Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
چراغ و رَوشنی

جب میں نے مسیح یسوع کی خوشخبری کی منادی کیلئے ساری دُنیا میں سفر کیا تو میں نے دیکھا کہ نسلِ نَو کے دِل و دماغ میں ایک بڑی جنگ جاری ہے۔اس جنگ کے مرکز میں سچّائی ہے۔دو بادشاہتوں کی آپس میں جنگ ہے۔خداکی بادشاہی کی بنیاد خدا کے کلام کی سچائی پر ہے جبکہ شیطان کی بادشاہی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے۔

اس کا ثبوت مشرقی یورپ میں اشتراکیت کے سیاہ دور سے زیادہ اور کہیں نہیں مِلتا۔کئی موقعوں پر جب ہم رومانیہ کی سرحد پر پہنچتے تو ہم سے تین سوالات کیئے جاتے۔پہلا سوال۔«کیا آپ کے پاس کوئی ہتھیار ہے؟»اچھاتو پھر«کیا آپ کے پاس کوئی ننگی تصاویر ہیں؟ »اور آخر پر«کیا آپ کے پاس بائبلز ہیں؟»۔یہ تینوں سوال اشتراکی لوگوں کیلئے نہایت اہمیت کے حامل تھے۔ہتھیار شریرقیادت کا تختہ اُلٹنے کیلئے استعمال ہو سکتے تھے۔ننگی تصاویر خاندانی زندگی کا بیڑہ غرق کر سکتی تھیں جس پر کسی بھی معاشرے کی بنیاد قائم ہے اور بائبل مقدّس سراپا منبعِ سچائی ہے اور یہ تاریکی، جھوٹ اور دھوکہ دہی کی بادشاہت کو ہِلا دیتی ہے۔

نیکولائے کیوسِس رُومانیہ کا شریر رہنما تھا ۔وہ خدا کے کلام کی سچائی سے اس قدر خوفزدہ تھا کہ اُس نے بائبل مقدّس کا صفایا کرنے کیلئے ٹھانا ہوا تھا۔ایک دفعہ سرحدپر فوج کو معلوم ہوا کہ ملک میں خفیہ طور پر بائبلز کا ایک ٹرک آ رہا ہے تو اُس نے حکم دیا کہ ان کے اوراق کو ٹائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا جائے۔ایک اور موقع پر اُس نے بائبل مقدس سے بھری ہوئی گاڑی پکڑی تو اُن لوگوں نے اس گاڑی کو توڑ کر اس کا پُرزہ پُرزہ کر دیا۔آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ شریر سیاست دان بائبل مقدس سے اس قدر خوف کیوں کھاتے تھے؟میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے دِل کی گہرائیوں میں جانتے تھے کہ یہ منبعِ سچائی ہے اور جانتے تھے کہ اس سچائی کی روشنی فریب پر بنی مملکت کو ختم کر دیگی۔

لیکن مجھے ایک سوال پوچھنے کی اجازت دیں۔ ہم جو اس آزاد معاشرے کے رہنے والے لوگ ہیں اور بائبل مقدّس تک رسائی حاصل ہے اس عظیم کتاب کے پڑھنے میں کیوں اس قدر کم وقت دیتے ہیں؟حال ہی میں امریکہ میں ایک جائزہ لیا گیا کہ بہت سے ایسے لوگ جو چرچ جاتے ہیں نہیں جانتے کہ یسوع ہی وہ شخصیت تھی جس نے پہاڑی واعظ پیش کیا۔بہت سے مسیحی بے راہ روی کا شکار ہو گئے اور ہم ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم اپنی زندگی ، خاندان اور معاشرے کیلئے رہنما روشنی کھو رہے ہیں۔زبور نویس نے کہا«تیرا کلام میرے قدموں کیلئے چراغ اور راہ کیلئے روشنی ہے»۔کیا ہم اپنا چراغ اور روشنی کھو چُکے ہیں؟یہ روشن ہونے کا ہماری روشنی کے نظر آنے کا وقت ہے۔آئیں ہم چمکیں، آئیں ہم چمکیں۔