Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
دُعا،بیداری اور بشارت کا تعلق

اس ملک میں میرے لئے پہلا موقع تھا۔میں نے سُنا تھاکہ خدا رومانیہ میں کیسے کام کر رہا ہے۔لیکن جب میرا گزر ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں پر خدا کے لوگوں میں اُس کی حضوری نظر آتی تھی تو مارے خوشی کے پھولا نہ سمایا۔میں نے ماضئی رفتہ کی تاریخی بیداریوں سے متعلق کہانیاں پڑھی ہیں اور میں سوچنے لگا کہ وہ بیداریاں کُچھ ایسی ہی ہوں گے جو میں نے اُریڈیاہ، رُومانیہ میں دیکھیں۔کلیسیائی عبادت کے شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے لوگ جمع ہو کر دُعا کرتے اور خدا کے دیدار کے طالب ہوتے۔رات کو عبادت کے شروع ہونے پر گرجا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور کُچھ لوگ راستے میں بھی سامنے کی طرف منہ کر کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔لوگ باہر گلیوں میں بھی اور سٹیج کے آس پاس بھی کھڑے تھے۔

۱۹۸۰ میںرومانیہ کے ایماندار بڑی سخت ایذا رسانی سے دوچار تھے۔مسیح پر ایمان لانے کے سبب سے کئی مسیحی اپنی ملازمتوں سے بھی محروم ہو گئے۔کُچھ کو بُری طرح پیٹا گیا اور کُچھ کو قید میں ڈال دیا گیا۔بہت سے لوگو ںکا یہ خیا ل ہے کہ رومانیہ کے مسیحی جس ایذا رسانی سے دوچار ہوئے وہ مشرقی یورپ میں سب سے بڑی ایذارسانی تھی۔تو بھی رومانیہ میں روح القدس کا کام نہ رُک سکا۔اُن دِنوںرومانیہ کے ایک بڑے عمانوایل بیپٹسٹ چرچ میں جو منادی ہوئی اُس کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔بڑی تعداد میںلوگ مسیح کے پاس آئے اور شام کی عبادت کے اختتام پرایک لیڈر میرے پاس آ کر کہنے لگا«بھائی سیمی! کیا خدا نے آج شب کام کیا ہے؟»۔سوال سُن کرمیں حیران ہوا اور کہا« کیا آپ نے لوگوں سے بھرا ہوا چرچ اور لوگوں کا ہجوم دیکھاجن کے دِل روحانی بھوک سے بیتاب تھا اور کیا آپ نے دیکھاکہ لوگوں نے کِس طرح پیغام کے اختتام پر رَدِّ عمل کا اظہار کیا؟ آپ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟»۔

اس خدا پرست شخص نے بس مسکراتے ہوئے کہا «جی میں عبادت میں نہیں تھا کیونکہ جب آپ پیغام پیش کر رہے تھے تو میں ایک دوسرے کمرے میں ایک سو آدمیوں کیساتھ مل کر دُعا کر رہا تھا۔دوسری طرف ایک اور کمرہ بھی تھا جس میں ایک سو خواتین پیغام کے دوران آپ کیلئے دُعا کر رہی تھیں »۔میری زبان رُک گئی۔اُس وقت سے لے کر آج تک مجھے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کِسی ایسی جگہ پر پیغام دوں جہاں ایک سو خواتین اور ایک سو مرد دُعا کر رہے ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ مسیح کے پاس آئے۔

رومانیہ کے اُس علاقے میں کئی سال پہلے بیداری کا آغاز ہوا۔یہ اُس وقت ہوا جب مقامی پاسبان نے کلیسیاءکو توبہ کرنے اور خدا کے دیدار کے طالب ہونے کی دعوت دی۔اُس نے اُنہیں سکھایا کہ اُن لوگوں کے نام لکھیں جنہیں مسیح کی ضرورت ہے اور آپ اُن کو جانتے ہیں اور اُن کیلئے دُعا کریں۔لوگ دہریوں کیلئے، اپنے ستانے والوں کیلئے، دوستوں اور خاندان کے افراد کیلئے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوںکیلئے دُعا کرنے لگے۔بیداری نے خدا کے لوگوں کے دِلوں میں جنم لیا اور بہت سے غیر مسیحی لوگ مسیح کو جاننے لگے۔یہ کلیسیاءیورپ میں سب سے بڑی انجیلی کلیسیاءبن گئی۔اُن کی بشارتی ترقی بیداری کی ہی پیداوار تھی اور بیداری خدا کے لوگوں کی دُعا کا پھل تھی۔

کلیسیائی تاریخ میں روحوں کے جیتنے کا یہ سب سے بڑا نمونہ رہا۔جیسا کہ اعمال کی کتاب میں رقم ہے اسی طرح یہ یروشلیم کی کلیسیاءکا بھی طریقہ رہا۔بائبل مقدّس فرماتی ہے کہ «جب وہ دُعا کر چُکے تو جِس مکان میں وہ جمع تھے ہِل گیا اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور خدا کا کلام دلیری سے سُناتے رہے»(اعمال ۴: ۳۱)۔کلام کے مطابق چار باتیں وقوع پذیر ہوئیں۔پہلی بات یہ کہ اُنہوںنے دُعا کی دوسری یہ کہ خدا نے ہر ایک چیز کو ہلا دیا، تیسری بات یہ کہ وہ سب روح القدس سے بھر گئے تھے اور چوتھی یہ کہ اُن سب کو ایک نیا حوصلہ مِلا کہ وہ دلیری کیساتھ خدا کے کلام کو پیش کریں۔

دُعا کا حتمی نتیجہ بشارت تھا۔جب ہم خدا کے قریب آتے ہیں تو ہم اُس کی حضوری سے بھر جاتے ہیں۔وہ محبت ہے اور اُس کی کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے۔اسی لئے اُن کے پاس دلیری سے بولنے کی قوّت تھی۔وہ اُس کی حضوری میں رہے جو سراپا محبت ہے۔اِلٰہی محبت کی موجودگی میں خوف بھاگ جاتا ہے۔دُعا کرنے والی کلیسیاءہمیشہ بشارتی کلیسیاءہو گی۔بیداری اور بشارت ایک ہی چیز نہیں ہیں لیکن جب ہم دُعا کرتے ہیں تو ہم پہلے ہی بیداری کی راہ پر ہوتے ہیں اور جب بیداری جڑ پکڑ لیتی ہے تو پھر بشارتی کام اس کا ما فوق الفطرت نتیجہ ہوتا ہے۔