Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
ضرورت اور بیداری

۔«جیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے ویسے ہی اے خدا میری رُوح تیرے لئے ترستی ہے»(زبُور ۴۲: ۱)۔

کئی سال گُزرے ایک مسیحی ریڈیو پروگرام کیلئے میرا انٹر ویو ہوا اور مجھ سے یہ سوال پوچھاگیا«کہ رُومانیہ کی کلیسیاءاور امریکہ کی کلیسیاءمیں سب سے بڑا فرق کیا ہے»؟اُس وقت کوئی ایک بات نہیں بلکہ بہت سے فرق تھے۔وہ نیکو لائے کیوسِس کیو جیسے شریر اور کیمونسٹ رہنماﺅں کا سیاہ دور تھا۔مسیحی ستائے جاتے تھے۔مسیحی ایمان کے باعِث وہ اپنی ملازمتوں سے نِکال دئے جاتے تھے۔ اُن میںسے کُچھ کو قید میں بھی ڈال دیا گیا کیونکہ وہ اپنے نجات دہندہ سے پیار کرتے تھے۔یہ واقعی بہت مشکل دور تھا۔ایک دفعہ نیکو لائے کے حامیوں کو معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں بائبل سے بھرا ٹرک آرہا ہے۔اُنہوں نے اُن ساری بائبل مقدّس کے اوراق کو باتھ رُوم کے کاغذوں میںاستعمال کر دیا۔

لیکن وہاں محض رُوحانی مشکلات ہی نہیں تھیں۔لوگوں کیلئے کئی جِسمانی مسائل بھی تھے۔روٹی لینے کیلئے کئی لوگوں کو گھنٹوں تک قطار میں کھڑا رہنا پڑتا۔اکثر ایسا ہوتا کہ اشیائِ خورونوش کم ہی ملتی تھیں۔اُس ملک کے وسائل بھی کم تھے۔ اِن تمام تر مشکلات کے باوجود عبادت گو لوگوں کیلئے عبادت گاہ میں جگہ نہ ہوتی تھی۔مسیحی لوگ قبل از وقت ہی عبادت گاہ میں آ جاتے او رخدا کے چہرہ کے دیدار کے طالب ہوتے۔خدا کے لوگوں کیلئے یہ وقت غیر معمولی نہیں تھا۔

تو پھر میں نے سوال کا جواب کیسے دیا؟میں نے اُن تمام باتوں پر غور کیا جو امریکی کلیسیاءاور رُومانیہ کی کلیسیاءمیں پائی جاتی تھیں اور پھر نتیجہ پر پہنچا۔سب سے بڑا فرق ان دو ممالک کی کلیسیاوں میں یہ نہیں تھا کہ امریکی لوگوں کو بہت سے سہولیات میسر تھیں اور رُومانیہ کے ایمانداروں کو اس طرح کی سہولیات میسّر نہ تھیں۔یہ بھی وجہ نہیں تھی کہ رومانیہ کے ایماندار ایذا رسانی سے دوچار تھے جبکہ امریکی نہیں تھے۔اُن دِنوں میں امریکی اور رُومانی مسیحی ایمانداروں میں سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ رُومانی لوگ ضرورت مند تھے اور وہ یہ جانتے تھے جبکہ امریکی مسیحی بھی ضرورت مند تھے لیکن وہ جانتے نہیں تھے۔

وہ جانتے تھے کہ ہمیں خدا کی ضرورت ہے۔یہ اُن کی اشد ضرورت تھی۔وہی اُن کی واحد اُمید تھی۔ اُن کے ہاں نہ تو مسیحی کتب خانے اور نہ ہی مسیحی ریڈیو یا ٹیلی ویژن پروگرام تھے۔اس کے باوجود اُن کے پاس وہ تھا جس کی مغربی مسیحیوں کا اشد ضرورت تھی۔اُن کا ایسا دِل تھا کہ ہم خدا کے طالب ہو رہے ہیں۔اُن کی یہ دِلی آرزو تھی کہ وہ خدا کو جانیں اور اُس کی فرمانبرداری کریں۔وہ اُس ہرنی کی مانند تھے جو پانی کی ندیوں کی پیاسی ہوتی ہے۔مختصراً یہ کہ وہ بہت ضرورتمند تھے۔یہ اُن کی ضرورت ہی تھی جس سبب سے وہ مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرنے والے ہوئے۔

یہ ضرورت اُنہیں خدا کی طرف لے آئی۔اُس نے اُن کی دُعا کو سُنا اور اُن کی دُعا کا جواب دیا۔خدا ایسے ہی دِلوں کا مشتاق ہے۔میں اس بات کا قائل ہوں کہ بہت سے مسیحی لوگ اپنی بیدینی کی عادات پر اس لئے فاتح نہیں ہوئے کیونکہ وہ دِلجمعی کے ساتھ فتح پانے کے طالب ہی نہیں ہوتے۔بہت سی کلیسیاﺅں میں بیداری اسی لئے نہیں آتی کیونکہ وہ جہاں ہیں وہیں خوش ہیں۔میں نے دیکھا کہ بہت سے ایماندار جانتے ہیں کہ حالات ایسے نہیں جیسے ہونا چاہیے تھے لیکن وہ ابھی تک اُس ضرورت کے مقام تک بھی نہیں پہنچے جس کی اُنہیں ضرورت تھی۔

یہی وہ مقامِ ضرورت ہے جہاں ہم اپنے پورے دِل سے خدا کے طالب ہونا شروع ہوتے ہیں۔جب ہم اس طرح خدا کے طالب ہوتے ہیں تو پھر ہم اُسے پائیں گے۔ہوسیع نبی نے فرمایا«اپنے لئے صداقت سے تُخم ریزی کرو،شفقت سے فصل کاٹو اور اپنی اُفتادہ زمین میں ہل چلاﺅ کیونکہ اب موقع ہے کہ تُم خدا وند کے طالب ہو تاکہ وہ آئے اور راستی کو تُم پر برسائے»(ہوسیع ۱۰: ۱۲)۔یہ بیداری ہے۔یہ فتح ہے۔یہ خدا کا اپنے لوگوں کو تازگی بخشنا ہے۔یہ خدا کا ہم پر اپنا رحم کرنا اور محبت دِکھانا ہے۔کیا آپ اُس کے فضل اور رحم کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ کا دِل نیا بنایا جائیگا۔