ہوتے ہیں تو وہ اپنے لوگوں کو تازہ دَم کرتا ہے۔یہ تاریخی طور پر بھی سچ ثابت ہوا ہے اور یہ آج بھی سچ ہے۔بائبل مقدّس فرماتی ہے، «تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سے سُن کراُن کا گناہ معاف کروں گا اور اُن کے ملک کو بحال کرونگا»(۲-تواریخ ۷: ۱۴)۔خدا تبدیل نہیں ہوا ہے۔جیسا وہ ماضی میں کرتا چلا آیا ویسے ہی وہ آج بھی اپنے لوگوںکو بیدار کریگا۔لیکن ایک شرط یہ ہے کہ ہم دُعا ضرور کریں۔