Hide Button

سیمی ٹِپٹ منشٹریز مندرجہ ذیل زبانوں میں مواد مہیا کرتی ہے:۔

English  |  中文  |  فارسی(Farsi)  |  हिन्दी(Hindi)

Português  |  ਪੰਜਾਬੀ(Punjabi)  |  Român

Русский  |  Español  |  தமிழ்(Tamil)  |  اردو(Urdu)

devotions
مقامِ کَیلز

دُنیا میں کئی ایسے مقامات ہیں کہ جب آپ اُن کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔میرے دِل پسند مقامات میںایسی ہی ایک جگہ ہے جہاں میں جانا پسند کرتا ہوں۔میں ایفل ٹاور کے بارے میں بات نہیں کر رہا جو پیرس میں ہے اور نہ ہی دیوارِ چین کی بات کر رہا ہوں۔ میں شمالی آئرلینڈ میں ایک چھوٹے سے گاﺅں کیلز کی بات کر رہا ہوں ۔جب کبھی بھی میں وہاں گیا تو اس چھوٹے گاﺅں میں جانے کیلئے وقت ضرور نِکالتا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ آپ حیران ہو رہے ہوں کہ ایسی کونسی بات ہے جس کی وجہ سے کیلز اس قدر معروف ہے؟۔ ممکن ہے کہ آپ نے اس کے بارے میں کبھی نہ سُنا ہو۔کیلز کی ایک ہی بڑی شاہراہ ہے جس پر چند عمارات ہیں۔ یہ ایسامرکز ہے جہاں سے کہیں جانے کا راستہ نہیں ہے۔یہی تو اس چھوٹے سے قِصبے کی منفرد بات ہے۔قریباً ایک سو سال ہو گئے کہ دو معلّمینِ بائبل مقدّس انتہائی پست ہِمت ہو گئے کیونکہ خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے کی کِسی کو بھی دِلچسپی نہیں تھی۔وہ ایک اسکول کی عمارت میں لوگوں کیلئے مل کر دُعا کرنا شروع ہو گئے کہ وہ مسیح کو قبول کریں۔زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ اُن کی برائہ راست دُعا کے نتیجے میں پچاس لوگ مسیح پر ایمان لائے اور اُسے نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا۔خدا کے رُوح کی تحریک سے کلامِ خدا شمالی آئر لینڈ میں پھیلنا شروع ہوگیا۔سارے ملک میں رُوح کی آندھی چلنا شروع ہو گئی اور کہا گیا کہ دس ہزار لو گوں نے بَل فاسٹ کے بوٹینیکل گارڈن میں جمع ہو کررات بھر دُعا کی۔

سارے ملک میں ایک دُعائیہ تحریک شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں رُوحوں کی ایک بہت بڑی فصل تیار ہو گئی۔سارے برطانیہ میں ایک ملین سے زائد لوگ مسیح کے پاس آ گئے۔لندن کے ایک عظیم پاسبان چارلس ہیڈن سپرجن نے کہا کہ وہ سال سارے ملک میں بشارتی سرگرمیوں کے اعتبار سے ایک عظیم سال تھا۔خدا نے ان دو اشخاص کی دُعاﺅں کی وجہ سے سارے ملک کو ہلا ڈالا۔یہی سبب ہے کہ جب میں اس چھوٹے سے شہر میں جاتا ہوں تو ایک عجیب سا تجربہ ہوتا ہے۔عہدِحاضر بہت ہی جدید دور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس جدید ترقیاتی دور میں بھی مجھے یہ بات یاد دِلائی جا رہی ہے کہ ہمارے ملک کیلئے اگر اُمیّد کی کوئی کِرن ہے تو ہر روز دُعا کرنے والے خواتین و حضرات پر ہے۔یہ ضروری نہیں کہ بڑے شہر اور اہم لوگ ہی ہمارے ملک کی تقدیر بدلیں گے۔یہ شاید اُن گُمنام لوگوں کے سبب سے ہو گا جن کا یہ ایمان ہے کہ ہمارا خدا سب سے بڑا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ذکریاہ نے کیوں خدا سے سوال پوچھا کہ«چھوٹی چیزوں کے دِن کوکون حقیر جانتا ہے؟۔اسی سوال کے بعد اُس نے لکھا کہ «یہ نہ زور سے نہ توانائی سے بلکہ میرے رُوح سے خدا فرماتا ہے»۔ہاں یہ اکثر چھوٹی جگہیں اور غیر معروف لوگ ہیں جنہیں خدا استعما ل کرتا ہے کہ اُن کے ذریعے سے بڑے بڑے داناﺅں کو شرمندہ کرے۔